نارووال کی سیاست اور احسن اقبال
ملک میں جہاں سردی کا راج ہے، وہیں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ ووٹ کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے عوام خاص کر نوجوانوں کو ترغیب اور تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ ووٹ کیا ہے؟ یہ کیوں ضروری ہے؟ اس سے منتخب ہونے والے نمائندوں کے کیا فرائض ہیں؟ ووٹ نہ ڈالنے کا کیا نقصان ہو گا؟ یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات کو ہمارے نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔
کسی نے ووٹ کو مقدس معاشرتی فریضہ کہا ہے تو کسی نے ووٹ کو گولی سے زیادہ طاقتور کہا ہے۔ بہت سے مسلم مفکرین نے ووٹ کو امانت کہتے ہوئے اس کے صحیح استعمال کو اسلامی فریضہ کہا ہے۔ اس کے بعد جو سوال ابھرتا ہے، وہ ہے ووٹ کس کو دیں؟ مبارک صدیقی کہتے ہیں :
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا
وطن کو جو ماہتاب کر دے
اداس چہرے گلاب کر دے
جو ظلمتوں کا نظام بدلے
جو روشنی بے حساب کر دے
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا
اب ایسا یا اس سے ملتا جلتا رہبر کون ہے؟ اسے ہم سب نے اپنے حلقے کے مطابق خود تلاش کرنا ہے۔ خود سے سوال تشکیل دینے ہیں اور پھر دیکھنا ہے کہ ان کے جوابات کے مطابق کون معیار پر پورا اترتا ہے۔
میرا تعلق نارووال سے ہے اور یہاں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 76 بنتا ہے تو میں اسی کے متعلق بات کروں گا۔ 1993 ء سے قبل کے قومی اسمبلی کے الیکشن اٹھا کر دیکھ لیں اور جائزہ لیں کہ نارووال سے کون کون سے امیدوار فاتح ہوتے رہے۔ آپ کو تقریباً ہر دفعہ ہی کوئی مختلف امیدوار فاتح نظر آئے گا۔ سیاست کی اس بے یقینی سے جہاں سیاست دانوں نے ذاتی مفاد نکالا، وہیں نارووال پسماندہ رہ گیا۔ ماسوائے 1991 ء میں نارووال کو ضلع بنانے کے کوئی بھی خاص کام ہوا یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان سب سیاست دانوں پر تاریخ نے گرد ڈال دی اور نارووال کی عوام انھیں یکسر بھول گئے ہیں۔
1993 ء کے الیکشن میں چونتیس پینتیس برس کے نوجوان احسن اقبال نارووال کے سیاسی افق پر ابھرے، ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا، والدہ محترمہ نثار فاطمہ 1985 ء تا 1988 ء تک مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن رہ چکی تھیں۔ جب کہ نانا آزادی سے قبل کے پنجاب میں طویل عرصے تک صوبائی اسمبلی کا حصہ رہے۔ احسن اقبال قومی اسمبلی کا یہ الیکشن تو جیت گئے مگر شومئی قسمت کہ مسلم لیگ (ن) حکومت نہ بنا سکی۔ اسی دور میں حکومت نے اپوزیشن ممبران کو ملنے والے فنڈز تک روک دیے۔
1997 ء کے الیکشن میں احسن اقبال دوسری مرتبہ اسی حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور مسلم لیگ وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ احسن اقبال مسلم لیگ کی پونے تین سالہ حکومت میں اگست 1998 ء تا اکتوبر 1999 ء تک ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن رہے اور ملک کے لیے ”پاکستان۔ 2010“ پروگرام پیش کیا۔ نارووال شہر میں لڑکیوں اور لڑکوں کے کالجز میں نئے بلاک تعمیر ہوئے، متعدد دیہات کو سڑکوں کی تعمیر شروع ہوئی۔ اسی دور میں نارووال کو سوئی گیس کی فراہمی، نارووال سمال انڈسٹریل سٹیٹ اور ہاکی، کرکٹ سٹیڈیم کے منصوبے شروع کیے گئے جو بدقسمتی سے اکتوبر 1999 ء کے مارشل لاء کے بعد لپیٹ دیے گئے۔
2002 ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کو قومی اسمبلی سے باہر رکھنے کے لیے ہرایا گیا، ان میں احسن اقبال بھی شامل تھے۔ یہاں سے جتوائے جانے والی امیدوار نے قومی اسمبلی کے اندر اور باہر جو کارکردگی دکھائی، حلقے کی عوام اس سے خوب واقف ہیں۔ ان کی کارکردگی کی طرح عوام نے انھیں آنے والے الیکشنوں سے بھی غائب کر دیا۔
2008 ء میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت میں احسن اقبال مختصر عرصے کے لیے وفاقی وزیرتعلیم رہے اور ڈیڑھ دو ماہ بعد ہی مسلم لیگ اپوزیشن کا حصہ بن گئی۔ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت کے توسط اور 2013 ء کی مسلم لیگ حکومت میں منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے احسن اقبال نے 2018 ء کے نارووال کو 2008 ء کے نارووال سے حیران کن حد تک تبدیل کر دیا۔ یہ تمام منصوبے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ؛ یونیورسٹی آف نارووال، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نارووال کیمپس، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز نارووال کیمپس، سپورٹس سٹی نارووال، نارووال میڈیکل کالج، پوسٹ گریجویٹ کامرس کالج نارووال، گورنمنٹ محمود خان ٹیکنالوجی کالج، نارووال ریلوے سٹیشن، کینسر ڈائگناسٹک سنٹر نارووال، سینکڑوں سکولوں کی اپ گریڈیشن وغیرہ۔
2024 ء کے الیکشن میں احسن اقبال پہلے سے زائد ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ عوام کے سامنے جا رہے ہیں۔ جب کہ ان کے مخالفین ماسوائے ان کے بنائے منصوبوں پر بلاجواز تنقید کا بیانیہ ہی سامنے رکھ پائے ہیں۔
کوئی امیدوار کوٹہ سسٹم کا بہانہ بنا کر نارووال کی یونی ورسٹیوں کا مخالف ہوا پڑا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ عوام کے دلوں میں کیسی دراڑیں اور دیواریں پیدا کر رہے ہیں۔ یونی ورسٹیاں ہی وہ جگہیں ہیں جو ان دراڑوں کو پر اور دیواروں کو گراتی ہیں۔ نارووال کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے کس قیادت کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرنا ہے، یونی ورسٹیاں بنانے والوں کو یا یونی ورسٹیوں کی مخالفت کرنے والوں کو۔ لنڈن بی جانسن نے کہا تھا کہ ”ووٹ وہ سب سے طاقتور آلہ ہے جو انسان نے نا انصافی کو توڑنے اور خوفناک دیواروں کو تباہ کرنے کے لیے وضع کیا ہے“ ۔ 8 فروری کو نارووال کے عوام یہ ووٹ کی طاقت سے ثابت کریں گے


