اس برس تو میں ہوں
اس برس تو میں ہوں
تم سے لڑتا، جھگڑتا، کبھی مسکراتا کبھی قہقہوں میں سبھی غم اڑاتا
تمہیں یہ بتاتا کہ پچھلے برس کس نے کب کس طرح سال نو پر مجھے فون پر
wish کیا تھا
کہ پچھلے برس ہم کسے کب ملے تھے
کہاں چائے پی اور یونہی بے ارادہ کہاں تک گئے تھے
کہ پچھلے برس کون کب تک جیا تھا
کہاں کس گلی تک تو وہ ساتھ تھا اور کہاں گم ہوا تھا
اس برس تو میں ہوں سب کی یادوں کو ترتیب دیتا، کہانی سناتا
سبھی کو بتاتا سبھی کو بلاتا کہ آؤ گھڑی بھر کو بیٹھو کہ میلہ ہے یہ چار دن کا
اور اب دن بھی چوتھا، اور اس چوتھے دن کا بھی چوتھا پہر ہو چلا ہے
یہاں کب سدا ہم نے رہنا کہاں تک ہے بہنا
لو ابھی تو میں ہوں جیسے پچھلے برس وہ بھی تھے جو نہیں ہیں۔
اس برس تو میں ہوں یہ بتاتا مرے دوست بیٹھو سنو بات میری،
وہ یوں تو نہیں میں نے ایسے کہا تھا، غلط تم نے سمجھا
مرے یار میری تو آواز ہو تم
یونہی مجھ سے بے وجہ ناراض ہو تم
یہ دیکھو یہ میں نے تمہیں واٹس ایپ پر جو میسج کیا تھا وہ ایسے تھا ایسے نہیں تھا
یہاں ایک coma لگانا تھا میں نے
تمہیں تو پتا ہے میں عجلت میں لکھتا ہوں
بس میری باتیں سمجھنا ہے مشکل
یہاں تک لکھا تو یہ سوچا کہ میں نے بھلا آج یہ نظم کیوں اور کیسے لکھی ہے
یہ ان کا ہے نوحہ جو پچھلے برس تھے مگر اب نہیں ہیں
یا پھر ان کا قصہ کہ جو عین ممکن ہے اگلے برس اپنی نظموں کی صورت ہی زندہ رہیں
اور محبت کے جو قرض ہیں آپ پر نادہندہ رہیں


