2024 انتخابی سال


2023 تو جیسے تیسے گزر گیا البتہ سال نو عالمی سطح پہ ایک نئی داستان کے ساتھ شروع ہو رہا ہے جس میں ہونے والی سب سے بڑی کارروائی انتخابات کا انعقاد ہے جس کے اثرات اگلے کئی برسوں تک محسوس ہوں گے۔ ان میں حصہ داری تو اکثر ممالک میں روایتی طور پہ پرانے کھلاڑی ہی حصہ لیتے نظر آتے ہیں مگر پھر بھی یہ جستجو نظام کی روانی کے لئے لازم ہے۔ اس برس دنیا کے دو ارب لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس سال کا سب سے پہلا انتخاب بنگلہ دیش میں 7، جنوری کو ہے جہاں بنگلہ بندھو کی بیٹی حسینہ واجد پچھلے پندرہ برس سے برسر اقتدار ہے۔

76 سالہ خاتون ایک جابر حکمران ثابت ہوئی ہیں جنہوں نے کچھ قابل قدر اقدامات کر کے اپنا ایک مخصوص مقام بنا لیا ہے اور اب تازہ انتخاب جیتنے کی امید ہے۔ پھر بھارت اور امریکہ میں بھی اسی سال انتخابات ہونگے۔ انڈونیشیا، روس اور میکسیکو میں بھی اسی برس انتخابات ہونگے۔ سب سے زیادہ توجہ طلب انتخاب امریکی صدارتی الیکشن ہے جو نومبر میں ہو گا جہاں 34 کروڑ لوگ اپنا ووٹ ڈالیں گے اور اس کے اثرات عالمی سیاست پہ مرتب ہونگے۔

صدر جو بیڈن جو اکیاسی برس کی عمر میں اگلا انتخاب لڑیں گے اور مقابلہ شاید ڈونلڈ ٹرمپ 77 سالہ سے ہو گا۔ بہرحال امریکی انتخابات میں دوڑ بزرگوں کی ہے۔ ٹرمپ شاید ایک نئی تاریخ رقم کردے جب وہ دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب جیت گیا تو دوسرا امریکی ہو گا جو وقفے سے صدر بنے گا اس سے پہلے گرور کلیولینڈ جو پہلے 1884 میں اور دوبارہ 1892 میں صدر بنا تھا۔ ادھر روسی صدر ولادیمیر پوٹن بھی اگلی مدت کے لئے پھر پر تول رہے ہیں۔

پوٹن 71 سال کی عمر میں مسلسل پانچویں بار یہ اعزاز حاصل کریں گے۔ روس میں 14 کروڑ لوگ ووٹ 15۔ 17 مارچ کو دیں گے۔ انہیں اقتدار سنبھالے ہوئے 25 سال ہو گئے ہیں اور ممکن ہے وہ جوزف سٹالن کا تیس برس کی مسلسل حکمرانی کا ریکارڈ بھی توڑ دیں۔ ویگنائر گروپ کے سربراہ یوگینی پیرگوزین کے ہلاکت کے بعد اب کوئی خاص سیاسی مزاحمت بھی آڑے نہیں آ رہی البتہ یوکرائن میں اگر ناکامی ہوئی تو پھر ان کے اقتدار کو شاید ایک شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

اس برس کا سب سے بڑا انتخابی معرکہ بھارت میں ہونے جا رہا ہے جہاں اپریل مئی کے دوران عام انتخابات ہونگے جہاں نریندر مودی کی بھاری اکثریت سے گویا جیت مقدر ہے۔ انہوں نے اپنی ساکھ عالمی اور مقامی سطح پہ بہت مضبوط کرلی ہے۔ 13 جنوری کو تائیوان میں بھی عام انتخابات ہونگے۔ یہاں لائے چنگتئی جو ایک 64 سالہ صدارتی امیدوار ہیں۔ چین کو شدید تلملاہٹ ہے کہ کہیں وہ اپنی مکمل آزادی کا اعلان نہ کر دیں اسی خوف و الم کے عالم میں یہ انتخابات ہونگے۔

انڈونیشیا میں 28 کروڑ لوگوں نے اس سال انتخابات میں اپنا ووٹ دینا ہے۔ جہاں صدر جوکو وڈوڈو جو 62 برس کے ہیں مگر ملکی قوانین کے تحت وہ اب مزید الیکشن نہیں لڑ سکتے اب ان کا ایک بیٹا گبران راکابومنگ راکا تخت سنبھالنے کے لئے بیقرار نظر آتا ہے جو 36 سال کی عمر میں صدارتی انتخاب لڑے گا اور اپنے والد کے سنہری دور کو مزید وسعت دینے کا متمنی ہے ان کا مقابلہ وزیردفاع 72 سالہ پر اباؤ سوبیآنتو سے ہے جو ان کے والد کے پرانے ساتھی رہے ہیں مگر اب ان کے سخت ناقد ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صدر جو کو وڈوڈو ایک خاندانی سلطنت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اس برس افریقہ کے مختلف ممالک میں بھی عام انتخابات ہونگے مثلاً مالی، چاڈ، اور برکینا فاسو اور جنوبی افریقہ میں جہاں نیلسن منڈیلا کی پارٹی پچھلے تیس برس سے لگاتار برسر اقتدار ہے۔ البتہ اب کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سائرل رامپوسھا کو ایک اتحادی حکومت سازی کرنا پڑ جائے بہرحال حتمی بات تو انتخاب کے بعد ہی واضح ہوگی۔ میکسیکو میں ایک کڑا مقابلہ دو خواتین امیدواروں کے درمیان ہے کلاڈیا شینبام جو 61 برس کی ہیں اور میکسکو شہر کی مئیر رہ چکی ہیں۔

ان کی مدمقابل ساٹھ سالہ زوٹیل گالویز ہیں جو اپوزیشن کی بڑی جماعت کی نمائندہ ہیں۔ المختصر عام انتخابات کا بروقت انعقاد ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے لازم ہے۔ عوام اپنا تازہ اعتماد دے کر جس پارٹی اور افراد کو یہ فریضہ سونپ دیں وہاں ترقی لازم ہے۔ مگر 8 فروری ہمارے لئے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے جہاں بے یقینی کی دبیز تہہ طاری ہے مختلف حلقے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جستجو میں سرگرداں ہیں وہیں ایک خوش آئند بات ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ نے مسلح افواج کی ہمنوائی کرتے ہوئے یقین دلایا ہے یہ انتخابات بروقت ہونگے۔ اگر یہ غیر جانبدارانہ ہوئے تو قوم کو یک گونہ قرار آ جائے گا۔ ملک شاہراہ ترقی پر رواں ہو سکے گا۔

Facebook Comments HS