سانس چلنے تک ساتھ چلنا ہے

دل ٹوٹ گیا ہے۔ آنکھیں سوکھ گئی ہیں۔ یوسف و یعقوب کے رب کی قسم، بھائی کنویں میں گرا آنے والے، بھیڑیے کو کھلا آنے والے، کربلا سے پہلے کربلا مچانے والے، سب دندناتے پھر رہے ہیں۔ پر یہ یوسف و حسین کے وارث صبر جمیل کی صدائیں بلند کرتے نہیں تھکتے۔ ان کی مائیں بہنیں ہیں کہ آج بھی پکارتی ہیں کہ خدا نے کوئی لمحہ راحت سے دور نہیں رکھا۔
کس مٹی کے بنے ہیں یہ لوگ؟ کون سا قرآن ہے جو ان کو پہنچا ہے؟ مسلمان تو ہم بھی ہیں۔ ظلم و بربریت کی داستانیں تو ہم نے بھی دیکھی ہیں۔ چٹان تو خود کو ہم بھی کہتے آئے ہیں۔ مگر یہ تو کسی اور ہی قبلے کو رخ کیے بیٹھے ہیں۔ ہم سے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں سیدھی نہیں ہو رہیں اور یہ روز اپنے خون سے اس مسجد کا صحن دھونے نکل آتے ہیں کہ جس کا نام بھی ہم کالے تیل سے دھوتے جاتے ہیں۔
ایک آدمی ہسپتال میں روتا ہے تو دوسرا کہتا ہے شکر کرو خدا نے ہم لوگوں کو چنا ہے اس بربریت کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے۔ کوئی باپ اپنے بچے کے کفن میں کھلونے رکھتا ہے تو کوئی اپنا نو مولود لعشہ اٹھائے فلک شگاف صدائیں لگاتا ہے کہ مال اور اولاد تو دنیا کی زینت ہے، اصل زندگی ابھی آگے ہے۔
ہم سے بچے سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کیا صرف اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہند کے مسلمان سکھ کا سانس لیں؟ کیا باقی دنیا کے مسلمان انسان نہیں ہیں؟ کیا ظلم صرف وہی ہے جو ہمارے ایوانوں اور طاقت کے سرچشموں پر ہو؟ کیا دوسروں پر ہونے والے ظلم پر آواز بھی اٹھانا جائز نہیں؟
کیا جواب دیں انہیں؟
ہم نے سوچا تھا دور والے کربلا دور ہے کا بہانہ بنا لیں گے۔ خدا نے کربلا کے مظلومین ایوانوں کے پاس بھیج دیے۔ ہم نے سوچا تھا غزہ دور ہے، یہ بہانہ کام آ جائے شاید۔ خدا نے طاقت کے ایوانوں کے پاس پھر سے مظلومین بھیج دیے۔ سوچا تھا اپنا دکھ بڑا دکھ ہوتا ہے، اس کے آگے کچھ نہیں دکھتا۔ پر غزہ کے آنسو ہر طرف دکھ رہے ہیں۔
رومی نے کہا تھا کہ عشق کے چالیس درجے ہیں، پہلا درجہ محبوب کے قدموں میں سر پیش کرنا ہے۔ کسی نے کہا کربلا میں سر بسجود حسین نے خود اپنا سر اپنے محبوب کو پیش کیا، یہ عشق کا پہلا درجہ تھا۔ اپنے دو ماہ کے بچے کے حلق میں تیر دیکھنا، یہ اس سے آگے کا درجہ ہے۔ جوان بیٹے کو اس حال میں اٹھا لانا کہ پسلیاں کمر سے نکل گئی ہوں، یہ اس سے کہیں آگے کا درجہ ہے۔ اور یہ جانتے ہوئے جان دینا کہ پیچھے بہن اور بیٹی کے ساتھ سر بازار اور سر ایوان کیا ہو گا، یہ عشق کا وہ درجہ ہے کہ سوچے نہیں سوچا جاتا۔
غزہ کے بچوں نے، بڑوں نے، بیٹوں نے، بیٹیوں نے، لڑکوں نے، بوڑھوں نے، کون کون سا قربانی کا درجہ ہے جو دیکھ نہیں لیا، مگر مسکراتے ہیں، روتے ہیں، چیختے ہیں، تو صرف ایک رب کے آگے۔
ہم سمجھتے تھے قبلہ بدلنے کا مطلب اصل کی طرف لوٹنا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ نئے دور کے نئے حکمران اس کا مطلب منہ پھیرنا نکالیں گے اور اقصی سے منہ ہی پھیر لیں گے۔
کون سا ملک ہے جس میں جشن کا سماں نہیں؟ کس حکومت نے کہا ہے کہ بھوکے رہ لیں گے مگر ظلم کے خلاف زبان بندی نہیں ہو گی!
طاقتور حلقوں کی ترجیحات کا اندازہ اگر اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا پر کیا دکھایا جا رہا ہے تو اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا پر کیا دکھانے سے پرہیز کیا جا رہا ہے۔ کاش کہ ملک آزاد ہونے کے ساتھ ملک کے باسی بھی آزاد ہو جاتے، ملک کے باسیوں کے ذہن بھی آزاد ہو جاتے۔ کم سے کم اپنے حکمرانوں سے سوال تو کر پاتے کہ غزہ کے بچوں کے لیے کہاں آواز اٹھائی ہے، کیا اقدامات کیے ہیں؟ زبانی جمع خرچ کیا ہے یا کوئی عمل بھی ہے؟ آگ بجھانے والوں میں شامل ہوئے یا تماشا دیکھا کیا بس!
سنا ہے حکمران عوام کے نمائندے ہوتے ہیں۔ کیا عوام کی رائے کی نمائندگی ان کا فرض نہیں؟ اگر فرض نہیں تو پھر کیا فرض ہے ان کا؟ یہ کس انداز کی ذہنی سہولت ہے؟ کب تک زبردستی کی تاریخ رقم کی جائے گی، جس میں ہم آئندہ نسلوں کو اپنی بہادری کے قصے سنائیں گے؟ کس منہ سے ہم آئندہ نسلوں کو سچ بتائیں گے؟ یا سچ چھپائیں گے کہ مائیں اور بہنیں اور بچیاں روتی پیٹتی پھرتی تھیں، مگر مدد کے لیے کوئی مرد مومن نہ پہنچا۔ مرد مومن پہنچا یا نہیں، دلاسے کی کمزور سی آواز بھی نہ پہنچی اور خدا حافظ مان لیا گیا۔
دل ٹوٹ گیا ہے۔ آنکھیں سوکھ گئی ہیں۔ یوسف و یعقوب کے رب کی قسم، کنویں میں بھائی گرا آنے والے، بھیڑیے کو کھلا آنے والے، کربلا سے پہلے کربلا مچانے والے، سب دندناتے پھر رہے ہیں۔ پر یہ یوسف و حسین کے وارث صبر جمیل کی صدائیں بلند کرتے نہیں تھکتے۔ یہ پورے عزم کے ساتھ ہمیں بتاتے ہیں، کہ آخری فرد تک، آخری مرد تک، آخری عورت، بچے اور نومولود بچے تک، ہم اپنے خدا سے چیخ چیخ کر وعدہ کرتے ہیں، حق کے واسطے، خدا کے راستے، سانس چلنے تک، ساتھ چلنا ہے۔

