تارڑ کے خس و خاشاک زمانے اور سفیر اعوان


دیکھا گیا ہے کہ وہ لکھنے والے جو عوامی سطح پر مقبول ہو جاتے ہیں ان کے فن کی بارے میں سنجیدہ تنقیدی مکالمہ رک سا جاتا ہے۔ جو تسلیم کیا جا چکا اس پر تنقید کی کیا ضرورت ؛ بات ”بلے بلے“ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہم نے ایسا منٹو کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا اور اب مستنصر حسین تارڑ کے باب میں دیکھ رہے ہیں۔ منٹو مقبول تھا اور یہی کافی سمجھا جاتا رہا۔ فن سے زیادہ شخصی کجیوں، بے باک رویے اور بے اعتدالیوں پر بات ہوتی رہی۔ انہیں ایک ہی وقت میں اچھا برا، فحش نگار اور انسانی فطرت کا نباض، بدنام اور ناقابل فراموش قرار دے کر ہمارا ناقد ایک طرف ہو بیٹھتا۔

اوروں کا ذکر ہی کیا، محترم شمس الرحمن فاروقی بھی شاید یہی سمجھتے ہوں گے کہ عمر بھر منٹو پر کچھ نہ لکھا تھا۔ آخری برسوں میں ”اثبات“ رسالے کے مدیر نے منٹو کے فن پر ایک سوالنامہ مرتب کر کے بھیج دیا تو جواب لکھنا پڑا اور منٹو پر کتاب ”ہمارے لیے منٹو صاحب“ مکمل ہو گئی۔ اس کتاب کو آصف فرخی نے اپنے ادارے سے چھاپا تھا۔ فاروقی صاحب جس طرح منٹو کے کچھ افسانوں کی تعبیر کر رہے تھے وہ مجھے کھلنے لگیں تو مجھے متبادل تعبیر کا دھیان آیا تھا جسے پڑھ کر آصف فرخی نے نہ میری پیٹھ تھپتھپائی منٹو پر میری کتاب بھی اپنے ادارے سے چھاپ دی تھا۔

اس کتاب کے مندرجات پر محمد سلیم الرحمن نے بہت دلچسپ تبصرہ کیا تھا۔ مثلا اًیک مقام پر انہوں نے لکھا: ”ٹوبہ ٹیک سنگھ پر جو غلط سلط تنقید ہوتی ہے وہ حمید شاہد نے ثابت کیا ہے کہ افسانے کو بے پروائی سے پڑھنے کا نتیجہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر کسی کو منٹو پر اظہار خیال کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ شاید منٹو کی شہرت کو مدنظر رکھ کر سوچتے ہوں کہ اگر کچھ نہ لکھا، الٹا سیدھا ہی سہی، تو بے خبر کہلائیں گے۔“ تارڑ کے فکشن کے باب میں سرسری تحریریں تو ملتی ہیں مگر کسی نے جم کر نہیں لکھا، محمد عباس کے استثنا کے ساتھ جو خود بھی عمدہ افسانہ نگار ہیں۔ ان کے دو مضامین ”بہاؤ“ پر نظر سے گزرے اور وہ ایسے تھے کہ حق ادا ہوا تھا۔

ڈاکٹر محمد سفیر اعوان نے پہلے تو ”بہاؤ“ جیسے مختلف ناول کو انگریزی میں ڈھالا۔ جسے اکادمی ادبیات پاکستان نے دو برس پہلے شائع کیا تھا اور پھر وہ ان کے مجموعی کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔ مجھے لگتا ہے کہ تارڑ کے فن کے تجزیاتی مطالعے پر مشتمل سفیر اعوان کی کتاب (تارڑ’ز فریجائل ٹائمز٭) ۔ ان کے مطابق تارڑ کے کام پر سنجیدہ مکالمہ نہ ہونے کا سبب یہ رہا ہے کہ ان کے قارئین زیادہ تر ان کی شخصیت کی طرف ہی متوجہ رہے ہیں۔

یہ شخصیت ہے بھی شاندار اور متنوع جہات کی حامل۔ ایک شہرت ان کی پاکستانی میڈیا کے حوالے سے ہے ؛ پھر وہ ملکوں ملکوں اور شہروں شہروں گھومے ان مقامات کے احوال لکھ کر سفر نگار کی حیثیت سے شہرت پالی۔ بعد میں ان کی شہرت ایک ناول نگار کے طور پر ہوئی مگر ڈرامہ نگار، ایک کالم نگار، جو شگفتہ جملوں سے اپنے قاری کا جی لبھاتا ہے، مارننگ شو میں بچوں کا چاچا جی، حتی کہ رشتے کروانے والا ٹیلی ویژن اینکر۔ یہ ایسی شہرتیں رہیں ہیں کہ ان کا فکشن ؛ جو ان کی سب سے بڑی اور سنجیدہ تخلیقی جہت تھی اس پر ڈھنگ سے مکالمہ نہیں ہو پایا۔

سفیر اعوان کا کہنا ہے کہ تارڑ نے فکشن لکھنے کے اپنے ابتدائی مرحلے میں ایسے ناول لکھے جو نوجوان نسل کی پر جوش حساسیت کو اپیل کرتے تھے۔ تاہم ان کے جن ناولوں نے اردو کے سنجیدہ ادبی حلقوں کو متوجہ کیا اور تارڑ کی تخلیقی توقیر میں نہ صرف اضافہ کیا انہیں لازوال شہرت دی وہ بعد میں آئے ؛ گویا جس طرح منٹو کی معروف شخصیت ان کے فن پر کسی سنجیدہ مکالمے میں رکاوٹ بنی، تارڑ کی سفر نگاری، کالم نگاری اور ٹی وی ایکٹر اور اینکر کی میڈیائی شہرت رکاوٹ بنی رہی۔ خیر، جو سنجیدہ تنقیدی کام پہلے اردو میں بھی نہیں ہو پایا تھا، سفیر اعوان نے وہ انگریزی میں کر دکھایا ہے اور لطف یہ کہ اسے بہت سلیقے اور جدید تنقیدی قرینوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔

اس تنقیدی کتاب میں تارڑ کے فن کا جائزہ لینے کے لیے بارہ ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ اپنے دعووں کی تصدیق میں ناولوں سے انتہائی متعلق اقتباسات دے گئے ہیں یوں ان کے مقدمات مرحلہ وار قائم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سفیر اعوان نے کتاب کے مختلف حصوں کے متن میں نو ناولوں پر بحث کی ہے جو 1974 سے 2013 کے انتالیس چالیس برسوں میں سامنے آئے :پیار کا پہلا شہر ( 1974 ) ، بہاؤ ( 1993 ) ، راکھ ( 1997 ) ، قربت مرگ میں محبت ( 2001 ) ، قلعہ جنگی ( 2002 ) ، ڈاکیا اور جولاہا ( 2005 ) ، پکھیرو ( 2007 ) ، خس و خاشاک زمانے ( 2010 ) اور ”اے غزال شب“ ( 2013 ) ۔ ان ناولوں میں وہ دنیا تارڑ کے سامنے رہی، وہ زمانہ جس میں یہ ناول نگار رہ رہا تھا اور وہ دنیا جو ان کے ناولوں میں متن ہو رہی تھی اور جس تخلیقی قرینے سے ہو رہی تھی کتاب میں جہاں جہاں مذکور رہی ہے، ہمیں اسے دیکھنے کا ایک الگ سا زاویہ فراہم ہوتا رہا ہے۔

کتاب کے عین آغاز کے صفحات میں جہاں تارڑ کے فن پر اس کتاب کو انگریزی میں لانے کی ضرورت پر بات ہوئی ہے، وہیں بجا طور پر یہ بھی جتا دیا گیا ہے کہ انگریزی بولنے والی دنیا کو یہاں کے قابل قدر ادب کی طرف متوجہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہو گیا تھا کہ انگریزی زبان کے پاکستانی مصنفین پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی پیچیدہ تاریخ، قومی شناخت اور ثقافتی تنوع کے حوالے سے غلط بیانی کرتے ہیں۔ قصداً یا مصلحتا اًن کا کام اکثر وہ دکھاتا ہے جس کی تشہیر میڈیا کے ذریعے ہو رہی ہوتی ہے ؛ اس پروپیگنڈے کے زیر اثر پاکستان کو ایک قدامت پسند معاشرے اور ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

ہمارے انگریزی میں لکھنے والے یہی کچھ اس لیے لکھ رہے ہوتے ہیں کہ یہی مال ان کے یورو۔ امریکی قارئین میں بکتا ہے اور اسی سے وہاں پاکستان کے بارے میں موجود گمراہ کن خیالات تصدیق ہوتی ہے۔ انگریزی زبان کے پاکستانی مصنفین زیادہ تر انہی تصورات کو چارہ فراہم کر رہے ہیں۔ سفیر اعوان کے مطابق یہ محض الزامات نہیں ہیں، ان میں سچائی کا عنصر بھی ہے۔ ان کی تحریریں مٹھی بھر موضوعات پر مرکوز ہوتی ہیں : انتہا پسندی، دہشت گردی، ثقافتی مایوسی، اقلیتوں کے حقوق سے انکار، اندرونی کشمکش اور فوجی بغاوتیں وغیرہ۔

توفیق رفعت کے استثنا کے ساتھ، وہ کہتے ہیں کہ، ان لکھنے والوں میں زیادہ تر اس تاریخی شعور اور بصیرت سے محروم ہیں جو کسی عظیم فن پارے کے پس منظر میں کام کر رہی ہوتی ہے۔ سفیر اعوان کی کتاب ان منفی رویوں کے ابطال میں بھی ہے اور تارڑ کے فن کی ہمہ جہتی تفہیم کی ایک کامیاب کوشش بھی۔ مثلاً دیکھئے بہاؤ کا ذکر کرتے ہوئے وہ تارڑ کے اس زرخیز اور ہرے بھرے تخیل کو نشان زد کرتے ہیں جو ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔

بہ قول ان کے بہاؤ میں، تارڑ تاریخ کو ایک تسلسل میں دیکھتے ہیں اور ان علاقوں کی بھرپور، شاندار ثقافتی تاریخ کا سراغ لگاتے ہیں جو اب پاکستان کی ثقافتی تشکیل کرتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم رواں وقت اور گزر چکے وقت کے درمیان ایک تسلسل میں ہیں۔ اپنے طاقتور تخیل اور باریک بینی سے تحقیق اور مطالعے کو بروئے کار لاتے ہوئے، قدیم کتھاؤں، گیتا اور مہابھارت جیسے صحیفوں، نباتاتی اور حیوانی زندگی، موت اور حیات نو کی رسومات اور ان رسومات کے بارے میں معلومات کو بہم کر کے، تارڑ نے ہماری تاریخ کے گمشدہ باب کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔

تارڑ کے ناول ”اے غزل شب“ کا مطالعہ عالمی سرمایہ داری نظام اور اس کی قباحتوں کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ کے اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ مظلوموں، غریبوں اور پسماندہ طبقوں نے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ یہیں اس اشتعال انگیز پیشین گوئی کا حوالہ آتا ہے جس کے مطابق سرمایہ داری نظام اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ ایسا اس نظام کی ناکامی کی وجہ سے نہیں ہو گا، بلکہ اس کے بے پناہ رسوخ اور بے دریغ کامیابیوں کے بوجھ کے سبب ہو گا جسے یہ نظام سہار نہ پائے گا۔

یہ ناول اسی جہت پر آگے بڑھتا ہے۔ بہ قول سفیر اعوان جس طرح تارڑ، اپنے ایک اور ناول خس و خاشاک زمانے میں عطار کے پرندوں کو لائے ہیں اور ان پرندوں کی کانفرنس سے اسے صوفیانہ جہت پر ختم کیا ہے، اے غزال شب کو بھی ہندومت کے مرکزی صحیفے گیتا سے ماخوذ ایک صوفیانہ فکر پر تمام کیا گیا ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا پرستی سے احتراز کا خیال اور ایسے ناول کا اختتام صوفیانہ حوالے سے، جو کہ دنیا کے مادی حالات کے بارے میں ہے، بہت کچھ سمجھاتا ہے۔ یہاں سفیر اعوان نے بھی ایک تنقیدی قیاس قائم کیا ہے جو ان کا حق تھا اور لائق توجہ بھی ہے۔

کتاب میں تارڑ کے فکشن میں برتے گئے موت اور محبت کے موضوعات پر بہت عمدہ نکات سجھائے گئے ہیں۔ اس پر الگ سے باب قائم کیا گیا ہے۔ اس باب کا آغاز نطشے اور ہرمن ہیسے کے نہایت قابل توجہ اقوال مقتبس کرنے سے ہوتا ہے۔ ہرمن ہیسے کے مطابق ”موت کا بلاوا محبت کی پکار ہے۔ موت پیاری ہو سکتی ہے اگر ہم اس کا جواب اثبات میں دیں، اگر ہم اسے زندگی اور تبدیلی کی عظیم ابدی شکلوں میں سے ایک کے طور پر قبول کریں۔“ سفیر اعوان کہتے ہیں کہ محبت اور موت سے وابستہ رومانس اور اسرار ادب کا سب سے نمایاں موضوع رہا ہے۔

بہ قول ان کے موت ایک تضاد کی صورت ہمارے مقابل رہتی ہے۔ یہ یقینی ہے کہ ایک روز اسے آنا ہے اور غیر یقینی بھی کہ نہ جانے کب اور کہاں آئے گی۔ اس تضاد میں انسانی اعمال کا بھید پنہاں ہے اور موت ایسا معمہ ہو گئی ہے جس نے فلسفے، مذاہب، عالمی نظریات، عالمی نظام کے دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ سفیر اعوان نے تارڑ کے فکشن میں محبت کو مختلف جہتوں میں دیکھا اور دکھایا ہے اور قربت مرگ میں بھی۔

اپنی اس کتاب میں انہوں نے جدید تنقید کے مرغوب علاقے بھی دریافت کیے ہیں۔ مثلاً نئی تنقید کا ایک محبوب موضوع ماحولیاتی تنقید ہے۔ انہوں نے اس رخ سے تارڑ کے فکشن کو آنکنے کے لیے ”ماحولیات اور ماحولیاتی شعور“ کا عنوان جما کر بہت معلومات افزا گفتگو کی ہے۔ وہ تارڑ کو اردو ادیبوں میں واحد قرار دیتے ہیں جس کی تحریروں میں صدیوں سے برصغیر میں رونما ہونے والے ماحولیاتی بگاڑ پر گہری تشویش کا اظہار ملتا ہے۔ وہ واحد نہ بھی ہوں تو بھی یوں نمایاں ہیں کہ اپنے تقریباً تمام بڑے ناولوں میں، انہوں نے دکھایا ہے کہ کس طرح انسانی موجودگی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور آلودگی کی وجہ خطرناک اور المناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ سفیر اعوان کا کہنا ہے کہ مغربی تحریروں میں ماحولیاتی خطرے کو نشان زد کرنے کے رجحان بننے سے بہت پہلے، تارڑ ماحولیاتی بقا کے بارے میں اپنے شعور کا اظہار تخلیق سطح پر کر رہے تھے۔ اس باب کے مطالعے میں انہوں نے راکھ، بہاؤ اور قربت مرگ میں محبت جیسے ناولوں کے متون کی طرف توجہ دلائی ہے۔

تارڑ کے فکشن میں جس طرح ان کا وسیع ذاتی تجربہ اور گہرا ہمہ جہت مطالعہ بولتا ہے اسے بھی اس تنقیدی مطالعے کا موضوع بنایا گیا ہے۔ دوسرے امور کی طرح یہاں بھی سفیر اعوان، تارڑ کو اردو زبان کے پاکستانی ادیبوں میں واحد ادیب قرار دے رہے ہیں جو عالمی سطح پر برتی جا رہی معاصر تخلیقی بیانیہ کی حکمت عملیوں کا شعور رکھتے ہیں تاہم احتیاطاً جملے میں ”شاید“ کا لفظ لگا لیا ہے۔ بہ قول ان کے، وہ اپنے فکشن میں ان ٹولز اور حکمت عملیوں کو برتتے وقت مقامی تاریخ، معاشرتی اقدار، اور ثقافتی تنوع کو اپنے بیانیے میں گوندھ رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے تارڑ کے فکشن میں بالعموم اور بہ طور خاص خس و خاشاک زمانے، راکھ، قربت مرگ میں محبت، اور ڈاکیا اور جولاہا میں تاریخی شعور کے برتنے، کائناتی حساسیت کو کام میں لانے اور مابعدالطبیعاتی حوالوں سے لے کر واقعات کو جادوئی حقیقت پسندانہ نہج تک لے جانے کو تارڑ کی کامیابی قرار دیا ہے۔ وہ تارڑ کے فکشن میں کہیں عالمی سینما کا ذکر دیکھتے ہیں کہیں دنیا بھر کی موسیقی کے حوالے، کہیں صوفیانہ شاعری شناخت ہوتی ہے اور کہیں عالمی ادب، مصوری اور تاریخی حوالے جس سے تارڑ کی نثر زرخیز ہو جاتی ہے اور قاری اس سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔

دنیا نائن الیون سے پہلے کیا تھی اور اس سانحے نے دنیا کو کیسے بدل کر رکھ دیا یہ تارڑ کے ناولوں میں متن ہوتا رہا ہے اور سفیر اعوان نے اس کا بھی بھرپور مطالعہ کیا ہے۔ وہ دیگر موضوعات اور جہات کے مطالعے کے بعد پاکستان ٹوٹنے کے سانحے کی طرف آتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ تارڑ نے سقوط ڈھاکہ اور پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے کی تاریخ کو اپنی نادر بصیرت اور تخلیقی جرات کے ساتھ فکشن میں ڈھالا ہے وہ بھی لائق مطالعہ ہے۔ اس باب میں انہوں نے راکھ اور خس و خاشاک زمانے کے مندرجات کا حوالہ دیا ہے۔

کتاب کے آخری باب میں خس و خاشاک زمانے کا مابعد جدید تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کے اس باب کو دو اعوانوں نے مل کر لکھا ہے ؛ جی یہاں سفیر اعوان کے ساتھ الیاس بابر اعوان کا نام بھی موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے اور آزادی کے بعد کے پاکستان کے سامنے کے سیاسی حوالوں کے علاوہ جن سماجی و ثقافتی نوعیت کے بہت سے پیچیدہ موضوعات کو تارڑ نے اپنے پھیلے ہوئے پلاٹ کے اندر متن کیا اس میں سیاسی سازشوں کی وجہ سے پاکستانی ریاست اور معاشرے کا بگاڑ، فوجی حکومتیں اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ، نیویارک میں جلاوطنی اور بیگانگی، نائن الیون کے بعد امریکی کارپوریٹ میڈیا، ثقافتی تصادم، انتہا پسندی کے اثرات اور امریکی فوجی مہم جوئی کے ردعمل میں سامنے آنے والی بنیاد پرستوں کی نئی نسل، ہم جنس پرستی کا مغربی طرز عمل اور اپنی قدیم روایت کے ساتھ جڑے رہنے کی تاہنگ اور اس کے نتیجے میں تناؤ اور تصادم، ڈنمارک کے آرٹسٹ کے گستاخانہ کارٹونز کی اشاعت پر پاکستان میں پرتشدد احتجاج؛ وغیرہ وغیرہ۔ یہیں بتایا جا رہا ہے کہ اس ناول میں تارڑ نے اپنے اسلوب میں صحافتی معلومات کو ادبی بیانیے میں تبدیل کیا ہے۔

آخر میں یہ کہتا چلوں کہ اردو فکشن کی عملی تنقید پر مشتمل، اور وہ بھی کسی ایک ناول نگار کے حوالے سے جس کا کام بہت پھیلا ہوا ہے، جو گہرے مطالعے کے بعد منضبط تنقیدی شعور کو کام میں لاکر لکھی گئی ہے، ایک مدت کے بعد دیکھ رہا ہوں۔ یہ کتاب انگریزی میں ہے۔ کاش ایسا ہی کوئی کام اردو میں بھی ہو۔ میں اس شاندار اور قابل رشک تنقیدی کام پر محمد سفیر اعوان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

۔
٭ Tarar ’s Fragile Times

Facebook Comments HS