ہاتھوں کا کشکول (افسانہ)


سردی کی یخ بستہ رات تھی۔ ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے۔ یہ ہوائیں بدن کے آر پار ہو رہی تھیں۔ لالی اپنی پکھی کے باہر لکڑیاں جلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کا بوڑھا باپ پکھی کے اندر انتہائی بوسیدہ بستر زمین پر بچھائے سردی سے بچنے کے لیے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔

لالی کی زندگی کی کتنی ہی بہاریں ان بے در و دیوار کچی زمین پر گزر گئی تھیں۔ دل کی امنگیں کبھی سر اٹھاتیں تو ہاتھ کا کشکول انھیں روند دیتا تھا۔ گھر گھر کی چوکھٹ پر جا کر صدا دینا کتنا کٹھن تھا۔ اگرچہ بچپن ہی سے یہ باپ کے ساتھ یہی کام کرتی رہی تھی۔ لیکن ضمیر کچوکے لگاتا تھا۔

”بابا، ہم یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام نہیں کر سکتے؟“ لالی نے کہا
”کون سا کام؟ تجھے اور مجھے اس کے علاوہ کرنا کیا آتا ہے؟ باپ نے جواب دیا۔

”بابا! بہت ذلت اور کوفت ہوتی ہے۔ ہر کوئی عجیب نظروں سے دیکھتا ہے۔ ہم محنت مزدوری کر لیں گے۔ مجھ سے ہر ایک کے سامنے ذلت نہیں اٹھائی جاتی۔“ لالی نے کہا۔

”لالی پتر نہ کہہ ایسا۔ یہ ذلت جسے میں نے بڑی جان جوکھوں میں ڈال کر کمائی ہے۔ اپنا ضمیر مارنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔“ باب نے کہتے ہوئے سگریٹ کا کش لگایا اور لالی کو سمجھاتے ہوئے پھر کہا: ”چل دھندے کا ٹیم ہو گیا ہے۔ صبح جب صاب لوگ اپنے کاموں پر جاتے ہیں تو فقیر کی صدا کو خالی نہیں لوٹاتے۔“

” ٹھیک ہے بابا“ کہہ کر لالی نہ چاہتے ہوئے بھی گڑوی ہاتھ میں لیے چل پڑی۔ اس کی آواز میں سوز اور سریلا پن تھا۔ اس کی انگڑائیاں لیتی جوانی ہواؤں میں جیسے خوشبو بکھیر دیتی تھی۔ جو قریب سے گزرتا اس کی سانسیں معطر ہو جاتی تھیں۔ وہ ہر دروازے پر جاتی اور ہاتھوں کا کشکول پھیلاتی تھی مگر وہ ایک حویلی میں اکثر جاتی تھی۔ کیوں کہ اسے وہاں ہاتھوں کا کشکول پھیلانے سے زیادہ ملتا تھا۔ حویلی کا سب سے بڑا لڑکا اس کی آواز اور فطری حسن کو اپنے دل میں بسا چکا تھا۔ وہ لالی کو پاس بٹھا کر اس سے گڑوی بجانے کے لیے کہتا اور گھنٹوں تک سنتا اور اس کو تکتا رہتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ:

”اللہ بھی حسن کہاں کہاں بکھیر دیتا ہے؟ وہ چاہے جھونپڑیوں میں حسن کی رونقیں بکھیر دے یا صحراؤں میں گلشن کی خوبصورتی پھیلا دے۔ یہ قدرتی حسن بھی خدا کی دین ہے۔ سرخی پاوڈر سے مصنوعی حسن سے کہیں زیادہ دل نشیں ہے یہ پکھی واس۔“ اس دن چودھری نے اس کو ہزار کا نوٹ دیا اور کل آنے کے لیے کہا۔

لالی اس چودھری کے دل تک سفر کر چکی تھی۔ لالی سمجھ گئی تھی کہ جوان چودھری کے دل میں اس کی جگہ بن چکی ہے۔ وہ کچھ لمحے حویلی کی زندگی کے خواب دیکھنے لگی تھی اور ایسی ہی خوش زندگی چاہتی تھی۔ حویلی کی زندگی کا سوچ کر دل ہی دل میں خوش ہوتی تھی اور خود سے باتیں کر کے مسکرانے لگتی تھی۔ زمین پر پاؤں رکھتی لیکن سفر آسمان میں کرنے لگتی تھی۔ ایک دن وہ ان خیالوں میں کھو گئی۔ اس کے باپ نے کئی آوازیں دیں لیکن وہ بے خبر اپنے ہی خیالوں میں مست تھی۔ جب زور سے آواز آئی تو خیالوں میں سے نکلتے بولی۔

”بابا تو نے بلایا مجھے“

”میں کب سے بلا رہا ہوں، کن خیالوں میں ہو؟ کہیں اونچی زندگی کے خوابوں میں کھو تو نہیں گئی؟“ باپ نے جیسے بھانپ لیا ہو۔ لمبی سانس لے کر پھر بولا ”نہ دیکھ ایسے خواب۔ تیری اڑان جتنی اونچی ہوگی آخر زمین پر گر کر اتنی ہی کرچی کرچی ہو جاؤ گی“ باپ نے سمجھایا مگر لالی کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔ وہ صبح سویرے ہاتھ منہ دھو کر سرمہ لگا کر چوٹی بنا کر گڑوی ہاتھ میں لے کر دوسرے دروازوں پر جانے کے بجائے حویلی کی چوکھٹ پر جا پہنچی۔ چودھری اسے ڈور ڈنگروں والی حویلی کی بیٹھک میں لے گیا۔ گھنٹوں اس کے حسن کا نظارہ کرتا رہا۔

”دیکھ لالی میرا یہ دل تیرے بغیر نہیں لگتا۔ کیا تو مجھ سے شادی کرے گی؟“

یہ سن کر لالی کے دل کے تار بجنے لگے تھے۔ اس کے گلابی گال انگاروں کی طرح دہکنے لگے تھے۔ گھر آ کر لالی نے شرماتے ہوئے یہ بات اپنے باپ سے کہی تو وہ بولے۔

”آزاد پنچھی! پنجرہ جتنا بھی حسین ہو۔ پھڑپھڑاتا رہتا ہے پتر! تو بھی آزاد کھلے آسمان میں پلی ہے۔ کیسے حویلی کی اونچی دیواروں میں رہو گی“

مگر لالی کو ایک امید کی کرن نظر آ رہی تھی۔ در در جا کر ہاتھ پھیلانے سے نجات کا واحد ذریعہ اس چودھری سے شادی کو سمجھا۔ چودھری کی بات نہ لالی ٹال سکتی تھی نہ ہی اس کا باپ۔ آخر کار لالی کی چودھری سے سادگی سے شادی ہو گئی۔ چودھری کے خاندان والے بھی راضی نہ تھے۔ لیکن چودھری کی ضد نے سب کو ہرا دیا تھا۔

گہنا پہن، سنگھار کر کے حویلی کے خوبصورت کمرے میں رنگین پلنگ پر بیٹھی۔ وہ چودھری کے دل کی رانی بن چکی تھی۔ کچھ دن اپنے خوابوں کی تعبیر پا کر خوشی سے پھولی نہ سماتی تھی۔ چند دن بعد والد کی یاد آئی۔

”چودھری بابا کی یاد آ رہی ہے۔ آج میں اس سے مل آؤں؟“
چودھری کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے اجازت دے دی اور کہا: ”چلی جاؤ لیکن شام سے پہلے واپس آجانا“

خوش خوش لالی تیار ہو کر بابل کے بے در و دیوار آنگن میں پہنچی تو۔ باپ پکھی میں پڑا کھانس رہا تھا۔ ارد گرد سے ساری پکھی چھلنی ہو چکی تھی ہوا اندر باہر جا رہی تھی۔ باپ کے پاس جا کر گلے لگی اور کہا:

”بابا، تو نے مجھے بلا لیا ہوتا۔ تیری طبیعت تو بہت خراب ہے۔ میں آگ جلا دیتی ہوں۔“ لالی نے آگ جلا کر چائے بنا کر دی اور اسے دبانے لگی۔ باپ بھی کچھ گرم ہوا تو نیند آ گئی۔ شام ہونے والی تھی لیکن لالی اپنے باپ کو اس حالت میں چھوڑ کر جا نہ سکتی تھی۔

صبح لالی نے باپ سے اجازت لی اور گھر چلی گئی۔ چودھری نے دروازے سے ہی لالی پر برسنا شروع کیا۔
”آج کے بعد تم گھر سے باہر قدم نہیں نکالو گی ہمارے گھر کی عورتیں باہر نہیں جاتیں۔“

لالی آزاد فضاؤں کی پروردہ تھی۔ وہ اونچی حویلی کی بلند و بالا دیواروں میں قیدی پرندے کی طرح زندگی گزار نے لگی تھی۔ اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ باپ کی یاد ستانے لگی۔ اب اسے کوئی آسائش خوشی نہیں دیتی تھی۔ خاندان نے چودھری کو خاندان کی لڑکی سے شادی کے لیے کہا جس سے اس کی بچپن کی منگنی ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ شادی کرنے پر زور دے رہے تھے۔ چودھری بھی لالی سے بیزار ہو چکا تھا۔ وہ وہ اپنے خول سے نکل آیا اور سوچنے لگا کہ ایک پکھی واس کا لباس تو بدلا جا سکتا ہے لیکن اس کی سوچ نہیں بدلی جا سکتی۔

چودھری نے اپنی منگیتر سے شادی کر لی لیکن لالی کو نہیں چھوڑا تھا۔ چند ماہ جیسے تیسے چودھری کی دوسری بیوی نے خاموشی سے گزارے پھر چودھری پر اس بیوی نے اور خاندان نے دباؤ ڈال کر لالی کو طلاق دے کر گھر سے باہر نکال دیا۔ لالی پھر سے پکھی میں آ بیٹھی۔ آزاد فضا میں اڑتے پرندوں کی خوشی کا انداز دیکھ رہی تھی۔ باپ نے گلے لگا کر کہا:

”آزاد فضا کے پنچھی کو پنجرا سونے کا بھی ہو تو اسے راس نہیں آتا۔ پتر تو اپنی پہچان بھول گئی تھی۔“

آج کی ایک نئی صبح تھی۔ لالی نے ہاتھوں کا کشکول پھیلانے کے لیے گڑوی پکڑی۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی ایک لہر تیر رہی تھی۔ گڑوی پر انگلیوں کی تھر تھراہٹ۔ لیکن آج وہ انگلیوں کا رقص نہیں تھا۔ گلے سے سر بھی اٹک رہا تھا۔ لالی کے تھرکتے ہوئے قدم آگے بڑھنے لگے تھے۔

اسے اپنے باپ کے الفاظ کی گونج آ رہی تھی۔
”یہ ذلت بڑی محنت سے کمائی ہے۔ اپنے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے“

لالی نے یہ الفاظ دہرائے تو جیسے چھری اس کے سینے میں گھونپ دی گئی ہو۔ زمین پر ڈھیر ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک باقی تھی۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجی تھی جیسے اس کی تمام امنگوں کو تکمیل مل گئی ہو اور ہاتھوں کا کشکول پھیلا نے سے بچ گئی تھی۔

 

Facebook Comments HS