پبلک سرونٹ یا پبلک ماسٹرز؟
1947 میں پاکستان کی قیام تک سرمایہ دار صنعتی یورپی ممالک منڈیوں کی چھینا جھپٹی کے لئے دو عالمی جنگیں لڑ چکے تھے جس کی وجہ سے بہت بربادی ہو چکی تھی۔ اب امریکہ کی سربراہی میں سرمایہ داری کا عالمی روپ وجود میں آ چکا تھا۔ سرمایہ دار ممالک کے درمیان یہ طے پا گیا تھا کہ تیسری عالمی جنگ کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ سابقہ کالونیوں کو آزاد کر دیا جائے اور منڈیوں کی تقسیم یا بندر بانٹ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کی جائے۔
سابقہ کالونیوں میں ایک ملک کا اجارہ ختم کر کے دوسرے صنعتی ممالک کو بھی ان میں اپنی مصنوعات بیچنے کی آزادی ہو۔ اس طرح کسی سرمایہ دار ملک کی مقبوضہ منڈی میں ایک قابض سامراجی ملک کا اجارہ ختم کر کے دوسرے صنعتی ممالک کو اپنا مال بیچنے کی آزادی حاصل ہونے کو اس ملک کی قومی آزادی سے تعبیر کیا گیا۔ یہ آزادی پاکستان کو بھی حاصل ہوئی۔ جس کو ہم نے قومی آزادی سے موسوم کیا۔ اس عمل کو پولیٹیکل اکانومی کی اصطلاح میں جدید نو آبادیاتی نظام کہتے ہیں۔
نظریاتی نعروں کے سراب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہمیں سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی سطح پر جو نقصان پہنچا ہے اس سے ہم قریب قریب پتھر کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ اصل کنفیوژن نام نہاد پڑھے لکھے درمیانے طبقے کی سوچ کا ہے جس میں اکثریت پروفیشنلز کی ہے۔ گزشتہ ساٹھ سال میں اسٹیبلشمنٹ اور اور عالمی سامراج نے اس پر بہت کام کیا ہے۔ تمام سرکاری و غیر سرکاری وسائل اور بین الاقوامی وسائل بروئے کار لائے گئے۔ درسی کتابوں، اخبارات و رسائل، تقریروں، تحریروں، تعلیمی اداروں، ابلاغ کے اداروں اور سول و فوجی افسروں کے تربیتی اداروں میں تاریخ کو مسخ کر کے جو نظریاتی تربیت کی گئی اس نے نام نہاد پڑھے لکھے درمیانے طبقے کو ”ذہنی طالبان“ بنا دیا ہے۔
بہت سے غلط اور جذباتی نظریات یا تصورات کو ان مراعات یافتہ طبقات نے اختیار کیا جو محکوم طبقوں اور قومیتوں پر اپنی سیاسی و معاشی بالا دستی کو قائم کرنے کے لئے اسلام کی آڑ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ سرمایہ داروں کی فری میسنز تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ آج بھی بہت طاقتور ہے۔ یہ سب ایلومیناٹی کے دنیا پر غلبہ پائے بغیر اس پر کنٹرول کرنے کے بین الاقوامی مقاصد کو پورا کرنے کی چالیں ہیں جس میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی اسٹیبلشمنٹ یا افسر شاہی ہمیشہ بطور آلہ کار استعمال ہوتی ہے جن کو دوران تربیت احساس برتری میں مبتلا کر کے پہلے ہی عوام اور ان کے درمیان ایک واضح خلیج کی نشاندہی کر دی جاتی ہے۔
سو وہ محض نام کے سول سرونٹ یا پبلک سرونٹ رہ جاتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ پبلک ماسٹر ہیں۔ ایسے ممالک جن کی آبادی بہت زیادہ ہو اور جو صارف مارکیٹ کے زمرے میں آتے ہوں وہاں ایلومیناٹی کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سارا مرحلہ غیر محسوس طریقے سے کچھ اس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے کہ استعمال ہونے والے کو خبر نہیں ہو پاتی کہ وہ کس مقصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے کیونکہ انھیں غیر معمولی آسائشوں، اختیارات اور پروٹوکول کی لت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے جبکہ تنخواہ اتنی کم رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے سوشل اسٹیٹس کو قائم رکھنے کے لئے خود بخود کرپشن کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔
قائد اعظم اس بات کو بھانپ گئے تھے اسی لئے 28 مارچ 1948 کو انھوں نے چٹاگانگ میں سرکاری افسروں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے انھیں نصیحت کرتے ہوئے کہا: ”لوگوں کو یہ احساس دلاؤ کہ آپ ان کے خادم اور دوست ہیں۔ اپنی عزت نفس، ملکی مفادات سے وابستگی، انصاف اور شفافیت کو قائم رکھیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو لوگ آپ پر اعتماد کریں گے اور آپ کو اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھیں گے“ ۔ بیورو کریسی کے ہاتھوں تعلیمی نظام کی تباہی سرمایہ دارانہ نظام کو کنٹرول کرنے والی ایلومیناٹی کا پہلا ہدف ٹھہرتا ہے کیونکہ کسی ملک کا تعلیمی نظام اس ملک کے سیاسی نظام کا لازمی جزو ہوتا ہے۔
سماجیات کے عالمی شہرت یافتہ پروفیسر حمزہ علوی نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کی سرمایہ دار دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کے نزدیک ( 1 ) صنعتی مراکز (Industrial Centres) اور دوسرے ( 2 ) منڈیاں یا مضافاتی، صارف یا کنزیومر ریاستیں (Peripheral States) ہیں۔ پاکستان کو وہ مضافاتی ریاست کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہیں۔ مضافاتی ریاستوں کی معاشی، انتظامی اور سیاسی ساخت چونکہ سامراجی مفادات کی مطابقت میں تعمیر کی گئی تھی اس لئے ان ملکوں کی معیشت کو سامراجی قرضوں پر منحصر کر کے سرد جنگ کے لئے امریکی دفاعی معاہدوں کا شریک بنانا آسان تھا۔
لہٰذا ان ملکوں کو سرد جنگ کے اگلے مورچے کے طور پر استعمال کیا جانا طے پایا۔ یہ سب کچھ تو خیر فوج، بیوروکریسی اور سیاسی پارٹیوں کے جاگیر داری ڈھانچے نے کرنا تھا۔ مضافاتی ریاستوں میں عالمی سرمایہ داری کو سب سے بڑا خطرہ ان ملکوں کا صنعتی ترقی پر گامزن ہو جانا تھا۔ کیونکہ مضافاتی ریاستیں اگر خود صنعتی مراکز بننے کی کوشش میں مصروف ہو جاتیں تو سرمایہ دار ممالک کی منڈیاں سکڑ جاتیں۔ چنانچہ پاکستان جیسے ممالک میں ایسے افراد کا چناؤ کیا جاتا ہے جو ایلومیناٹی کے عالمی مقاصد کے لئے ان کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہوں۔
اسی لیے سیاست، بیوروکریسی اور زندگی کے دیگر شعبوں کے ذہین ترین افراد میں سے اخلاق باختہ، لالچی، دولت اور اختیارات کی ہوس میں مبتلا ایول جینئیس اور جاہ طلب افراد کا بطور خاص انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ احباب اسے سازشی تھیوری سے تعبیر کریں لیکن اس کے لئے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آیا پاکستان اپنی آزادی کے 76 سالوں کے بعد ان ”ذہین اور قابل ترین سی ایس پی“ اعلی حکومتی عہدیداروں کی بدولت کتنا آگے بڑھ سکا ہے؟
صورتحال یہ ہے کہ پاکستان ان لوگوں کی ناقص، لالچ اور بد نیتی پر مبنی پالیسیوں کی بدولت 130 ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے اور ملک چلانے کے لئے ہر چند سال کے بعد عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ملکوں سے ایک دو ارب ڈالر کی امداد اور بھیک مانگنے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ جبکہ ملک میں نہ ہی مناسب انفراسٹرکچر ہے اور نہ ہی عوام کو صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات میسر ہو سکی ہیں۔ Confessions of an Economic Hitman کا مصنف جان پر کنز اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اس کا بنیادی کام ایسے تمام ممالک جہاں زرعی اور معدنی وسائل موجود ہیں وہاں کی حکومتوں اور راہنماؤں کو بڑے بڑے قرضوں کے لئے قائل کرنا تھا۔
وہ کہتا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں پہلے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے حکومتوں کو بڑے بڑے قرضے لینے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ قرضے ایسے منصوبوں کے لئے ہوتے ہیں جو ان کی بنیادی ضرورتوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ مثلاً بڑے بڑے پل، موٹر وے، عمارتیں، انفراسٹرکچر وغیرہ۔ یہ تمام منصوبے چند امیروں کے فائدے کے لئے ہوتے ہیں۔ اسی لیے تعلیم، صحت اور پانی وغیرہ کے لئے قرض نہیں دیا جاتا۔ کیونکہ اگر لوگ، علم، ٹیکنالوجی اور سائنس وغیرہ میں ماہر ہو گئے تووہ یہ سب خود بنا لیں گے یا وسائل پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
یوں ایک بڑے پل یا موٹر وے کے ارد گرد بھوک سے مرتے لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور پہلو میں اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقات کی مہنگی ترین گاڑیاں گزر رہی ہوتی ہیں۔ جب وہ ایسے منصوبوں کے لئے قرض لے لیتے ہیں تو پھر آدھے سے زیادہ بجٹ قرض کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ پھر نہ تعلیم کے لئے پیسہ بچتا ہے اور نہ صحت کے لئے۔ یہ سارا کام ایک معاشی ضرب کار یعنی Economic Hitman مقامی کرپٹ افسر شاہی اور سیاسی راہنماؤں کے ذریعے کرواتا ہے۔
وہ سیاسی راہنماؤں اور افسر شاہی کو بد دیانت بنا تا ہے، انھیں بڑی بڑی کمپنیوں میں شریک کرواتا ہے اور پھر ملک کو قرضوں کے بوجھ میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ چارلس ایچ کینڈی کی لکھی ہوئی کتاب ’پاکستان کی افسر شاہی‘ (Bureaucracy in Pakistan ) پاکستان کے افسر شاہی نظام کی پیچیدگیوں کا نوحہ ہے جو پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں موجود عدم توازن کو واضح کرتی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح افسر شاہی اشرافیہ جس کا کام قوانین کے نفاذ سے متعلق تھا وہ ریاست میں خود کیسے ایک پاور بن گئی۔
کینیڈی نے پاکستانی افسر شاہی کے مختلف پہلوؤں پر ایک متوازن اور تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس افسر شاہی نظام کو 19 ویں صدی کی روایات سے ہم آہنگ دکھایا ہے جو انتظامی اصلاحات اور ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سعید شفقت اپنی تحقیقی کتاب پاکستانی بیوروکریسی، انتظامی فقدان اور اصلاحات کی گنجائش (Pakistani Bureaucracy:Crisis of Governance And Prospects of Reforms) میں یوں رقمطراز ہیں۔ ”تیسری دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کی طرح یہاں بھی بیوروکریسی شکست و ریخت کا شکار نظر آتی ہے۔“
اس تناظر میں موجودہ افسر شاہی نظام میں اصلاحات کے دو طریقے ہو سکتے ہیں کہ یا تو اس کی بالکل نئے سرے سے ساخت یا تعمیر نو کی جائے یا موجودہ ڈھانچے میں بتدریج لیکن جامع اصلاحات (Piece meal but holistic reforms) لائی جائیں۔ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ، ہمارے حکمران طبقات اور خود افسرشاہی ایسا نہیں چاہے گی کیونکہ وہ اس نظام کا فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ موجودہ بلدیاتی اور سیاسی نظام کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ چالاک بیوروکریسی کس طرح ہمیشہ سے ذمہ داریوں کا تمام بوجھ عوامی نمائندوں پر ڈالنے کا منصوبہ بناتی رہی ہے۔
کیونکہ تمام انتظامی اور مالی اختیارات درحقیقت انھی کے پاس رہیں گے جبکہ بدنامی ان بے اختیار عوامی نمائندوں کے حصے میں آئے گی۔ اس کے لئے ہمارے معاشرے کے سنجیدہ حلقوں، تاریخ اور معاشرت کا درست ادراک رکھنے والے دانشوروں کو نئی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا اور رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے عوامی شعور کو بیدار کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں پریشر بڑھا نے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی مفادات پہ سمجھوتہ نہ کرنے والی دقیانوسی سیاسی اور افسر شاہی قیادت کی بجائے پولیٹیکل اکانومی اور پوسٹ ماڈرنزم جیسے بیانئے کو سمجھنے والی ترقی پسند سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کو سامنے لایا جا سکے اور دولت و طاقت کے بل بوتے پر اجارہ داری کا خاتمہ ہو سکے۔ تبھی ایسی اصلاحات ممکن ہو سکیں گی کہ بیوروکریسی صحیح معنوں میں مقامی حالات اور اکیسویں صدی کے تقاضوں اور بانی پاکستان کی خواہش کے مطابق عوام دوست رویہ اپنا سکے۔ تبھی وہ پبلک سرونٹ کا اپنا درست اور آئینی کردار ادا کرے گی اور اس کا پبلک ماسٹرز کا کردار یا امیج ختم ہو گا۔


