کچھ احمقانہ باتیں
ہر آدمی کے اندر ایک ایسی خاصیت ہوتی ہے کہ اگر تجزیہ کیا جائے تو اس میں ضرور ایک نہ ایک ایسی خوبی یا خامی نظر آئی گی کہ جس کے ذریعے اس کو ڈسا یا ورغلایا جا سکتا ہے تو اب چونکہ معاشرہ یا قوم افراد سے مل کر بنتا ہے تو اس لحاظ سے پشتون قوم الحمدللہ کافی حد تک اسلام پسند ہے لیکن جب بھی حقوق، سہولیات اور امن دینے کی نوبت آتی ہے تو پشتون کو مذہب کے نام سے ہی ڈسا جاتا ہے اس کی حق تلفی مذہب کے ذریعے ہی کی جاتی ہے، گویا پشتون کو اکثر مذہب کے راستے سے ڈسا گیا۔
اس کی دلائل کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کافی مقامات پر مجھے اس کا مشاہدہ بھی ہوا، چند ایک آپ کے ساتھ بھی شیئر کر رہا ہوں۔
بحث و مکالمہ باہمی گفتگو اور اپنے خیالات اور نظریات کو ایک دوسرے کے ساتھ بٹورنے کا دوسرا نام ہے، عام طور پر مجھے یہ چیز ایک حد تک پسند بھی ہے اور ناپسند بھی، اور ہمیشہ میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتا ہوں کیونکہ آج کل اور خاص کر اس خطے میں بحث کے دوران مباحث کے ذہن میں جو بھی بات ہے اس کو زبردستی مخالف کے دماغ میں گھسانا، یا مسلط کرنا ہوتا ہے کوئی بھی سیکھنے یا سمجھنے کی غرض سے بحث نہیں کرتا، لیکن دو جگہیں ایسی بھی دیکھنے کو ملیں کہ مجھے مخالف شخص مانند طفل نظر آیا۔
پہلا مشاہدہ کچھ یوں تھا کہ ایک دفعہ ہم کلاس کے ساتھی اساتذہ کرام سمیت شاہین شنواری ریسٹورنٹ میں کھانے کی میز پر طعام کے ساتھ ساتھ محو گفتگو تھے، اور لذیذ کھانوں سے محظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی حالات کے پیش نظر اساتذہ سے سوالات و جوابات کا تبادلہ بھی ہو رہا تھا، کہ اسی اثناء ایک لڑکے نے یہ سوال کیا کہ سر یا استاد جی! وزیرستان، خیبر پشتون خواہ اور بلوچستان میں کبھی بھی امن ہم نے نہیں دیکھا اس کی بنیادی وجہ کیا ہے اور تو اور وزیرستان کے سٹوڈنٹس یونیورسٹیز اور انٹرنیٹ کے حصول کے لیے سڑکوں پر دن رات بیت رہے ہیں حالانکہ یہ تو کوئی ایسے مطالبات بھی نہیں ہے کہ اس کو تسلیم نہ کیا جائے؟ بلکہ ایک قسم کے بنیادی حقوق ہیں۔
جواب: دیکھو میرے بیٹے! یہ لوگ ناداں ہیں اصل سکون اور امن تو ادھر ہی ہے وہاں کالجز، یونیورسٹیز اور پارک نا ہونے کی وجہ سے بے حیائی اور عریانی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ہے انٹرنیٹ نے ماحول اور فضاء کو کتنا خراب کیا ہے، دراصل یہ لوگ امن کی بجائے بدامنی مانگ رہے ہیں۔
اور دوسرا مشاہدہ تب دیکھنے کو ملا جب میں کلاس کے دو تین ساتھیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ایک سینئر سٹوڈنٹ کے ساتھ ثقافت اور رہن سہن کے طور و طریقوں کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے کہ اس میں بات تعلیم اور تدریس تک آ پہنچی، آخر کار بلوچ اور پشتون طلباء کا تذکرہ بھی ہو گیا اور تذکرے میں میرے خیالات اور مشاہدات کے مطابق بالکل تضاد بات ہو رہی تھے، میں چونکہ اس گفتگو میں اب تک تو سائل اور سامع ہی تھا اب یہاں پر میں نے مناسب سمجھا کہ اس کو حقائق سے آگاہ کروں، میں نے یہ بات کی کہ بلوچستان میں تعلیم نا ہونے کی برابر ہے پورے صوبے میں بمشکل چھے سات یونیورسٹیاں ہیں اور تو اور پورے صوبے کی نمائندگی کرنے والی بلوچستان یونیورسٹی تو چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اپنے گھر اور اپنے شہر میں ہی والدین کے زیر شفقت تعلیم حاصل کرتے آخر کیوں ہم پنجاب اور پایہ تخت (اسلام آباد) میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں؟
تعلیمی نظام کی کیفیت یہ ہے کہ بہت سارے خواہشمند حضرات اپنے خواب ادھورے ہی چھوڑ جاتے کیونکہ ہر ایک کے بس میں نہیں ہے کہ پنجاب یا اسلام آباد کا رخ کر لے۔
اب اس کا جواب سن لیں: آپ کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہاں یہ سہولیات نہیں ہیں۔ پنجاب اور کیپٹل میں ان سہولیات، یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کی وجہ سے کتنی بے حیائی پھیلی ہے دراصل پنجاب میں کسی زمانے میں بہت سارے مدارس ہوا کرتے تھے ان مدارس کو ختم کرنے کے لیے یہاں پر یونیورسٹیوں کا ایک جال بچھایا گیا تاکہ دین سے دوری ممکن بنا سکے، تمہارے ہاں ماشاءاللہ کتنا امن ہے خواتین کتنی محفوظ ہیں، ماشاءاللہ کتنے مدارس ہیں فلاں فلاں۔”
اس کی بات جاری تھی کہ میں نے کہاں جب بقول آپ کے کہ وہاں اسلام کی پیروکار بھی ہیں مساجد اور مدارس بھی ہیں تو آخر کیوں ہمارے یہی مدارس اور مساجد اور دین کے پیروکار تک محفوظ نہیں ہیں؟
جواب: کیوں محفوظ نہیں ہے، کس نے کہا؟ ماشاءاللہ آپ لوگوں کا کاروبار اور تعلقات ملک گیر ہیں باقی لوگوں کی بہ نسبت آپ لوگ پرامن اور آزاد ہیں ہر جگہ اپ لوگ ہی نظر آئیں گے۔ اس کی بات چل رہی تھی میں نے کہا بس بس ابھی سمجھ گیا اور آخر تک اس کو سنتا رہا اور ہاں ہاں کرتا گیا۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں باقی لوگ کتنا احمق اور عقل سے پیدل سمجھتے ہیں کبھی ہم نے یہ خیال بھی کیا ہے کہ نہیں؟

