نوٹوں سے مشروط موڈ


”امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے این اے 6 دیرپائن کی نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے۔ تیمرہ گرہ میں کاغذات جمع کرانے کے موقع پر مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے چا ر بنیادی مطالبے کیے ہیں :

اول :قومی انتخابات شفاف، غیرجانبدارانہ ہوں اور الیکشن مہم میں دولت کی ریل پیل اور نمائش کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔

دوم :الیکشن ضابطہ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
سوم : انتخابات میں بیرونی عناصر اور اداروں کی مداخلت نہ ہو۔
چہارم:الیکشن کمشنر اپنے حلف کی پاسداری کرے

ان مطالبات کا صاف اور کھرا جواب تو یہی ہے کہ ”سوری سر! کوئی مطالبہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔“ اگر یہ مطالبات قبول کر لیے گئے تو بہت سوں کے مقدر مکدر ہو جائیں گے۔ یہ وعدے ایسے ہی ہیں جیسے میڈیکل کا ہر طالب علم کہتا ہے ”میں ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کروں گا“ اور پھر ڈاکٹر بن کر وہ صرف اور صرف اپنی خد مت کرتا ہے کیونکہ ڈاکٹر بننے تک اس سے زیادہ دکھی کوئی نہیں رہتا۔ جہاں تک سوال ہے جمہوریت میں عوام کے حقوق کی پاسداری کا ، یہ محض فریب ہے۔ پتھروں پہ پڑی مٹی جسے حقائق کی ہلکی سی بارش بہا لے جائے۔ آئیے صرف پہلے نکتے دولت کی ریل پیل پر ہی بات کر کے دیکھ لیتے ہیں۔

وطن عزیز میں الیکشن کے موقع پر سب سے کم ”عقل“ اور سب سے زیادہ ”پیسہ“ خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم ایک ایسی جمہوریت سے اپنیٔ تاریخ اور تقدیر کو بنانے اور اس کا رخ موڑنے میں لگے ہوئے جس میں اصول، قواعد اور قوانین نہیں پیسہ بنیادی، بہت گہرا اور ہمہ گیر کردار ادا کرتا ہے اور اس میں کوئی عیب بھی نہیں سمجھا جا تا۔ اصغر خان کیس یاد ہے جس میں سپریم کورٹ نے 1990 کے انتخابات میں سابق صدر غلام اسحاق خان، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کی طرف سے ایوان صدر میں سیاسی سیل کے قیام اور سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو رقوم دینے کی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام اور اس کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک بینک سے چودہ کروڑ روپے حاصل کیے گئے تھے جس میں آدھی سے زائد رقم مختلف سیاستدانوں اور جماعتوں میں بانٹ دی گئی۔ 56 سے زائد شخصیات تھیں جنھیں ادائیگیاں کی گئی تھیں۔ کیا یہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد کسی کو شرمندگی محسوس ہوئی؟ کیا اس کے بعد الیکشن میں پیسے کا استعمال کبھی قانونی حدود کے اندر رہا؟

پاکستان میں جمہوریت میں پیسے کا ناروا کردار ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ الیکشن لڑوانے اور جتوانے میں قانون شکنی کہیں یا تجاوز جمہوریت میں پیسے کے علاوہ کوئی اور چیز بنیادی ستون نہیں۔ ستم در ستم یہ مسئلہ صرف پاکستان کے جمہوری نظام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر جمہوریت کا حصہ ہے۔ ہر جگہ الیکشن موڈ نوٹوں سے مشروط ہے۔ امریکا میں بھی با انداز دیگر یہی ہوتا ہے۔ امریکا میں جو امیدوار صدارتی الیکشن کے لئے کھڑا ہوتا ہے اپنے الیکشن اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے عام لوگوں سے فنڈنگ کے ذریعے ایک مخصوص رقم جمع کرنی ہوتی ہے یہ فنڈز اکٹھا کرنے کے بعد اسے حکومتی خزانے سے انتخابی مہم چلانے کے لئے پیسے دیے جاتے ہیں۔

بھرپور انتخابی مہم چلانے کے لئے چونکہ ڈالر پانی کی طرح بہانا لازم ہے اس لئے امیدوار کو عام شہریوں کے علاوہ سرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ سرمایہ دار کمپنیاں اس بنیاد پر امیدوار کو سرمایہ فراہم کرتی ہیں کہ کامیاب ہونے کے بعد وہ نہ صرف ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا بلکہ ان کے حق میں قانون سازی بھی کرے گا۔ ایک عام آدمی کے مقابلے میں ان بڑی بڑی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے پاس چونکہ ڈالرز کے پہاڑ ہیں وہ جسے مالی سپورٹ کریں اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

مگر قانونی طور پر رکاوٹ یہ تھی کہ بڑی بڑی کمپنیاں امیدوار کو براہ راست رقوم مہیا نہیں کر سکتی تھیں لیکن غالباً 2011 میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ مشکل بھی حل کردی اور ایک فیصلے میں قرار دیا کہ بڑی بڑی کمپنیاں انتخابی مہم کے لئے کسی بھی امیدوار کو یا اپنے پسندیدہ امیدوار کو براہ راست پیسہ دے سکتی ہیں۔ جواز یہ کے جس طرح ایک فرد کو آزادی ہے اسی طرح بڑی بڑی کمپنیاں بھی یہ حق رکھتی ہیں کہ اپنے پسندیدہ امیدوار کو فنڈز دے سکیں۔ یوں امریکی جمہوریت میں پیسے کی عملداری اور اقتدار تک پہنچنے کے لئے پیسے کے کردار کو نہ صرف تسلیم کر لیا گیا ہے بلکہ اسے قانونی حیثیت بھی دے دی گئی ہے۔ پاکستان میں تا حال قانونی طور پر یہ جرم ہے۔

جمہوریت میں ایوان اقتدار تک رسائی پیسے کا کرشمہ ہے۔ لوگوں کی، لوگوں کے لئے اور لوگوں پر مشتمل جمہوریت اگرچہ دنیا میں کبھی وجود نہیں پا سکی لیکن اب جمہوریت کا یہ تصور بھی فرسودہ ہی نہیں بلکہ متروک ہو چکا ہے۔ 6 نومبر 2012 کے امریکی انتخابات میں مختلف گروپوں نے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کو چندہ میں جو رقم دی ہے وہ 36 کروڑ 16 لاکھ 38 ہزار 9 سو 28 ڈالر ہے۔ پاکستانی روپے میں یہ رقم 87 ارب 29 کروڑ 20 لاکھ 5 سو 34 روپے بنتی ہے۔

یہ امریکا کے مہنگے ترین الیکشن تھے۔ امریکی بینڈ باجے میں شامل باجے کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی حالیہ الیکشن کو جمہوریت کے حسن سے تعبیر کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تشہیری مہم اور انتخابی دوروں میں خرچ کی گئی 6 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم نے 32 کروڑ امریکیوں کی زندگی کا فیصلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

اس امریکی الیکشن میں صرف صدر اوباما اور مٹ رومنی کے نام سامنے لائے گئے حالانکہ اور بھی امیدوار تھے لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ انتخابی مہم چلا سکیں امریکی میڈیا میں ان کا نام تک نہیں لیا گیا۔ یہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ جمہوریت میں جس کے پاس پیسے ہوں گے صرف وہی انتخابات میں حصہ لینے کا حقدار ہے۔ ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکنز دونوں امریکا کے مراعات یافتہ طبقوں کے مہروں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔ مغربی جمہوریت عملی طور پر مراعات یافتہ طبقوں کی ایجنسی بن کر رہ گئی ہے جو مٹھی بھر امیروں کو بہت زیادہ امیر اور غریبوں کی غربت میں بے پناہ اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے۔

امریکا میں جب جب کسانوں مزدوروں اور دانشوروں نے اپنی پارٹیاں بنائیں انھیں سرمایہ دار طبقے نے پنپنے نہیں دیا۔ امریکی جمہوریت وال اسٹریٹ اور پینٹاگون کے تابع ہے۔ ایک فیصد آبادی ملک کی ننانوے فیصد دولت پر قابض ہے اور اس کے بل بوتے امریکا پر حکومت کر رہی ہے جب وال اسٹریٹ پر قبضہ کی تحریک نے سر اٹھایا تو دھرنا دینے والوں پر ڈنڈے برسائے گئے اور آنکھوں میں پچکاریوں سے پسی ہوئی مرچیں ڈال کر اندھا کر دیا گیا۔

ماضی میں پاکستان میں اصغر خان اور اب امیر جماعت اسلامی جیسے کچھ دیوانے ہر الیکشن کے موقع پر الیکشن مہم میں پیسے کا بے حد و حساب استعمال روکنے کی بات کرتے ہیں۔ جمہوریت کو بے قاعدگیوں اور سانحوں سے بچانے کے لئے کرپٹ افراد سے پاک کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟ پیسے کا ناجائز استعمال اور کرپشن جمہوری نظام کا لازمی جز ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ الیکشن شفاف ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمارے یہاں ہر جگہ دونمبری ہے۔

نصف ایمان ہم صفائی کو نہیں ہاتھ کی صفائی کو سمجھتے ہیں۔ ہمارے یہاں نیچے سے اوپر تک ہر جگہ کرپشن ہے۔ کسی بھی محکمے میں کوئی کام بغیر پیسے اور رشوت کے کروا کے دکھا دیجیے! ہم نے جنرلوں کو بھی آزما کر دیکھ لیا اور سویلینز کو بھی ہر عہد میں کرپشن کا گراف اوپر ہی اوپر گیا ہے۔ پرانوں کو بھی تین تین چار چار مرتبہ آزما کر دیکھ لیا اور تبدیلی سر کار کو بھی جس نے پہلی مرتبہ ہی وہ دند مچائی کہ پچھلوں پر پیار آنے لگا۔

جو جنرلز بڑے چاؤ سے عمران خان کو لائے تھے بعد میں انھوں نے ہی نواز شریف کا راستہ صاف کیا۔ جب پورا معاشرہ ہی کرپٹ ہو تو الیکشن بھی اسی کرپٹ معاشرے کا عکس اور سایہ ہوں گے۔ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے آسمان سے تو لوگ اترنے سے رہے۔ اور اگر چلیں مان لیں کہ الیکشن والے دن یکا یک ہم سب فرشتے بن جائیں اور کسی نہ کسی طرح ملک میں صاف الیکشن کا انعقاد ممکن ہو سکے تو کیا شفاف انتخابات کا کوئی فائدہ عوام کو ہو گا۔

جن ممالک میں شفاف الیکشن ہوتے ہیں کیا وہاں عوام کے مسائل حل ہوئے ہیں یا ان میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کی مثال سامنے ہے۔ بھارت کی نام نہاد ترقی کی قیمت اس ملک کے مسلمان اور دیگر اقلیتیں چکا رہی ہیں۔ نریندر مودی کی کامیابی مسلمانوں کے قتل عام اور دیگر اقلیتوں کے استیصال سے مشروط ہے۔ الیکشن صاف شفاف ہوں یا کرپٹ نظام تو سرمایہ داریت کا ہی کام کرے گا۔ جو عصبیتوں کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان صدیوں قائم رہے اگر سرمایہ دارانہ نظام ہے جمہوریت ہے انسان کا بنایا ہوا نظام اور قوانین نافذ ہیں انسانیت کی نجات ممکن نہیں۔ نجات صرف اسلام کے نظام میں ہے جس کے ہم پلہ کوئی دوسرا نظام نہیں۔

Facebook Comments HS