نام میں کیا رکھا ہے؟
مسیحی مقدس ہستیوں کے ناموں پر انسانوں اور جگہوں کے نام رکھنے کا رواج یورپی اقوام میں قرون وسطیٰ سے رائج ہے۔ میں نے فرانسیسی نسل کے لوگوں اور ان کے زیر اثر علاقوں میں یہ رواج خاص طور پر زیادہ دیکھا ہے۔ مثلاً کینیڈا میں کیوبیک کا صوبہ جو اٹھارہویں صدی تک فرانس کے زیر اثر تھا، وہاں پینتالیس کے قریب شہروں اور قصبوں کے نام، اور دو ہزار سے زیادہ سڑکوں، گلیوں، علاقوں وغیرہ کے نام عیسائی سینٹس (Saints) کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر نام غالباً سترہویں سے اٹھارہویں صدی کے درمیان ہی رکھے گئے ہوں گے، یعنی آج سے تین چار سو برس پہلے۔
لیکن یہ ان کا ماضی ہے۔ حال ماضی سے یکسر مختلف ہے۔
ہر سال موسم سرما میں کینیڈا کے اسی صوبہ کیوبیک کے دارالحکومت شہر کیوبیک کے قریب مکمل طور پر برف سے بنا ایک ہوٹل قائم کیا جاتا ہے۔ پوری دنیا سے لاکھوں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ کچھ شوقین اس ہوٹل میں اضافی رقم ادا کر کے قیام بھی کرتے ہیں۔ یہ ہوٹل بذات خود نہ صرف جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور انجنیئرنگ کا شاہکار ہے، بلکہ دوسری طرف برفانی مجسمہ سازی، اور برف پر کندہ کاری جیسے تخلیقی فنون کا اچھوتا نمونہ بھی ہے۔
لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ اس برس برفانی ہوٹل میں فنکاروں کی تخلیقات میں بھی سائنس کا موضوع نمایاں نظر آیا۔ کہیں مجسموں اور کندہ کاری سے انسانی ارتقا کی کہانی بیان کی گئی تھی تو کہیں ڈی این اے کی ساخت دکھائی گئی تھی۔ ایک دوسرے کمرے میں دیواروں پر فلکیات اور کوانٹم فزکس کے موضوعات پر کندہ کاری تھی۔ ایک طرف کندہ کاری اور روشنیوں کے امتزاج سے نیبولا بنا ہوا تھا تو دوسری طرف ملکی وی کہکشاں، ایک دیوار پر بلیک ہول بنا تھا اور دوسری پر فزکس کی مساواتیں جیسے کہ شروڈنگر (Schrödinger) کی مشہور مساوات کا ایک حل۔ ایک کمرہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے موضوع پر تھا اور ایک رابطے کے جدید ذرائع پر۔ سائنس سے ہٹ کر موسیقی اور وقت کے موضوعات پر بھی مجسمہ سازی اور کندہ کاری کی گئی تھی۔
یہ ان معاشروں کی ترقی کی ایک انتہائی معمولی سی مثال ہے۔ صرف اس ادنیٰ سے شاہکار کو کھڑا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی اور فنکاری میں مہارت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطح کی شعوری اور ذہنی ترقی بھی درکار ہے۔ سب سے بڑھ کر ایسی کمرشل تخلیقات میں عوامی پسندیدگی اور پذیرائی کا عنصر خاص طور سے ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ یعنی تخلیق کار اور ہوٹل کے مالکان اور سرمایہ کار جانتے ہیں کہ اس موضوع پر بنائی گئی تخلیقات عوام میں بہت زیادہ پسند کی جائیں گی اور انہیں بھاری منافع ملے گا۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی تخلیق کی عوامی پذیرائی کے لئے کم از کم یہ ضروری ہوتا ہے کہ لوگ اس کو سمجھ سکیں اور اس سے جڑ سکیں۔ عوام کہیں کی بھی ہو انٹرٹینمنٹ چاہتی ہے۔ عام لوگ سمجھ سے باہر دقیق مظاہر فنون کے ساتھ ذہنی اور جذباتی سطح پر جڑ نہیں سکتے اس لئے پیسہ اور وقت خرچ کر کے انہیں دیکھنے کے لئے جانے پر راضی نہیں ہوتے۔ یعنی ان معاشروں کی عوام کا بڑا حصہ ذہنی اور شعوری ترقی کی اس سطح تک پہنچ چکا ہے کہ سائنس کے ان پیچیدہ موضوعات سے لطف اندوز ہو سکے۔ اس کے برعکس ایسی کسی تخلیق کو پاکستان جیسے ملک میں کتنی پذیرائی حاصل ہوگی؟ چلیں مان لیا یہاں غربت بہت ہے، کیا سعودی اور قطری عوام ایسی نمائشوں کو پسند کرے گی؟
تو بھلے ہی برفانی ہوٹل ژاک کارٹیر نامی فرانسیسی مہم جو کے نام سے منسوب دریا کے کنارے پر بنا ہو، اور ژاک فرانسیسی زبان میں یعقوب کو کہتے ہوں، اہم بات ہوٹل کی تعمیر اور عوامی پذیرائی میں سائنسی اور شعوری ترقی کے کردار کی ہے۔


