پاک امریکہ تعلقات اور طالبان کا مستقبل (1)


ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن افغان طالبان کی دعوت پہ 5 جنوری کو کابل کا دورہ کریں گے، وزارت خارجہ میں 3 جنوری کو ٹی ٹی پی کی پرتشدد کارروائیوں اور پاک افغان سرحدی تنازعات کے علاوہ افغان مہاجرین کی واپسی بارے مولانا کو مفصل بریفنگ دی گئی۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی غیر متزلزل حمایت کے باوجود طالبان گورنمنٹ نے ہمیشہ انہیں نظرانداز کیا لیکن اب پاکستان میں ٹی ٹی پی کی پرتشدد کارروائیوں میں افغان گورنمنٹ کی خفیہ اور کھلی اعایت ہماری 45 سالوں پہ محیط افغان پالیسی میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا محرک بننے کے علاوہ پاکستانی حلقوں میں افغان طالبان کو حاصل عوامی اور ریاستی حمایت کے دائرے بتدریج تنگ ہونے سے عبوری طالبان حکومت کا مستقبل مخدوش ہونے لگا تو اسی خلیج کو پر کرنے کی خاطر افغان طالبان مولانا فضل الرحمن کی وساطت سے پاکستانی مقتدرہ سے ”اعتماد“ کے رشتے دوبارہ بحال کرنے کی سعی میں مشغول نظر آتے ہیں۔

تاہم مولانا فضل الرحمن کے لئے افغان عوام پہ جبری تسلط اور پڑوسی ممالک میں طالبان حکومت کی جارحانہ مداخلت کے مضمرات سے نمٹنا آسان نہیں ہو گا۔ گزشتہ ماہ نومبر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے طالبان حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان قیادت کی طرف سے ٹی ٹی پی کی پرتشدد کاروائیوں کی حمایت پاکستان میں تشدد کے واقعات کو بڑھاوا دے رہی ہے، اگست 2021 سے طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں 2,867 پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔

تاہم پچھلے دو سالوں کے دوران افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور ہر قسم کی مادی امداد کی فراہمی کے ثبوت ملنے کے باوجود پاکستان نے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ کی خصوصیات کو نمایاں کرنے میں احتیاط برتی لیکن آخرکار نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سفارتی نزاکتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بتا دیا کہ ”افغان طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو فعال رکھنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

وزیراعظم کے بیان کے چند دن بعد ، افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی ایلچی، آصف درانی نے بھی طالبان بارے وزیراعظم کے تنقید الفاظ کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ“ افغانستان میں امن درحقیقت پاکستان کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا ”۔ ان کا یہ بیان 1.7 ملین غیر دستاویزی افغان مہاجرین کو بے دخل کرنے کے پاکستانی فیصلے کی تسلسل میں دیا گیا تھا، افغان مہاجرین کی بے دخلی کے فیصلے کے بعد سے 327,000 سے زیادہ مہاجرین افغانستان واپس دھکیل دیے گئے۔

قبل ازیں ٹی ٹی پی کی طرف سے اہم حملے کیے گئے، جس میں شمالی صوبہ کے سرحدی اضلاع کی زمین پر قبضے جیسی جسارت بھی شامل تھی۔ اس لحاظ سے نگران وزیراعظم کا بیان اور اس کا وقت نہایت اہم ہیں۔ ایسا بیان نہ صرف ملک کے عبوری رہنما کے طور پر ان کے خیالات کو واضح کرتا ہے بلکہ فوجی قیادت میں تازہ ترین پالیسی موڑ کی طرف بھی یہ اشارہ تھا کہ پاکستان کو طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے لیے کافی حمایت نظر آ رہی ہے اور وہ تب تک طالبان پر دباؤ جاری رکھیں گے، جب تک وہ ٹی ٹی پی کی حمایت پر نظرثانی نہیں کرتے، انہیں پالیسی امور میں کوئی سہولت نہیں دی جائے گا۔

علی ہذالقیاس کوشش بسیار کے باوجود پاکستان طالبان کو افغان عوام کی بنیادی حقوق اور سماجی آزادیوں کی بحالی پہ قائل نہیں کر سکا، کابل کی فضا مغموم و افسردہ ہے اور شہریوں کے دل و دماغ پہ مایوسی کی تاریکی سایہ فگن ہے، لاریب، جب تک افغان طالبان کو عوامی مینڈیٹ نہیں ملتا عالمی برادری ان کی حکومت کو قبول نہیں کرے گی، چنانچہ ان حالات میں مولانا فضل الرحمن کی قبائلی ڈپلومیسی سے قطع نظر پاکستان اپنے قومی مفادات اور علاقائی و عالمی سفارتی رشتوں کو بچانے کی خاطر افغان طالبان کی کج ادائیوں کا مزید بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہو گا کیونکہ تشدد ہرگز وہ تبدیلی نہیں لا سکتا جو طالبان پاکستان کے طرز عمل میں دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات، کیونکہ مولانا فضل الرحمن سمیت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی حمایت کرنے والا کوئی پاکستانی سیاسی حلقہ موجود نہیں، بلکہ اس سے زیادہ حملوں کا امکان بجائے خود پاکستان کو افغانستان پر دباؤ بڑھانے کی ترغیب دے سکتا ہے بلاشبہ افغانستان اور پاکستان پر امریکی پالیسیوں کے مضمرات دونوں ممالک کو مشکل ترین موڑ پہ لے آئے ہیں، یہ بجا کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان کشیدگی امریکی پالیسی سازوں کے ذہن میں امید کے کچھ دیے ضرور روشن کرے گی لیکن ساتھ ہی دیرینہ پالیسی ماڈلز اور مفروضوں کے لئے چیلنج بھی ضرور بنے گی کہ امریکہ کو افغانستان اور پاکستان، دونوں کے ساتھ کیسے نمٹنا چاہیے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل قریب میں، طالبان کے خلاف پاکستانی دباؤ کی مہمات اور ٹی ٹی پی کی حمایت پر طالبان کا سختی سے کاربند رہنا امریکی شکست کے مضمرات کو کم کرنے کا وسیلہ بن سکتا ہے؟ ایک طرف، افغان طالبان بارے پاکستان کی تبدیل ہوتی پالیسی امریکی پوزیشن کو بہتر بناتی ہے کہ وہ طالبان گورنمنٹ بارے تشویش کے عوامل، جیسے انسانی حقوق، سیاسی شمولیت سے گریز اور انسداد دہشت گردی کے وعدہ سے افغان طالبان کا انحراف واشنگٹن کے مفروضوں کی تصدیق کرے گا تو دوسری جانب پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ زیادہ دباؤ طالبان کے طرز عمل میں گہری تبدیلی کا باعث بنا تو دباؤ کو بڑھانے کی پاکستانی پالیسی امریکہ حمایت کو اپنی طرف مائل کرے گی اگرچہ امریکی پالیسی سازوں کو افغانستان پر پاکستان کے ساتھ طویل المدتی مفادات پر شک ہے تاہم عام خیال یہی ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے خلاف امریکی ڈرون حملوں کے لئے دوبارہ پاکستانی ائر بیسز کا حصول افغانستان میں دہشتگردی کے انسداد کے علاوہ وہاں وسیع البنیاد اور عوام کی نمائندہ حکومت کے قیام کی راہ ہموار بنا سکتا ہے۔

پاکستانی دباؤ کے باوجود ٹی ٹی پی کے لیے طالبان کی مضبوط حمایت سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی کا خطرہ بڑھتا رہے گا، دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ مساعی خطہ میں امریکی انسداد دہشت گردی کے موقف کو مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کچھ پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ طالبان پر معاشی دباؤ ڈالنے کا پاکستان کا فیصلہ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بین الاقوامی انسانی امداد کم ہو رہی ہے، افغان معیشت کے پہلے سے ہی غیر یقینی توازن کو بگاڑ کر انسانی صورت حال کو مزید تشویشناک بنا دے گی۔

پیش پاءافتادہ مضمرات سے ہٹ کر، بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں امریکی پالیسی بارے بھی طویل المدتی سوالات کو جنم دیتی ہے، ہرچند کہ پاکستان کو طالبان کے خلاف دباؤ برقرار رکھنا چاہیے لیکن امریکی پالیسی سازوں کو طالبان کی کمزور حکومت کے مضمرات پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی، جس میں افغانستان کے اندر نئے سرے سے تنازعات کے بڑھنے کے خطرات شامل ہیں، کیا ایسے خطرات کو کم کرنا کسی مرحلے پر پاکستانی دباؤ کو محدود کرنے کا سبب بن سکتا ہے؟

بظاہر یہ سوالات ابھی کچھ دور نظر آتے ہیں لیکن گزشتہ دو سالوں میں طالبان اور پاکستان کے تعلقات کی رفتار اور افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بعد میں آنے کی بجائے جلد سامنے آ سکتے ہیں۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، امریکہ نے خود کو پریشان کن مخمصے میں پایا، خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر ناروا پابندیوں، دہشت گردوں کو پناہ دینے اور جامع حکومت بنانے میں ناکامی کی تلافی کے لئے واشنگٹن پاکستان کے عدم تعاون کا شاکی رہا اور اب افغانستان میں طالبان حکومت کی ناکامی کے نتیجہ میں خانہ جنگی سے بچنے کے لئے وہاں کچھ معاشی اور سیاسی استحکام کا متمنی بھی ہے۔ چنانچہ امریکی پالیسی سازوں نے اصول اور عملیت پسندی میں توازن پیدا کرنے اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے سفارتی تعلقات اور روایتی ترقیاتی امداد روکنے کے علاوہ افغان مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کر کے طالبان رہنماؤں پر پابندیاں برقرار رکھیں ہیں۔ جاری

Facebook Comments HS