احمد بشیر کی ملنگنی



آج جہاں سے میں کھڑی ہو کر احمد بشیر کے بارے میں کچھ کہنے کی ہمت کر پا رہی ہوں، اس کے بارے میں کبھی میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ میں سوچ بھی کیسے سکتی تھی کہ جس کا باہر کی دنیا کے ساتھ واسطہ تھا ہی نہیں۔ میں جب لوگوں کو یہ کہتے سنتی ہوں کہ وہ تو سالوں سے لکھنے پڑھنے والے لوگوں کی صحبت میں رہ رہے ہیں تو ان سے ایک عجیب سی جلن محسوس ہوتی ہے۔ بات تو کچھ مناسب نہیں مگر اب جو ہے سو ہے۔

ذکر ہے آج احمد بشیر کا کہ جس کو پڑھنے کے بعد میری خود کی زندگی مکمل بدل گئی۔ ایک عام عورت جو کہ زندگی کی حقیقتوں کو سمجھ تو شاید بہت چھوٹی عمر سے گئی تھی۔ مگر ان حقیقتوں کی تلخ سچائی دنیا کے سامنے لانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔ مجھے یہ جرات احمد بشیر کو پڑھنے سے ملی۔ میں نے احمد بشیر کو”دل بھٹکے گا” سے سمجھنا شروع کیا۔ اس سے کچھ سال پہلے ٹی وی کے ایک شو پہ میں نے ایک شخص کو کڑکتے لہجے میں چند باتیں کرتے سنا۔ اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ یہ شخص کون ہے۔ مگر آج جب میں احمد بشیر کی تصویر کو ذہن میں لاتی ہوں تو مجھے اس ٹی وی سکرین پہ بیٹھا ایک شخص فوراً یاد آتا ہے۔ جس کی باتیں لوگوں کو گراں گزر رہی ہیں مگر وہ اسے سننے پہ مجبور ہیں۔

ایمن آباد میں پیدا ہونے والا احمد بشیر کرشن نگر کی گلیوں میں ایک من موجی کے جیسے پھرنے والا بظاہر وہ لاپروا سا دکھنے والا انسان جو کسی کام کو کرنے کے بعد اس کے نتیجے کی پرواہ کیے بنا کر جاتا اور کہہ دیتا سو واٹ۔

احمد بشیر کو سو واٹ سکھانے والا ممتاز مفتی خود اس فلسفے کو مصلحت کے پردوں میں چھپا کے بیٹھ گیا۔ مگر احمد بشیر نے پھر تمام عمر سو وٹ کو اپنے سے جدا نہ کیا۔

ایک منہ پھٹ اور کڑوے سچ لکھنے والے انسان کا سب سے خوبصورت روپ اس کی اپنی بیوی اور بیٹیوں سے محبت کا وہ اظہار ہے جو ان کی کتاب خطوں میں خوشبو کو پڑھتے ہوئے نظر آتا ہے۔

اپنی بیٹیوں کے ہر لمحے کی تصویریں بنانے کی فرمائش ہو یا پھر اپنی مودی سے لال سویٹر بنا کے بھیجنے کی فرمائش۔ ہر ایک جملے کی ایک الگ ہی چاشنی ہے۔

آرٹ، موسیقی اور رقص سے محبت کرنے والے انسان کی اس سے بڑھ کے کیا سچائی ثابت ہو کہ نہ تو اس نے اپنی بیوی کو موسیقی سیکھنے سے روکا اور نہ ہی بیٹیوں کے کسی شوق کی راہ میں رکاوٹ بنا۔

آج اس انسان کی تمام بیٹیاں ملکی اور عالمی سطح پہ اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔ اس سب کے پیچھے کیا آپ کو ایک عظیم انسان نظر نہیں آتا؟

ہم میں سے کون ہے جو اپنے مصروف وقت میں سے کسی دوسرے انسان کو اس کی پریشانی میں سنے، اور ایک وہ شخص تھا جس نے ابن انشا کے خودکشی کے دوروں میں رات کے چار بجے ہونے والی دستک کو بھی کبھی رد نہیں کیا۔ اس کے ساتھ اٹھ کے چل پڑتے۔ کیا انسانیت کو ایسے لوگوں سے محبت نہ ہوتی ہو گی۔

ایک سوشل ایکٹیوسٹ، ترقی پسند مصنف ایک بے باک اور نڈر صحافی اور فلمساز جس نے اپنے وقت سے کئی صدیاں آگے کی فلم بنا دی۔ اس نے فلاپ ہونا ہی تھا کہ جو شخص لکیر کا فقیر نہ ہو وہ لکیر سے ہٹنے کی سزا تو پاتا ہی ہے۔

میں نے بساط بھر جو کچھ پڑھا وہ سب لوگ میری زندگی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ بہت سے رائٹر ہم پہ اپنا گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ قاری ان سے متاثر نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔

لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا کسی کو ملے بنا صرف پڑھنے سے ان کی باتیں سن کے اس انسان سے محبت ہو سکتی ہے؟

میرا جواب ہمیشہ ہاں ہوتا ہے۔ کہ میں بھی ایک ایسے انسان سے محبت یا اگر اس سے آگے کچھ کہیں تو عشق کرتی ہوں۔ وہ انسان احمد بشیر ہے اور اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ آپ کی محبت کی خبر زمانے کو نہ ہو گی تو پھر انہیں اپنی درستی کر لینی چاہیے۔ کہ اگر ایسا ہوتا تو آج یہاں اس وقت میں احمد بشیر کی باتیں نہ کر رہی ہوتی۔

نیلم احمد بشیر مجھے ابا کی ملنگنی کہتی ہیں اور یہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں۔ کہ میں احمد بشیر کو مرشد کہتی اور مانتی ہوں۔ کم سے کم اس ملنگنی میں اتنی جرات تو ہے کہ وہ اپنی محبت سرعام بیان کر سکتی ہے۔ اور اگر کہیں احمد بشیر آج ہمارے ساتھ ہوتے تو کہتے ”کڑئیے توں بڑی ٹوں ٹوں ٹوں“ ۔ معاف کیجئیے گا گالی کو سنسر کر دیا ہے۔

زندگی میں جن چند لوگوں سے نہ مل پانے کا دکھ مرتے دم تک میرے ساتھ رہے گا ان میں سرفہرست احمد بشیر سے نہ مل پانے کا غم بھی شامل ہے۔

وہ جہاں ہیں یقیناً وہاں بہت مزے میں ہوں گے
ہومی کو لکھے جانے والے ایک خط سے چھوٹے سے ایک اقتباس کو سنانے کے بعد اجازت چاہوں گی۔ لکھتے ہیں کہ

میرے بیٹے خدا ویسا نہیں جیسا تم کہتے ہو، اور اگر وہ واقعی ویسا ہے جیسا تم سمجھتے ہو تو تم جنت کی دیوار سے جہنم میں جلتے میرے تپتے بدن پہ ایک لوٹا پانی ڈال دینا۔

زندگی بھر جس شخص نے دولت اور جائیداد کا لالچ رکھا نہ ریاستی جبر کا ڈر، آپ کیا سمجھتے ہیں اسے مرنے کے بعد جنت کا لالچ یا جہنم کا خوف ہوتا ہو گا۔
وہ یہ سارے لالچ اور خوف سو واٹ کی چٹکی میں اڑا چکا تھا۔ وہ البیلا راہی تھا جو راہی عدم ہوا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments