حرام خور پارسا
حرام کیا ہے اور حلال کیا ہے اگر اس بحث کو ہم بعد کے لیے اٹھا رکھیں اور جائز نا جائز پر بات کریں تو میرے نزدیک غلط طریقے سے کمایا یا کھایا جانے والا مال حرام یا ناجائز ہے۔
میں چوں کہ ایک امیر علاقے میں رہتا ہوں اور میری بیٹھک بھی معاشرے کے امرا، سیاست دان اور بیوروکریسی کے ساتھ رہی ہے جہاں چند ایک کو چھوڑ کر تقریباً سب ہی ایک طرح سے کھوجی ہیں۔ یعنی اب جب کہ ہمارا معاشرہ اوپر سے نیچے تک معاشی و اخلاقی سمیت ہر قسم کی کرپشن کا دل دادہ ہو چکا ہے اور رشوت، کمیشن لینا حق اور دینا لازمی ہو گیا ہے تب اگر ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کی کرپشن کرنے والا یہ کہتا نظر آئے کہ یار دیکھنا سیکورٹی گارڈ کہیں لوگوں سے 100 پچاس روپے پکڑ کر پرائیویٹ گاڑیاں پارک نہ کروا رہا ہو۔ مجھے عجیب لگتا ہے۔ مجھے عجیب لگتا ہے جب ہر سودے پر دونوں جانب سے کمیشن پکڑنے والا افسر چائے بسکٹ کے بل دیکھ کر اپنے نائب قاصد سے ایک ایک روپے کا حساب لے رہا ہو اور ساتھ یہ بھی کہتا جا رہا ہو کہ تم لوگ ہر چیز میں سے دس بیس روپے مارتے ہو۔ تب مجھے عجیب لگتا ہے۔
جو لوگ رات کو رشوت کے لاکھوں روپے گھر میں لے کر داخل ہوتے ہیں اور جن کو تنخواہ کے علاوہ بھی لاکھوں روپے مالیت کی مراعات مفت میں مل رہی ہوتی ہیں اُن لوگوں کی بیگمات اپنے ملازمین سے صبح اس بات کی تحقیقات کر رہی ہوتیں ہیں کہ پرانے اخبارات کی ردی بیچ کر کس نے تین چار سو روپے کھائے، وہ سبزی والے کو ناجائز منافع کمانے کا الزام لگا رہی ہوتی ہیں۔
ایک سرکاری دفتر جانے کا اتفاق ہوا جہاں ایک دل چسپ معاملہ دیکھنے کو ملا ایک پرائیویٹ کمپنی کے سویپر کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ لگا دیا گیا تھا جہاں سے وہ واپس پرانی جگہ آ گیا۔ افسر اسے ڈانٹ رہا تھا کہ تمہاری جرت کیسے ہوئی اپنی مرضی سے واپس آنے کی جب تمہیں ہم نے وہاں بھیجا تھا۔ وہ سویپر بھی بلا کا سادہ انسان تھا بولا سر وہاں کی صفائی کر کے آیا ہوں۔ صاحب نے کہا ہم نے تمہیں پورے دن کے لیے وہاں رکھا تھا۔
سویپر رونے والے انداز میں بولا مجھے یہیں رہنے دیں یہاں دو تین لوگ میرے کام سے خوش ہو کر سو پچاس روپے دے دیتے ہیں۔
بس اتنا سننا تھا کہ وہاں موجود افسر کو جلال آ گیا کون ہے جو اس کو پیسے دے کر خراب کر رہا ہے معلوم کرو اور ان سب کے انکوائری کرو اور اس سویپر کو اسی وقت فارغ کرو۔
میں بڑی دل چسپی سے سارا مقدمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا بعد میں وہاں موجود ایک صاحب سے پوچھا کہ بھائی سو پچاس روپے اگر کوئی اپنی مرضی سے کسی غریب کو دے دیتا ہے تو اس میں بری بات کیا ہے۔ وہ بولا ان سویپرز کو پورے 18 ہزار تنخواہ ملتی ہے پھر بھی یہ باز نہیں آتے۔
میں نے کہا آپ کی تنخواہ کتنی ہے تو وہ پہلے تو خاموش رہا بھی بولا یہ کوئی 60 ستر ہزار کے درمیان۔
میں نے پوچھا کیا گزارہ ہوجاتا ہے؟
بولا بھائی مشکل سے مگر ہو ہی جاتا ہے۔
میں نے پھر پوچھا یہ جو آپ کے افسر یہاں بیٹھے تھے ان کی سیلری کتنی ہوگی؟
وہ بولا ہوگی کوئی ڈیڑھ دو لاکھ کے قریب مگر پھر بھی ہمیشہ روتا رہتا ہے۔ مجھے ہمہ تن گوش دیکھ کر پھر سرگوشی کی کہ کرپٹ ہے کوئی آ جائے تو کام کرنے کے ہزار پانچ سو تک نہیں چھوڑتا۔ جب کہ جو مجھے یہ بتا رہا تھا اسی نے میرے سامنے سامنے ایک سوالی سے دو سو روپے پکڑ لیے تھے۔
مظلوم، غربا اور مزدوروں سے ہم دردی کے حوالے سے بھی ایک سچا واقعہ یاد آ گیا۔
ان دنوں میں ٹاک شو پروڈیوسر تھا۔ ایک خاتون جو انسانی حقوق کی علم بردار کے طور پر جانی پہچانی جاتیں ہیں انہیں میں نے مزدور ڈے کے پروگرام میں مدعو کر رکھا تھا۔
ابھی ریکارڈنگ شروع ہی ہونے لگی تھی کہ محترمہ کو یاد آیا کہ وہ کاغذات گاڑی میں ہی بھول آئیں ہیں انہوں نے اپنے ڈرائیور کو کال کی مگر ڈرائیور یہ سمجھ کر مغرب کی نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا کہ میڈم اب اسٹوڈیو سے کم از کم ایک گھنٹے بعد فری ہوں گی۔
مگر میڈم کی بار بار کی فون کالز کی وجہ سے جلد فارغ ہو کر اسٹوڈیو پہنچا تو غصے میں لال پیلی ہوتی بیگم صاحبہ نے اسے ہم سب کے سامنے پہلے تو اچھی خاصی سنائیں اور جب وہ کاغذات لینے نیچے گیا تو کہنے لگیں آپ نہیں جانتے ان نوکروں کو اگر انہیں کھینچ کر نہ رکھا جائے تو سر پر سوار ہو جاتے ہیں۔
پروگرام میں وہ مزدوروں کے حقوق پر لمبی چوڑی تقاریر کرتی رہیں پر میرے نزدیک وہ خوب صورت باتیں کھوکھلی ہی تھیں۔
بہر حال دیکھنے میں آیا ہے جو جتنا بڑا چور ہے وہ اتنا ہی بڑا کھوجی ہوتا ہے کہ کون کہاں کیسے اور کتنے پیسے مار رہا ہے۔ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر کرپشن زدہ معاشرہ ہے اب یہاں اگر کوئی ایمان دار ملتا ہے تو حیرت ہوتی ہے۔
کتنے ہی لوگ بل کی کاپیاں پکڑے مارکیٹ میں گھومتے نظر آتے ہیں کہ نائب قاصد جو بل لایا ہے وہ اصلی ہے یا جعلی ہے یا پھر رقم زیادہ تو نہیں لکھوا آیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایمان دار افراد بے ایمان یعنی ناجائز کمانے والوں کا احتساب کرتے مگر ہو یوں رہا ہے کہ بڑے بڑے چور چھوٹے چھوٹے چوروں کو پکڑ کر انہیں بتا رہے ہیں کہ تم نے حرام طریقے سے کمایا ہے لہذا تمہیں سزا ملے گی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ اگر یہ چھوٹے تھوڑی تھوڑی رقم مار لیں گے تو پھر ہم کہاں جائیں گے یا اگر یہ لوگ دس بیس سو پچاس کماتے کماتے ہمارے برابر امیر ہو گئے اور اس دس بیس روپے سے ہم غریب ہو گئے تو کیا ہو گا۔
سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے سارا دن محنت کرنے والا ہزار دو ہزار کماتا ہے یا کبھی کبھی ہزار بھی نہیں کما پاتا مگر بھکاری چار سے دس ہزار کی دیہاڑی لگا لیتے ہیں۔ اب ہزار پانچ ہزار کی چینج لینے آپ کو بینک جانے کی ضرورت نہیں اپنے قریب کھڑے کسی بھکاری سے پوچھ لیں کہ پانچ ہزار کا کھلا ہے اگر ہو گا تو دے دے گا ورنہ صاف بول دے گا صاحب ابھی ابھی دھندا شروع کیا ہے آپ ایک دو گھنٹے تک آجانا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو لوگ دنیا کو چلا رہے ہیں اُن لوگوں کی آمدنی زیادہ ہوتی جیسے مالی جو ہمارے اردگرد رنگ برنگ پھول پودے سجاتے ہیں، شجر کاری کرتے ہیں، راستوں پر نرم ملائم گھانس کا کارپٹ بچاتے ہیں ان کی تنخواہ سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ سویپرز جو دنیا کو صاف ستھرا رکھتے ہیں، دنیا بھر کی غلاظت، دھول مٹی یہاں تک کہ گٹر میں اتر کر اپنی زندگی داؤ پر لگا کر صاف کرتے ہیں اس دنیا کو آپ کے دفاتر، گھروں، راستے اور پارک کو اس قابل بناتے ہیں کہ آپ اچھے ماحول میں رہیں۔ ان سویپرز کی تنخواہ سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ مل مزدور جو مل مالکان کی کامیابی کی سیڑھی ہوتے ہیں جو دنیا کو چلانے والے ایک ایک پرزے کے خالق ہوتے ہیں ان کی تنخواہ زیادہ ہونی چاہیے۔ قاصد اور نائب قاصد، ڈرائیورز، کھانا پکانے والے باورچی یا کوک ان کے بغیر بھی دفاتر اور گھر نہیں چلتے امرا، بیوروکریسی یا ان کی بیگمات ایک قدم نہیں ہل سکتیں لہذا ان کی تنخواہیں زیادہ ہونی چاہیے۔
مگر یہ بڑے عہدوں پر براجمان کرپٹ افسران، بینک اور قوم کے اربوں روپے لوٹ کر کھا جانے والے سرمایہ دار، کرپٹ سیاست دان، کرپٹ جج، کرپٹ جرنیل، کرپٹ وکیل، کرپٹ جرنلسٹ اور وہ لوگ جو معاشرہ کے سدھار کی ضمانت تھے کرپٹ ہوتے ہوئے یہ کھوج لگائیں کہ فلاں نے بل میں سے 10 روپے ماریں ہیں یا فلاں گارڈ سو پچاس روپے رشوت لے کر پرائیویٹ گاڑی پارک کروا رہا ہے تو مجھے عجیب لگتا ہے اور یہی کہنے والے لوگ اصل حرام خوری اور ناجائز کمائی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنا ہے تو پھر احتساب کا عمل خود سے شروع کرنا ہو گا، اپنے گھر اور روز مرہ کے دیگر معاملات اور لین دین سے کرنا ہو گا ورنہ منافقین میں شمار رہیں گے کہ خود تو لاکھوں کروڑوں کی کرپشن کریں اور ماتحت کو انعام میں ملے سو پچاس روپے کو ایمان دار بنتے ہوئے رشوت، کرپشن یا چوری کہیں اور اپنے اس عمل پر فخر کریں کہ بڑا چور پکڑا ہے اور شاباش کے منتظر رہیں۔
آخر میں ایک بات یاد کراتا چلوں کہ جس ملازم کو بجلی یا گیس کی چوری روکنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے وہ ہی ملازم مہینے کے ہزار دو ہزار روپے کی خاطر کنزیومر کو چوری کے طریقے سمجھا رہا ہوتا ہے اور یہ ہی دو ہزار اوپر تک جاتے جاتے فی ملازم حصہ دو سو تک ہی رہ جاتا ہو گا۔ ٹریفک چالان میں بھی کمیشن فکس ہوتی ہے اگر چالان نہ کاٹا اور پیسے لے کر چھوڑ دیا تب بھی اس کرپشن میں اوپر تک افسر اور سیاست دان شامل ہوتے ہیں۔ بینک کے بڑے ملازمین ہی کروڑوں کا قرض معاف کروانے کے طریقے سمجھا رہے ہوتے ہیں۔
سرکاری ٹیچرز کو اپنی لاکھ تنخواہ سے زیادہ اُن ٹیوشن کے بیس ہزار سے پیار ہوتا ہے لہذا وہ سرکاری چھٹی چاہے دو ماہ کر لے مگر ٹیوشن کا ناغہ نہیں کرتا۔ یہ حال ڈاکٹروں کا ہے سرکاری ہسپتال میں ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے موت انہی کے گھر ہو گئی ہو اور پرائیویٹ کلینک میں انہیں دیکھیں تو لگے گا کہ بچہ انہی کے گھر پیدا ہوا ہے۔ گزشتہ سال ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال دل کے معائنے کے لیے جانا ہوا، بیگم کو بھی ساتھ لے گیا، ڈاکٹر نہایت خوش اخلاقی سے پیش آیا توجہ سے بات سنی، شفقت بھرے انداز میں مشورے دیے۔ آدھے گھنٹے بعد جب ہم باہر آئے تو بیگم نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا یہ ڈاکٹر صاحب تو فلاں سرکاری ہسپتال میں ہوتے ہیں سیدھے منہ بات نہیں کرتے اب انہیں کیا ہو گیا؟
میں نے کہا سرکاری تنخواہ ہے ہر حال میں ملنی ہی ملنی ہے مگر یہ مسکراہٹ پرائیویٹ ہسپتال میں ہم دو سے چار ہزار فیس میں خریدتے ہیں اگر یہاں بھی یہ لوگ سرکاری ہسپتال والا رویہ رکھیں گے تو ہسپتال والے انہیں بھگا دیں گے یا اپنا کلینک ہے تو جلد بند ہو جائے گا۔
ہر شعبے میں کرپشن اور چور بازاری ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب ہی شریف، ایمان دار اور پارسا کہلاتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ دس بیس پچاس روپے کی کرپشن کرنا اچھی بات ہے مگر لاکھوں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے والا اس چھوٹی کرپشن کو قابلِ سزا تصور کرے تو مجھے عجیب لگتا ہے۔



لکھتے رہیئے، بہت اچھا لکھا ہے۔
เกมส์ออนไลน์ สุดร้อนแรงนาทีนี้ต้อง ที่นี่เท่านั้น กับ PGSLOT เว็บเกมสล็อตออนไลน์น้องใหม่จากค่าย PG SLOT ที่ขนความมันส์มาส่งตรงถึงมือคุณสะดวกสบาย ปลอดภัย 100%