بھٹو ہمیشہ زندہ کیوں رہے گا؟


ذوالفقار علی بھٹو نے سوچ سمجھ کر کے موت کو گلے لگایا، بھٹو صاحب اپنی جیل میں لکھی ہوئی آخری کتاب ”اگر مجھے قتل کر دیا جائے“ میں لکھتے ہیں کہ تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے میں فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔ اگر بھٹو صاحب فوج سے ڈیل کر لیتے تو فوج کے ہاتھوں بچ جاتے اور تاریخ کے ہاتھوں مارے جاتے۔ ہاں وہ ایک الگ موضوع ہے کہ آج کی پیپلز پارٹی کو بھٹو صاحب کے نظریات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے جب ان پر مشکلات سوار ہوتے ہے تب بھٹو صاحب کا نام لیتے ہیں۔

بھٹو صاحب کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی ائر فورس کو شام بھیجا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے ذریعے ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ اسلامی بلاک قائم کرنا، اتوار کے بجائے جمعہ کے دن چھٹی کروائی، شراب پر پابندی لگائی، احمدیوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا اور پاکستان کو آئین دینا اور بہت سارے دیگر کام جو بھٹو صاحب نے سرانجام دیے۔

بھٹو صاحب کے خلاف امریکی سازش ہوئی تھی جس کا ذکر بھٹو صاحب نے اپنی آخری کتاب ”اگر مجھے قتل کر دیا جائے“ میں اپنے خلاف سازشوں سے پردہ اٹھا ہے۔

اور دیگر کتابوں مین امریکی سازش کا ذکر ہوا ہے جیسے کہ سابق آئی ایس آئی افسر برگیڈیئر رٹائرڈ سید احمد ارشاد ترمذی نے اپنی کتاب ”حساس ادارے“ جس میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ انہوں نے امریکی سفارتخانے کے ٹیلیکس روم موصول ہونے والا خفیہ پیغام وصول کر لیا تھا جس میں امریکی سفیر کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ بھٹو کو کسی بھی قیمت پر پھانسی کی سزا دلوائی جائے۔ امریکہ نے فوجی جرنیلوں، ضمیر فروش مذہبی ٹھیکیداروں کو بھی بھٹو صاحب کے خلاف استعمال کیا۔ چوالیس سال گزرنے کے بعد بھٹو صاحب کو انصاف ملنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

بھٹو صاحب کے ساتھ نا انصافی کرنے والے ججوں میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک بیان میں یہ اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ”یہ بیان 23 اگست 1996“ کو شائع ہوا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کو بخوبی یہ اندازہ تھا کہ مردہ بھٹو اس کے لیے زندہ بھٹو سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ان کو تصویریں بنانے کا بڑا شوق تھا اس کے لیے ایک فوٹو گرافر رکھا ہوا تھا جو بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کے باوجود وہ تصویریں بناتا رہا جس کا تذکرہ جیل کے سیکورٹی انچارج کرنل رفیع الدین اپنی کتاب ”بھٹو کے آخری 323 دن“ میں کرتے ہیں کہ،

فوٹو اس لئے بنوائے گئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے ختنے ہوئے تھے یا نہیں؟ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے جیل حکام کو یہ بتایا ہوا تھا کہ بھٹو کی ماں ہندو تھی جسے ان کے والد نے زبردستی اپنی بیوی بنایا تھا اور بھٹو صاحب کا اصلی نام نتھا رام تھا تاہم کرنل رفیع الدین نے گواہی دی ہے کہ جب فوٹوگرافر نے بھٹو صاحب کے جسم کے درمیانی حصے کے بہت نزدیک سے فوٹو لئے تو پتا چلا کہ ان کا اسلامی طریقے سے ختنہ ہوا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ 1970 ء کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کے ساتھ وہ کوئی سمجھوتہ نہ کر پائے اور اقتدار اکثریتی جماعت عوامی لیگ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا لیکن اکثریتی جماعت کے خلاف ملٹری آپریشن ہو گیا اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ ٹوٹے پھوٹے پاکستان کا وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے بلوچستان میں نیپ کی حکومت برطرف کی، نیپ پر پابندی لگائی اور فوجی آپریشن کی منظوری دی۔

ضیاء الحق کو بھی ان ہی قوتوں نے مروایا جس کے کہنے پر انہوں نے بھٹو صاحب کو پھانسی دی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ معاف کرے موت کے بعد جسد خاکی کسی فوٹو کی قابل نہ رہا۔

یہ تاریخ کی نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے۔ احمد رضا قصوری کی دنیا بھر میں وجہ پہچان یہ ہے کہ وہ بھٹو صاحب کے خلاف مقدمہ قتل کے مدعی تھے یہ مقدمہ تب درج ہوا تھا جب بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے۔ احمد رضا قصوری بڑے فخریہ انداز سے کبھی کبھی یہ کہتے ہیں کہ بھٹو کو انہوں نے پھانسی لگوایا یہی وہ صاحب ہیں جو ایک اور فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے وکیل بنے تھے۔ احمد رضا قصوری یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مقدمہ درج کروانے کے چند سال بعد آپ نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے بھٹو کو پاکستان کا عظیم رہنما اور نجات دہندہ کیوں قرار دیا تھا؟ اور جب آپ کو پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو پھر آپ نے جنرل ضیاء الحق کو یہ مقدمہ دوبارہ کیوں یاد دلوایا؟

بھٹو صاحب کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب جمع کروایا جس میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں جبکہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں اور تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی یو ایس بی اور سی ڈی سمیت انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کرائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ 8 جنوری کو ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کرے گا۔

Facebook Comments HS