سال نو، الخدمت اور فلسطین


عبدالحادی ایک فلسطینی بچہ ہے جو اسرائیل کی طرف سے ہونے والی حالیہ بمباری میں اپنے تمام اہل خانہ کو کھو چکا ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں عبدالحادی جیسے بہت سے بچے آسمان کی طرف اس امید سے دیکھ رہے تھے کہ کب آسمان سے ان کے حصے کا بم انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں اسی جگہ پہنچا دے گا جہاں ان کے والدین اور دیگر دوست موجود ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کی اس کہانی میں فلسطین کے شہر غزہ کے آنسو بہت تکلیف دیتے ہیں۔

غزہ کے انہی آنسوؤں پر مرہم رکھنے کے لئے دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی میں ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب الخدمت ویمن ونگ کی طرف سے ان کے ہیڈ آفس میں منعقد کی گئی تھی۔ میں جب بھی الخدمت کے ورکرز کی طرف دیکھتی ہوں تو مجھے وہ لوگ کسی اور ہی دنیا کے مسافر لگتے ہیں۔ کہیں کوئی آفت یا تباہی ہوں الخدمت فاونڈیشن سب سے آگے نظر آتی ہے۔ پاکستان میں پرائیویٹ طور پر جو تنظیمیں مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لئے آگے آگے ہیں ان میں الخدمت کی کاوشیں بہت نمایاں ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اس جنگ میں ان کی معمولی سی کاوش کیا کر سکتی ہے۔ وہ جنگ روک تو نہیں سکتے اور یہ بھی کہ کیا یہ امداد واقعی ان لوگوں تک پہنچ رہی ہے کیونکہ جنگ کے باعث زمینی اور فضائی بہت سے راستے بند ہیں۔ میرے ذہن میں بھی اس طرح کے بہت سے سوالات تھے جن کے تسلی بخش جوابات ہمیں دیے گئے اور بتایا گیا کہ امدادی سامان سے بھرے ٹرک قاہرہ کے راستے وہاں کی مقامی تنظیموں کی مدد سے آگے پہنچائے جاتے ہیں۔

غزہ شہر میں جو شہادتیں ہو رہی ہیں ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور شہادتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ خوراک کا ایک نیا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ تقریب میں اسرائیلی برانڈز کے بائیکاٹ پر بھی بات ہوئی۔ بدقسمتی سے دنیا کے بہت سے ٹاپ برانڈز تمام تر یہودی کمپنیوں کے ہیں۔ ان تمام تر اشیاء کی متبادل اشیاء ہمارے ملک میں موجود ہیں جو معیار میں کسی صورت بھی کم نہیں ہیں۔

تقریب میں موجود تمام تر خواتین اس سلسلے میں پرعزم تھیں کہ وہ اسرائیل جو آج کے دور کا فرعون ہے بلکہ شاید وہ جس طرح کے مظالم وہاں پر ڈھا رہا ہے اس نے فرعون کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس فرعون کی تیارکردہ اشیاء وہ نہ صرف خود استعمال سے پرہیز کریں گی بلکہ دوسروں کو بھی اس سلسلے میں اپنا ہمنوا بنائیں گی۔ یہ تقریب دسمبر کی آخری ساعتوں میں منعقد کی گئی اور یہ سال نو کے لئے ہمارے سامنے اہداف مقرر کر گئی کہ ہم نے اب اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے لئے آواز اٹھانی ہے اور ہمارے پاس الخدمت کا ایک پلیٹ فارم موجود ہے جو اس قدر مشکل حالات میں بھی امداد ان تک پہنچا رہے ہیں اور یہ امداد ان تک پہنچ بھی رہی ہے۔

اگر کوئی ان کی مدد کرنا چاہتا ہے تو الخدمت کا ایک پلیٹ فارم موجود ہے جن کے ذریعے اس کی مدد مظلوم فلسطینیوں تک پہنچ سکتی ہے۔ سال نو کا آغاز ہو چکا ہے غزہ شہر کے سرد ترین خونی شب و روز جاری ہیں۔ آپ اور ہم جنگ بندی کی دعا کے ساتھ ساتھ ملبے کے ڈھیر جیسے غزہ شہر کی بحالی کے لئے اپنے حصے کی اینٹ تو لگا سکتے ہیں۔ آئیے اور الخدمت کی مدد سے غزہ کے زخموں پر مرہم رکھیں۔

Facebook Comments HS