بے داغ سیاست دان رحیم بخش سومرو


بے داغ سیاست دان رحیم بخش سومرو جو سندھ کی عظیم ترین سیاسی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ 20 اکتوبر 1919 میں شکار پور خاندان میں پیدا ہوئے، رحیم بخش سومرو، ابتدائی تعلیم مدرسہ اسکول نوشہرو فیروز سے حاصل کی۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ کالج چلے گئے۔ وہ اللہ بخش سومرو کے بڑے بیٹے تھے، جو صوبے کی خود مختاری حاصل کرنے اور 1935 میں بمبئی پریزیڈنسی سے الگ ہونے کے بعد تقسیم سے پہلے سندھ کے پہلے وزیر اعظم بنے تھے۔

ابتدائی زندگی میں خوبصورت کاروں کا شوق رکھنے کے باوجود بطور سیاستدان انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ کبھی بڑی اور مہنگی کاروں میں سفر کرتے نظر نہ آئیں اور کراچی سے شکارپور تک، سوزوکی سوئفٹ میں سفر کرتے تھے۔

اپنے چچا اور سسر مولا بخش کی وفات کے بعد وہ سومرو قبیلے کے سردار بنے لیکن انھوں نے کبھی بھی خود کو اپنے قبیلے کے لوگوں کا مالک نہیں سمجھا۔ شکارپور میں صبح ان کے جاگنے سے پہلے ہی لوگ ان کے بیڈ روم میں اپنے اپنے مسائل لے کر جمع ہونا شروع ہو جاتے تھے۔ ان کا کمرہ ہر وقت افراد سے بھرا رہتا تھا اور وہ اپنے محبوب سردار کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہتے۔

ان کی سادگی کی کیا بات کریں کہ بطور وزیر انھوں نے کراچی میں اپنے گھر کے باہر نہ کبھی گارڈ رکھے اور نہ ہی گھر کا باہر والا مرکزی دروازہ بند رکھا کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کے لوگ بلا رکاوٹ ان تک پہنچ سکیں۔

ایک سیاسی گھرانے میں پرورش پانے والے رحیم بخش کا سیاست میں آنا فطری تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی تربیت اپنے والد کی سرپرستی میں حاصل کی۔ انہیں اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی بدولت محمد علی جناح، گاندھی اور عبدالکلام آزاد جیسی سرکردہ شخصیات کی صحبت میں ملنے اور وقت گزارنے کا موقع بھی ملا۔

اگرچہ رحیم بخش پہلے ہی سیاست میں تھے ان کے والد کی موت نے ان کے عزم کو مضبوط کیا اور 1946 تک وہ سندھ اسمبلی کے رکن بن گئے۔ وہاں سے اسے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اپنے 60 سالہ طویل سیاسی کیرئیر میں وہ عبدالستار پیرزادہ، یوسف ہارون، ابراہیم رحیم ٹولہ، سر غلام حسین ہدایت اللہ اور جنرل رحیم الدین خان سمیت کئی کابینہ میں وزارتی عہدوں پر فائز رہے۔

وہ سات مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن اور دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ چار مرتبہ صوبائی وزیر رہے۔

ان کے مرحوم والد اللہ بخش سومرو 1935 میں صوبائی خود مختاری (سندھ کی بمبئی سے علیحدگی) کے نفاذ کے بعد 1938 میں سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔

کئی لوگ، نوجوان رحیم بخش کو ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جو لندن سے منگوائے گئے نفیس کپڑے پہنتے، کراچی میں مہنگی گاڑیاں چلاتے اور کلاسیکی موسیقی سے خاص شغف رکھتے تھے، وہ ایک بے داغ کردار، زبردست اصول پسند انسان اور اپنے عوام سے محبت کرنے والی شخصیت کا ہے۔ بطور سیاستدان ان کی دیانت اور اصول پسندی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے متعدد بار وقت کے طاقتور حکمرانوں کے خلاف اصولی موقف اپنائے رکھا اور اس سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔

ان کے بارے میں اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنی نسل کی ان آخری شخصیات میں شامل تھے جو ذاتی زندگی کی طرح سیاست میں بھی دیانتداری کے قائل تھے۔

رحیم بخش پارلیمنٹ کے پہلے رکن تھے جنہوں نے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا اور وہ واحد امیدوار تھے جنہوں نے 1970 کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر ایک نشست جیتی تھی۔ وہ الٰہی بخش سومرو اور آفتاب شہربان میرانی جیسی کئی سیاسی شخصیات کے سیاسی سرپرست تھے۔ عبدالحفیظ شیخ اور محمد میاں سومرو بھی ایک ہی خاندان سے نکلے۔

انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے وقف کر دی، وہ ایک انتہائی ایماندار، عاجز، انتہائی فیاض اور اصول پسند عوامی رہنما تھے۔ ایک والد کے طور پر، میں نے انہیں ایک اچھا سننے والا اور دوست پایا۔

رحیم بخش ایک بے داغ انسان تھا، جس نے اپنی زندگی میں کئی بار طاقتور حکمرانوں کے خلاف اصولی موقف اختیار کیا۔ ان کا انتقال 85 سال کی عمر میں 24 جنوری 2005 کو کراچی میں اپنے گھر میں ہوا۔

Facebook Comments HS