پیش گفتار


محمود الحسن سے میل جول کو اب دس برس تو ضرور ہو گئے ہوں گے۔ جوں جوں وہ قریب آ رہا ہے اور دل آویز ہوتا جا رہا ہے۔ اقبال کا مصرع:

نوجوان و مثل پیراں پختہ کار

اس کی شخصیت کی ایک اچھی تصویر بناتا ہے۔ اس کی دل بستگی بھی جوانوں سے زیادہ بوڑھوں کے ساتھ ہے۔ میں نے کئی بار اس سے کہا ہے کہ محمود! تمھاری دوستی ساٹھ برس سے کم کے آدمی سے نہیں ہو سکتی۔ بلکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ پرانی شراب کی طرح اس کا جو ممدوح جتنا کہن سال ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کے ساتھ محمود کے شغف میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

محمود کو با کمال لوگوں سے ربط رکھنے کا شوق ہے اور یہ شوق خود اس کے باکمال ہونے کی دلیل ہے۔ جس کسی کو وہ باکمال تصور کر لے، اس سے ایک بے غرض اور بے مقصد تعلق اس کے دل میں گھر کر لیتا ہے۔ یہ تعلق خاطر چونکہ مثالیت پسندی پر نہیں بلکہ گوشت پوست کے انسانوں کو ان کی کمزوریوں سمیت سراہنے پر استوار ہوتا ہے اس لیے یہ اندیشہ نہیں رہتا کہ اس کا آئینۂ عقیدت کسی روز اچانک گر کر پاش پاش ہو جائے گا۔ یہ نکتہ بھی اس کے خاطر نشیں ہے کہ تضاد زندگی کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے اور زندگی کے چمن کو اختلاف ہی سے زیب ہے۔ چنانچہ وہ بیک وقت ایسے ممدوحوں کا مداح رہتا ہے جو باہم بالکل مختلف بلکہ بسا اوقات متضاد اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ محمد سلیم الرحمن، شمیم حنفی، انتظار حسین، سید محمد کاظم، احمد مشتاق وغیرہ وغیرہ۔ سب اپنی اپنی وضع کے الگ الگ مگر اپنی اپنی جگہ منفرد لوگ ہیں۔ سب کا رنگ جدا جدا ہے اور محمود کی آنکھ ہر رنگ میں وا ہو جاتی ہے۔

اسے خواہش رہتی ہے کہ آئینے میں جھلکتے ہوئے ان رنگارنگ نقوش کو آئینے سے نکال کر تصویر میں ڈھال لے۔ اس افتاد طبع کے باعث اس نے بیتے ہوئے لاہور کے منتشر اوراق کو بڑی رغبت سے سمیٹنے کی کوشش کی ہے اور اپنی پسندیدہ شخصیات کی چلتی پھرتی تصویریں اپنے قلم سے بنائی ہیں۔ اس کی تحریریں ”شرف ہم کلامی“ ، ”لاہور۔ شہر پر کمال“ اور ”گزری ہوئی دنیا سے“ اسی تکرار تمنا کی آئینہ دار ہیں اور اب محمود کی تازہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے جس کا موضوع شمس الرحمن فاروقی کی پہلو دار شخصیت ہے۔ فاروقی صاحب بلاشبہ ہمارے معاصرین میں ایک Living Legend کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے کام کا تنوع محیر العقول ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں ادیب، شاعر، نقاد، محقق، زبان دان، افسانہ نویس، ناول نگار، مقرر اور نہ جانے کیا کیا کچھ تھے۔ ان کی ادارت میں شب خون نے ایک رجحان ساز ادارے کا کردار ادا کیا۔ مگر علم و فضل کے پھیلاؤ نے ان کی شخصیت کو ذرا بھی بوجھل نہیں کیا۔ وہ ہر کس و نا کس سے ایک برجستہ و بے تکلف انداز میں ملتے تھے اور ایک ہی ملاقات میں ہر نئے ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ ان کے مزاج میں وہ سچا انکسار تھا جو وسعت علم کا فطری ثمر ہے۔

محمود الحسن کی یہ کتاب مختصر ہونے کے باوجود فاروقی صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کا خاصا گہرا اور موثر تعارف کراتی ہے۔ یہاں ہمیں شمس الرحمن فاروقی بیشتر خود بولتے نظر آتے ہیں۔ ان کی ذاتی اور فنی زندگی کے بارے میں اکثر کلیدی معلومات اس میں موجود ہیں۔ فاروقی صاحب کو ناول لکھنے کا خیال کیسے آیا؟ ان کے ہاں لکھنے کے عمل کی کیا نوعیت تھی؟ کیا کئی چاند تھے سر آسماں تاریخی ناول ہے؟ ناول کی تخلیق میں داستانوں کا کیا کردار ہے؟ تخلیق اور تحقیق میں سے کیا زیادہ اہم ہے؟ فن ترجمہ کے بارے میں فاروقی صاحب کے کیا خیالات ہیں؟ فکشن میں ان کے نزدیک قرة العین حیدر، انتظار حسین، منٹو اور بیدی کی کیا درجہ بندی ہے؟ نیر مسعود کس مرتبے پر فائز ہیں؟ اردو افسانے میں ترقی پسندوں کا کیا کردار ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ بہت سے بنیادی مباحث پر جامع اشارات مل جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں فرانسیسی، روسی اور انگریزی فکشن کے شاہکاروں پر محاکمہ، ایڈورڈ سعید کی اورینٹل ازم پر تبصرہ اور اس کے نظریات کی اساسی قدر و قیمت۔ منیر نیازی کی اچھوتی شاعری، احمد مشتاق کا طلسم فن، جون ایلیا کے ہاں ٹیلنٹ اور اس کا استعمال، ظفر اقبال کا کمال فن۔ غرض ادبی مباحث کی ایک قوس قزح ہر ہر صفحے پر سجی ہوئی ہے۔

در تہ ہر حرف غالب چیدہ ام میخانہ ای

”مہر افشاں فاروقی کے حالات و خیالات“ بھی کتاب کا ایک اہم حصہ ہیں اور ایک اعتبار سے شمس الرحمن فاروقی صاحب ہی کی شخصیت کی ایک توسیع مہیا کرتے ہیں۔

آخر کتاب میں فاروقی صاحب کے دو خطوط نیز ”کمال کے شہر میں تین باکمال“ کے عنوان سے ان کی ایک تحریر شامل ہے۔ فاروقی صاحب نے محمودالحسن کو جس طرح داد دی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمود ان کے دل کے کس قدر قریب تھا۔

میں اپنی بات کا اختتام فاروقی صاحب کے خط کی چند سطور پر کروں گا جو انھوں نے انتظار صاحب کے حوالے سے محمود الحسن کی کتاب شرف ہم کلامی کے بارے میں لکھی ہیں :

”مبارک باد، کہ تم نے اتنے اچھے آدمی کی باتوں کو اس خوبی سے اس چھوٹی سی کتاب میں بند کر لیا۔ تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ اپنے سوال یا اپنی طرف سے کوئی بات شامل نہیں کی۔ انتظار مرحوم کی شخصیت میں جو کھرا پن تھا، جو دل نوازی تھی وہ سب ان کے ہی الفاظ میں ادا ہو گئی۔“

میں یہی سب کچھ محمود کی اس تازہ کتاب کے بارے میں کہنا چاہوں گا۔ یہاں بھی محمود کی خوبی یہی ہے کہ وہ خود بیچ میں نہیں کودتا۔ ہمیں فاروقی صاحب کے ساتھ بٹھا کر خود دور کھڑا مسکراتا رہتا ہے۔

Facebook Comments HS