جھوٹ کی سلطنت:کچھ باغباں بھی ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
امریکا کا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ہر سال ان ممالک کی فہرست جاری کرتا ہے جس میں مذہبی آزادی پر بہتری نہ ہونے پر پابندیوں کے امکان کے ساتھ مخصوص تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم ایکٹ 1998 کے تحت ہر سال امریکی صدر پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر ملک میں مذہبی آزادی کا جائزہ لیں اور فہرستیں بنائیں۔ صدر بائیڈن نے یہ اختیار اپنے وزیر خارجہ کو دے رکھا ہے۔ انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم ایکٹ کے تحت امریکی انتظامیہ پر لازم ہے کہ کوئی ملک اگر سی پی سی میں آ جائے تو وہ اس ملک کے ساتھ مذہبی آزادی کے معاملے کو اٹھائیں۔ اس کے لیے وہ مذاکرات، پابندیاں یا باہمی طور پر معاہدہ کریں کہ کوئی خاص ملک اس حوالے سے بہتری کی کوشش کرے گا۔
خاص تشویش والا ملک ’ایک ایسا درجہ ہے جو امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ (آئی آر ایف اے ) 1998 کے تحت امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے اس ملک کو دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔ بھارت کے خلاف تشدد یا ظلم، غیر انسانی سلوک، تذلیل اور سزا کے الزامات ہیں جس میں بغیر کسی الزام کے طویل حراست میں رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔ جن ممالک کو یہ درجہ دیا جاتا ہے اس کے خلاف مزید ایکشن لیے جاتے ہیں جس میں امریکا کی جانب سے معاشی پابندیاں شامل ہیں۔
اس بار امریکا نے کھلی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست سے بھارت کا نام غائب کر دیا جب کہ پاکستان کا نام فہرست میں شامل کیا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کا دہرا معیار کھل کر سامنے آنے لگا ہے، بھارت ریاست منی پور اور آسام سمیت مختلف ریاستوں میں مسلمانوں، عیسائیوں سمیت اقلیتی برادری کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے گھروں اور املاک پر حملے کیے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی امتیازی پالیسیاں اور قوانین بھی بنائے ہیں لیکن امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ مذہبی آزادی رپورٹ میں بھارت کا نام شامل نہیں کیا گیا۔
آئیے 2019 سے اب تک امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے جو رپورٹس مرتب کیں ان پر اختصار سے نظر ڈال لیں۔
•بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ اور ان کے املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
• ’امتیازی قوانین کے مسلسل نفاذ سے وسیع پیمانے پر چلائی جانے والے دھمکیوں کی مہم اور ہجوم کے حملے اور متعصب گروپس کو استثنا کا رواج بن گیا ہے۔
•مذہبی آزادی کی ممکنہ طور پر سب سے گری ہوئی اور سب سے خطرناک حد تک بگڑی ہوئی صورتحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہلوانے والے ملک بھارت میں ہے۔
• غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے لیے چھوٹ دیکھ رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ سال 2019 میں بھارت (کی ساکھ) میں تیزی سے تنزلی دیکھی گئی۔
•سب سے زیادہ ’چونکا دینے والا اور پریشان کن‘ اقدام شہریت ترمیمی قانون کی منظوری تھی جس نے مسلمانوں کے سوا دیگر 6 مذاہب کے ماننے والوں کے لیے شہریت کا عمل تیز کر دیا۔ قومی رجسٹریشن پروگرام مکمل ہو نے پر ممکنہ طور پر لاکھوں مسلمانوں کی حراست، ملک بدری اور بے وطنی کا خطرہ ہے۔
•بھارتی شہریت ترمیمی بل، گائے ذبح اور مذہب تبدیل کرنے پر پابندی کے قوانین، سپریم کورٹ کا بابری مسجد کا فیصلہ اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات سے عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی۔
•بھارتی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سرگرم کارکنوں، صحافیوں اور وکلا کو خاموش کرانے کی حالیہ کوششیں مذہبی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
•امریکی محکمہ خارجہ مذہب یا عقیدے کی آزادی کے خلاف منظم، مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے بھارت کو ایک خاص تشویش والا ملک قرار دے۔
•کینیڈا میں سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکومت کے مبینہ کردار اور امریکہ میں ایک سکھ کارکن گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش شدید پریشان کن ہے ’۔
گزشتہ سال مئی میں امریکی حکومت کے پینل نے بھی مذہبی آزادی کے حوالے سے بھارت کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکمرانی میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی میں مزید بدتر ہو گئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے 2 جون 2022 کو کہا کہ مذہبی آزادی ایک بنیادی امریکی قدر اور ایک عالمگیر انسانی حق اور خارجہ پالیسی کی ایک اہم ترجیح بھی ہے۔
بلنکن نے کہا، ”جب ہر فرد کے اپنے عقیدے پر عمل کرنے یا کسی عقیدے پر عمل نہ کرنے کا انتخاب کرنے کے بنیادی حق کا احترام کیا جاتا ہے تو لوگ اپنی کمیونٹیوں کی کامیابیوں میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکتے ہیں [اور] تمام کے تمام معاشرے بہتر ہو جاتے ہیں۔“ جب حکومتیں اس حق سے انکار کرتی ہیں، ”اس سے تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے، اس سے تقسیم کا بیج بویا جا تا ہے، [اور] عام طور پر اس کے نتیجے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور تنازعات کھڑے ہو جاتے ہیں۔
“ بلنکن نے اپنے ان تاثرات کا اظہار محکمہ خارجہ کی 2021 کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کیا تھا۔ بلنکن کے بقول مذہبی حوالے سے امریکی رپورٹس امریکی خارجہ پالیسی کے اہم فیصلوں کے بارے میں آگاہی دیتی ہیں۔ مذہبی آزادی وہ پہلی آزادی ہے جو ہمارے آئین کے حقوق کے منشور میں درج ہے۔ ”امریکی انتظامیہ یہ فہرستیں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سفارشات کی بنیاد پر ترتیب دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی آزادی کا جائزہ لینے والے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے انڈیا کا نام اس فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی۔
لیکن بائیڈن انتظامیہ انڈیا کو ایک اہم پارٹنر (اتحادی) کے طور پر دیکھتی ہے اور چین کے معاملے میں امریکہ کے لیے اس خطے میں انڈیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے کہا تھا کہ انسانی حقوق اس کی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھیں گے، لیکن یہ انتظامیہ کی جانب سے اس ترجیح کو ترک کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ گویا:
”کچھ باغباں بھی ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے“
انڈین امریکن مسلم کونسل نے انڈیا کو سی پی سی کی فہرست میں شامل نہ کرنے پر امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انڈین امریکن مسلم کونسل نے ٹویٹ کیا ’آئی اے ایم سی بلنکن کے انڈیا کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کی سی پی سی کی فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتی ہے جبکہ امریکی کمیشن اس فہرست میں انڈیا کو شامل کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ ‘ انڈین امریکن مسلم کونسل نے لکھا ’یہ افسوسناک ہے کہ بائیڈن انتظامیہ انڈیا میں مذہبی آزادی پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بارے میں خاموش ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نریندر مودی حکومت کو انڈیا میں مذہبی اقلیتوں پر حملہ کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ‘ انڈیا میں شہریت ترمیمی قانون ان نکات میں سب سے اہم تھا جن پر کمیشن نے انڈیا کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’دہلی کے فسادات کے دوران ہندو ہجوم کو کلین چٹ دی گئی تھی اور مسلم لوگوں پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔
امریکی وزارت خارجہ خود اپنی ہی حکومت کے قائم شدہ ادارے کی سفارش قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے کیوں کہ امریکہ، چین کے خلاف حصار بندی اور عالمی گروہ بندی میں بھارت کی مدد و تعاون کا خواہاں رہتا ہے۔ ایسی ایک رپورٹ پر حقائق کو مسخ کرنے پر چینی ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ ”جھوٹ کی سلطنت“ ہے۔ اس سے خوبصورت تبصرے شاید ممکن نہ ہو۔


