جی میں بگٹی ہوں
صبح صادق کے وقت برآمدے میں ٹہلتے نوجوان سے مسجد میں داخل ہونے والے بزرگ نے سوال پوچھ لیا۔
بھائی تم کون ہو؟ کیونکہ پریشان لگ رہے ہو۔
”جی میں بگٹی ہوں“ ۔
رات کو میرے ابو کو کوئی اٹھا کے لے گیا ہے۔ دعا کرنا، واپس کر دیں۔
ابو کو اٹھا کے لیا گئے ہیں؟ یہ کیا بات ہوئی؟
پتہ کرو، بڑے بھائی کو بولو،
پولیس کو رپورٹ درج کر ؤائے۔
مل جائے گا۔
پریشاں نہ ہونا
اور دعا کی بات پر سر اثبات میں ہلا کر مسجد میں داخل ہو گئے۔
اس شہری بابے کو کیا پتہ اٹھانے والے کتنے زورآور ہیں۔ ان کے یہاں قانون نامی کوئی چیز نہیں ہے۔
وہ چاہے حکومتی ہوں یا سرداری۔
سرداری دور میں میرے بھائی کو حکومت نے مار کر لاش پھنک دی تھی، کیونکہ وہ سردار کے ساتھ تھا اور حکومتی دور میں سرداری لوگ میرے ابو کو گھر سے اٹھا کر لے گئے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ابو حکومتی ایجنٹ ہے۔
اب وہ دل ہی دل میں دونوں ادوار کا موازنہ کر رہا تھا۔
اور سوچ رہا تھا کہ سرداری دور میں وڈیرے ہوتے تھے اور ان کی بات مانی جاتی تھی اور حکومتی دور میں بھی وہی وڈیرے ہوتے ہیں اور ان کی بات مانی جاتی ہے۔ سرداری دور میں لاشیں گرتی تھیں اور حکومتی دور میں اجتماعی قبریں بنتی ہیں۔
لوگ اس وقت بھی طاقتور حلقوں کی شرح سے محفوظ نہ تھے اور آج بھی حکومتی غنڈوں کا ڈر سونے نہیں دیتا۔
تعلیمی شرح اس وقت کم تھی اور آج بھی وہی حالت ہے۔ غربت، بھوک، پریشانی سب کا سب اسی طرح ہے۔ قانون اس وقت بھی کوئی وجود نہیں رکھتا تھا۔ اور آج بھی۔
اتنی دیر میں دوست کی کال آجاتی ہے۔
اوائے بگٹی، ناشتہ تیار ہے۔ جلد آ کر کر لے یونی کا وقت نکل رہا ہے۔ ناشتے کے بعد بائیکا کر کے نکلا۔
ایک کلومیٹر طے کرنے کے بعد بائیک والا عادتاً پوچھ بیٹھا۔
بھائی آپ کون ہو اور کدھر سے آئے ہو؟
جی میں بگٹی بلوچ ہوں اور بلوچستان سے آیا ہوں۔
جب اس کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ کر کرچی کرچی بکھر گیا۔ بائیک کی رفتار ذرا کم ہو گئی۔ مگر سفر جاری رکھا
کچھ دیر خاموشی کے بعد دھیمی آواز میں پھر ایک دلخراش سوال داغ بیٹھے۔
بھائی آپ لوگ ابھی بھی فوجیوں کو ذبح کرتے ہیں؟
اب اس کو کیا جواب دیتا!
پھر کچھ دیر سوچنے کے، بعد اس کو کہا نہیں بھائی، اب وہ ہم کو ذبح کرتے ہیں۔ یہ صبح صادق کا وقت تھا۔ ایک چستی کے ساتھ پڑھنے کے لیے جا رہا تھا۔ مگر اس ایک سوال نے اس کمر توڑ کے رکھ دی تھی۔ بس کچھ دیر بعد وہ اپنی منزل تک پہنچ گیا۔
اتر کر اس نے اس کو چار سو کے بجائے پانچ سو والا نوٹ تھما دیا۔
کچھ دیر اصرار کرتے رہے۔ مگر وہ نہ، مانا تو اٹھا لیا۔ اور کافی دیر تک اس کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا اور ادھر سے چلا گیا۔
کیونکہ اس نے پہلی دفعہ کسی قصائی قبیلے کے شخص کو ٹائی کوٹ میں دیکھا تھا۔
یہ کوئی کہانی نہیں، حقیقت ہے۔ اس طرح کے واقعات ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ پیش آئے۔
اس کو کہتے ہیں۔
جب آپ کسی کے کان میں زہر بو دیتے ہو تو اس کے اثرات صدیوں تک رہتے ہیں۔
یہ وہ محاورہ دہرا رہا تھا۔ جو مشرف اپنی تقاریر میں دہرایا کرتا تھا۔
یہ وہ باتیں تھیں۔ جو اس زمانے میں سکرین پر بیٹھے صحافی حضرات اس قبیلے کے بارے میں کہتے رہتے تھے۔
اب کون ان کو بتائے، اس کو اپنے ملک سے کتنا پیار ہے! اب اس کو کون بتاتا کہ اس کے پورے قبیلے کو ایک ڈکٹیٹر کے کہنے پر جانوروں کے طرح روندا گیا۔ اور جلاوطن کر دیا گیا۔
مگر پھر بھی وہ سبز ہلالی پرچم سروں پہ باندھے واپس اپنے گھروں کو لوٹے۔
اگر آپ کو بیس سال پہلے ایک ظالم بادشاہ کے کہے ہوئے جملے یاد ہیں۔ تو آپ کو یہ بھی یاد ہونا چاہیے کہ ڈیرہ بگٹی شہر کے اندر عورتوں اور بچوں کی لاشوں کی تعداد کتنی تھی۔ ان کو یہ بھی نہیں پتہ کہ اس وقت اس کے کیا حالات ہیں۔ اور آج کے حالات جاننے کے لئے ہمیں جغرافیائی، سیاسی اور تاریخی حیثیت کو دیکھنا ہو گا، اور اگر ہم ڈیرہ بگٹی کی تاریخی جائزہ لیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ڈیرہ بگٹی ضلع ہونے سے پہلے ایک قبائلی علاقہ تھا جس کو جولائی 1983 میں ضلع کا درجہ دے کر بلوچستان میں ضم کر دیا گیا۔ اس کا کل رقبہ 10159 sq kms ہے۔ قدرت نے ڈیرہ بگٹی میں رہنے والے اس قبیلے کو بیش بہا قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔
موسم کی لحاظ سے اس علاقے میں ایک عجیب و غریب حقیقت پائی جاتی ہے۔ اس کی پہاڑی علاقوں میں گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈا موسم رہتا ہے اور میدانی علاقوں میں شدید قسم کی گرمی ہوتی ہے۔ قدرتی وسائل میں گیس سر فہرست ہے۔ پہلی دفعہ گیس کی دریافت جنرل ایوب خان کے دور میں ہوئی۔ 1952 کو ایوب خان سوئی کے مقام پر پی پی ایل گیس فیلڈ کا افتتاح کیا۔ دوسری گیس فیلڈ پیرکوہ کے مقام پر بھٹو کے دور میں دریافت ہوا۔ تیسری گیس فیلڈ اچ کے مقام پر دریافت ہوا۔
اور چوتھی گیس فیلڈ کا قیام زیں کوہ لوٹی کے مقام پر 1988 میں ہوا۔ اور پانچویں گیس فیلڈ کے قیام کا کام جاری ہے۔ اس ضلع میں بگٹی قوم آباد ہے۔ جو اپنی بہادری کی وجہ سے ایک مکمل تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ دس لاکھ کی آبادی میں ہندو اور سکھ بھی ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش گیس کمپنی کی ملازمت اور زراعت پر منحصر ہے۔ یہاں پر کئی صدیوں سے قبائلی نظام رائج ہے۔ سیاسی شخصیات نواب اکبر خان بگٹی کا تعلق بھی اس ضلع سے تھا۔
جو وزیر دفاع، وزیر اعلیٰ بلوچستان، اور گورنر بلوچستان کے عہدوں پر رہے۔ اور بعد میں وہ جنرل مشرف کے دور۔ میں سیاسی اختلافات کی نذر ہو گئے۔ ان کو مارنے کے لیے ایک آپریشن عمل میں لایا گیا۔ اس آپریشن کے بعد سے لے کر اس ضلع میں 400 سے زائد حکومتی اسکول ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی شرح بلوچستان کی باقی اضلاع سے کم ہے۔ اس وقت تیس ہزار سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور خواتین کی تعلیم کی شرح صرف پانچ فیصد ہے۔
ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے زچگی کی دوران خواتین کی اموات کی تعداد پوری پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر ماہ آٹھ سے دس اموات ہو رہی ہیں۔ 90 فیصد سے زائد لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ سوئی جو 7 دہائیوں سے پورے پاکستان کو گیس کی فراہمی کر رہا ہے مگر سوئی کی اکثر آبادی لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں۔ ہر حکومتی دور میں بجٹ آتا تو ضرور ہے مگر خرچ نہیں ہوتا۔ وہ صرف چند لوگوں کی جیبوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ لوگوں کے سیاسی شعور کو جامد رکھنے کے لئے حکومتی اداروں اور ادھر کے قبائلی سرداروں اور وڈیروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس کی ایک طرف وجہ کھوکھلی پاکستانیت کا درس۔ اور دوسری طرف قبائلی عمائدین کی بدمعاشی کیونکہ جن کی کل سیاست، قدامتی سوچ کی بنیاد پر ہے، وگرنہ کوئی ایک ووٹ بھی نہ پڑے ان کے جھولی میں۔ اس قبیلے کی ترقی کے لئے حکومت کو ازسر نو پالیسی بنانی پڑھی گی۔ مگر اس ملک کی ابھی کے حالات کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ یہ کوئی ملک نہیں ایک مصنوعی جنگل ہے۔ جس میں پچیس کروڑ مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے جانوروں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کو یہ بتایا گیا تم ایک دوسرے کے لئے خطرناک ہو۔ اور اس مصنوعی جنگل کے مالکان، باہر دنیا میں بیٹھے اسے کنٹرول کر رے ہیں۔


