پاک امریکہ تعلقات اور طالبان کا مستقبل (2)


ادھر پینتالیس سالوں سے افغان تنازعہ کا بنیادی فریق رہنے کے باعث پاکستان بھی عالمی پابندیوں اور امریکیوں کی سرد مہری کے نتائج بھگت رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پھوٹنے والی دہشتگردی سے قطع نظر عالمی طاقتوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ پوری قوم کو مقتدرہ اور پی ٹی آئی کے مابین جاری کشمکش میں الجھا دیا، اس نامطلوب جدلیات کو زیادہ گمبھیر بنانے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کو بھی بروِئے کار لایا جا رہا ہے۔ بادی النظری میں یہی لگتا ہے کہ 1971 کی طرح یہ تنازعہ بھی مزید گہرا ہو گا۔

شاید اِسی جمود کے مہلک اثرات سے باہر نکلنے کی خاطر جنرل عاصم منیر کا دورہ امریکہ اہم پیش دستی ثابت ہو۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ آرمی چیف کا دورہ امریکہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی دوبارہ بحالی کی طرف کسی سنجیدہ پیش رفت کا وسیلہ بنے تاہم فی الوقت افغان ایشو کے حوالہ سے امریکی عزائم کی گہرائی کو جانچنا ممکن نہیں خاص کر افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کی پاکستانی فورسز کے خلاف مہیب کارروائیاں محل نظر رہیں گی۔

ہمارے آرمی چیف نے فوجی افسران سمیت محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے حکام سے اہم ملاقاتوں کے علاوہ فلوریڈا میں سینٹرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کیا، خارجہ امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ان وسیع تر تعاملات سے تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینے میں مدد ملے گی، جو اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے متغیر چلے آ رہے ہیں۔ تاریخی طور پہ امریکہ کی علاقائی صف بندیوں اور ترجیحات کی تشکیل میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہمیشہ غیر متعین رہی، جس نے ہماری مملکت کے فطری ارتقا کو ہیڈ لاک میں رکھا، اس کے برعکس پڑوسی ملک چین نے قدرتی خطوط پہ سیاسی، سماجی اور معاشی ارتقا پا کر جنوبی ایشیا کی فضا میں اپنے لئے اہم مقام حاصل کر لیا جبکہ پاکستان امریکی مفادات کے محور میں رہنے کی بدولت ایک قسم کی اُفقی گردشوں میں الجھا رہا۔

سب سے پہلے، سرد جنگ میں، جب امریکہ کا مقصد کمیونزم پر قابو پانا تھا، پاکستان امریکہ کا ”سب سے بڑا اتحادی“ ہونے کے ناتے سیاست کے مذہبی عوامل کی تشکیل کی بدولت آئینی نظام کی چھتری اور جمہوری لچک سے ہاتھ دھو بیٹھا خاص کر 1979 کے بعد ، افغانستان پر روسی جارحیت کے خلاف مسلح مزاحمتی تحریکوں کی حرکیات کا حصہ بن کر پاکستان نے کسی حد تک اپنے دفاعی ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کے باوجود سماجی وجود کو متعدد حصوں میں منقسم کر دیا جس کے مہلک اثرات آج بھی ہمارا تعاقب کرتے ہیں۔

پھر 9 / 11 کے بعد کا مرحلہ جس میں ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کا اتحادی ہونے کا باب افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ دردناک انجام پہ ختم ہوا۔ تاہم ان مراحل نے ایک ناقابل فہم حقیقت کو واضح کیا کہ قوموں کے درمیان تعلقات میں مثبت تبدیلیاں تقریباً ہمیشہ دوطرفہ مفادات کی وجہ سے آتی ہیں۔ چنانچہ افغانستان میں ناکام جنگ امریکہ کے لئے پاکستان سے رابطہ و تعلق منقطع کرنے کا ذریعہ بنی کیونکہ پاکستانی قیادت سیاسی حکمت عملی کو آگے بڑھانے پر زور دیتی رہی جبکہ واشنگٹن میں اعلیٰ قیادت کا خیال تھا کہ امریکہ کی طاقتور مسلح افواج اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر طالبان کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے۔

اسلام آباد میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں پر ”ڈومور“ کے لیے دباؤ بڑھاتے ہوئے امریکہ نے بیس سالوں تک اس بے مقصد جنگ کو جاری رکھا۔ طاقت کے نشہ میں سرشار امریکیوں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور جانوں کی بھاری قیمت چکانے کے علاوہ ملک کے طول و ارض میں عسکریت پسندوں کے حملوں سمیت سنگین سماجی اور اقتصادی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے یہ تنازعہ پہلے ہی کافی نقصان پہنچا چکا ہے لیکن جُوں جُوں امریکی جنگی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوتی گئیں، تُوں تُوں تعلقات میں تناؤ بھی بڑھتا گیا اور بالآخر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ گیا۔

پاکستان نے طالبان کے ساتھ رابطے کا اپنا چینل کھلا رکھنے کی اس یقین کے ساتھ کوشش کی تھی کہ ایک دن سب کو ان سے نمٹنا پڑے گا لیکن واشنگٹن نے اسے پاکستان کی ’ڈبل گیم‘ سے تعبیر کیا۔ افغانستان سے امریکی انخلا سے پہلے ہی، جغرافیائی سیاسی حرکیات بنیادی طور پر تبدیل ہو رہی تھیں کیونکہ جس وقت چین نے اپنی اقتصادی مصروفیات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو شروع کیا تو اس وقت پاکستان سمیت علاقائی ممالک امریکی مفادات اور اثر و رسوخ دونوں میں کمی محسوس کر رہے تھے، اسی تناظر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ”امریکہ فرسٹ“ خارجہ پالیسی پاکستان سے علیحدگی کا واضح اشارہ تھی، یہی امریکی طرز عمل چین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ سٹریٹجک تعلقات میں استواری کا زینہ بنا۔

وہ BRI میں اس کے اہم کردار اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ موثر ہوتا گیا چنانچہ امریکہ کو اپنے جانبدارانہ اصولوں کے علاوہ تذبذب کے شکار ایسے علاقائی کھلاڑی کے طور پر دیکھا جانے لگا، جو اپنی خود غرضی کے باعث انسانی آزادیوں کا احاطہ کرنے والا عفریت ہو۔ چین کی زیادہ تعمیری اور پائیدار تعلقات کے لیے درکار دلچسپی، سرمایہ کاری اور بڑھتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر ابھرنا پاکستان کی سلامتی اور اقتصادی مفادات دونوں کو پورا کرتا ہے۔

اگرچہ چین اب بھی پاکستان کی اولین سٹریٹجک ترجیح ہے لیکن اسلام آباد امریکہ کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے اور شاید یہی خواہش جنرل عاصم منیر کے دورہ امریکہ کی اساس بنی ہو گی۔ تاہم اب بھی امریکہ کی چین پر قابو پانے کی پالیسی اور بیجنگ کی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ممالک کو اس میں شامل کرانے کی حکمت عملی پاک امریکہ تعلقات کی راہ میں حائل ہے اور ہمارا موجودہ سیاسی بحران بھی اس جدلیات کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے۔

سنہ 2014 کے دھرنوں کی طرح امریکہ، چین تصادم کے پاک امریکہ تعلقات اور قومی سیاست پر واضح اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن پاکستان امریکی، چینی تصادم کے گھیرے میں آنے سے بچنا چاہتا ہے کیونکہ جب تک امریکہ اور چین کے تعلقات کشیدہ رہیں گے اس کا اثر پاکستان کی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوششوں کی راہ روکتا رہے گا۔ ایک اور پیچیدہ عنصر بھارت کے ساتھ واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک اور اقتصادی روابط ہیں، جو خطے میں مغرب کی کنزیومر مارکیٹ اور بڑا سٹریٹیجک پارٹنر ہے، جس کی حکمت عملی میں بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک متبادل قوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔

امریکہ، بھارت تعلقات کے پاکستان پر اثرات اس طرح واضح ہیں کہ واشنگٹن نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے بھارت سے غیر قانونی الحاق اور وہاں کی سنگین انسانی صورتحال پر آنکھیں بند کر لیں۔ مزید برآں، امریکہ بھارت کی فوجی اور سٹریٹجک صلاحیتوں کو مضبوط کر کے پاکستان کی سلامتی کے لئے چیلنجز بڑھانے کی کوشش میں سرگرداں ہے لیکن اب پاکستان بھی مستقبل کے تعلقات کی بنیاد ملک کی اندرونی اہمیت کے مطابق کرنا چاہتا ہے نہ کہ کسی تیسرے ملک کے ساتھ تعلقات کے ذیلی عنصر کے طور پر، اس لئے اب ملک کو شخصی آمریت کے برعکس آئینی نظام کی چھتری تلے لانے کی طرف پیشقدمی مملکت کے وجود کو قوم کی اجتماعی وِل کے تابع لانے کی شعوری کوشش ہے، تاکہ فرد واحد کی بجائے عالمی مقتدرہ کو پاکستانی قوم سے معاملات کی طرف مائل کیا جائے۔ لاریب، عوام کی منتخب حکومت ہی دراصل وہ سدِ جارحیت ہے جو ہمیں امریکی استیلا سے نجات دلا سکتی ہے۔ یعنی باہمی تعلقات کو سیکورٹی فوکس سے ہٹ کر دیگر شعبوں خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود رکھنا چاہیے تاہم دونوں ممالک کو تعلقات کی تشکیل نو کے لئے منتخب حکومتوں کے آنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS