سیاست میں اداکاریاں
کم عقلی کے زمانے میں جب بھی کسی ڈرامے کو دیکھتے تھے تو ہمیشہ حقائق سے انجانیت کی وجہ سے ان میں موجود کرداروں کو ادا کرنے والے اداکاروں کی پوجا کرتے ہوئے خود کو ویسے ہی بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔
ہمیشہ اداکاروں کو بلند مرتبے کی شخصیات کے طور پر احترام کی نظروں سے دیکھتے ہوئے ان کے نام کی ہی تسبیح کیا کرتے تھے اور ہر وقت ان کے نام کی مجنوں کی طرح مالا جپتے ہوئے پائے جاتے تھے۔
لیکن ایک وقت کے بعد پتہ چلا کہ یہ تو اداکار ہوتے ہیں اگر ان کی حقیقی زندگی پر ایک نظر ڈالیں جائے جو پہلے تو ہم جیسے کمزور نظروں کے لوگوں کو ایسے نظاروں کے درشن ہونے کی سعادت نصیب ہوتی ہی نہیں ہیں۔ لیکن اگر دو کرداروں کی آپس میں کھینچا تانی کی وجہ سے ان کی زندگی کا ایک چھوٹا سا پہلو بھی ہماری نظروں کے سامنے آ جائے تو عقل دنگ ہو کر رہ جاتی ہے اور گرگٹ بھی ان کی مہارت کے سامنے پانی بھرتا ہوا نظر آئے لیکن پھر کچھ ہی دونوں میں بات ایسے رفع دفع ہو کر رہ جاتی ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور اس سب کا کریڈٹ صرف اور صرف اداکاروں کی عمدہ اداکاری کو جاتا ہیں۔
ایک اچھے اداکار کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ پردہ کے سامنے رہ کر لوگوں کو اس کردار میں اس طرح سے مدہوش کر دیتا ہے کہ لوگ اس اداکار کو بھول کر اس کردار کے نشے میں کھو کر رہ جاتے ہیں اور اداکار محفل لوٹ کر چل دیتا ہے۔ لوگ ہمیشہ اس کے کردار کو یاد رکھتے ہیں جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور ناکہ وہ حقیقت میں جو کچھ ہوتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی یادداشت بڑی کمزور ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب اداکاروں کی اعلیٰ اداکاری کا کمال ہے کہ کئی بار مکمل طور پر اصلیت عیاں ہونے کے باوجود بھی مولانا، شریف، مصالحت کے بادشاہ اور صادق کہلاتے ہیں۔
اور جہاں تک بات رہی پاکستانیوں کی یاداشت کی تو اس کی مضبوطی کا عالم تو یہ ہے کہ پچاس سال پہلے کا بھٹو ابھی بھی زندہ ہیں اور دوسری قوموں کو صبح کا کھانا تک یاد نہیں رہتا ہیں کہ کیا کچھ کھانا صبح کے ناشتے میں کھایا تھا؟
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر دنیا کے سب سے بڑے اور عظیم اداکار پائے جاتے ہیں۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ انڈسٹری کے نامور شخصیات بھی اداکاری کے معاملے میں پاکستانی اداکاروں کو اپنا امام تسلیم کرتے ہوئے کئی بار ان کے اعلیٰ ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
ولیم شیکسپیئر کا ایک قول ہیں جس کا بطور قوم ہم عملی نمونہ ہیں۔
”۔ اداکار وہ ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ جھوٹ بول سکتا ہے اور تماشائی وہ ہے جس نے پورے یقین کے ساتھ بے وقوف بننے کا فیصلہ کیا ہے۔“
اوپر سے اداکاروں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ہماری قوم کی اکثریت کا پسندیدہ مشغلہ بھی یہی ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ ہم باقی چیزوں میں اوپر نیچے ہوسکتے ہیں لیکن فلمیں اور ڈرامے دیکھنے والوں کی صف اول میں کھڑے ملتے ہیں اور جو ہمارا ہمیشہ سے قومی مشغلہ رہا ہے۔
ایک غلط فہمی جو زیادہ تر لوگوں میں پہلے بہت پائی جاتی تھی اور جو اب کچھ عرصے سے بہت کم ہوئی ہے وہ یہ کہ جو کچھ بھی سکرین پر ہوتا ہے وہ سب کچھ اداکار خود سے ہی کرتا ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ صرف اور صرف ہدایت کار کے مطابق ہی ہوتا ہے اور خود سے تو بعض اوقات ایک لفظ بھی اسے کہنے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ سب کچھ سکرین کے پیچھے بیٹھا ہدایت کار انجام دے رہا ہوتا ہے۔
اصل فلم کے اچھے یا برے ہونے کے پیچھے سب سے زیادہ کردار ایک ہدایت کار کا ہی ہوتا ہے۔ لیکن ہم دنیا جہاں کا پیار و محبت فلم کے اچھے ہونے پر یا پھر بری ہو تو گالیاں صرف اور صرف اداکاروں کے کھاتے میں ہی ڈالتے ہیں۔
لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں ہدایت کار کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے اور جب اداکاری اور ہدایت کاری دونوں عمدہ ہو تو تب معجزات رونما ہوتے ہیں اور ہمارے ہاں اداکاروں اور ہدایت کاروں دونوں کا عمدہ ہونا خدا تعالیٰ کی طرف سے پاکستان کے بننے کی ایک اور نشانی ہے۔
جب سے پاکستان بنا ہیں تب سے اب تک دو فلمیں بہت چلی ہیں ایک جمہوریت اور دوسرا آمریت اور ان دونوں میں اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کون سی فلم لوگوں کے ہاں زیادہ دلوں کے قریب ہے کیونکہ ہر شخص مختلف مزاج رکھتا ہوتا ہے اور اپنے مزاج یا پھر مفادات کے حساب سے ہی پسند اور نا پسند بھی رکھتا ہوتا ہے لیکن جہاں تک بات رہی میری مجھے دونوں ہی زہر لگتی ہیں۔ جمہوریت نام کی فلم کی تعریف میرے نظروں میں کچھ یوں ہے کہ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جہاں اداکاری کا عمدہ ہونا اہم ہے ناکہ کردار کا خوبصورت ہونا ضروری ہے۔
دنیا میں آج تک جمہوریت نام کے ڈرامے سے بڑا مذاق ایجاد ہی نہیں ہوا ہیں اس میں ازل سے ہی عوام کے جذبات اور احساسات کے ساتھ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کچھ جوکر سے لوگ اپنی اداکاری کی مہارت سے عوام کو سہانے سہانے خوابوں کا لالی پاپ دے کر اپنی ذات کا الو سیدھا کر جاتے ہیں اور سادہ سے لوگ بڑی ہی آسانی کے ساتھ ہر بار استعمال ہو جاتے ہیں۔
ایک ہی شخص ہر بار مختلف نعروں اور کرداروں کی صورت میں آتا ہے اور پھر اپنا کام ہو جانے کے بعد اڑن طشتری کی طرح پانچ سال کے لئے غائب سا ہو جاتا ہے۔
اب اس طرح کی فلم سے جان چھڑانے کے لیے پہلا حل تو یہ ہے کچھ نئے اداکار اجائے شاید ہمیں کچھ پہلے سے نیا اور اچھا کانٹینٹ دیکھنے کو مل جائے۔
دوسرا کوئی نئی فلم ہی آ جائے جس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آخری اور سب سے آسان حل یہ ہے کہ اپنے ساتھ ان لوگوں کا شوق تبدیل کر دیا جائے جو اس گھٹیا قسم کے کانٹینٹ سے چپکے ہوئے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر یہ لوگ بھی ویسے کردار ادا کرنے لگے گئے جس میں آپ کی خوشی ہوگی۔ کوئی بھی ڈرامائی نظام صرف اس وقت تک چل سکتا ہے جب تک ہم اس کو خود سے قبولیت بخشے کیوں کہ کوئی بھی نظام ہو وہ ہم سے ہیں ناکہ ہم نظام سے اگر ہم ہیں تو یہ سب نظام موجود ہے اور اگر ہم نہیں تو پھر یہ بھی نہیں۔
سنا ہے کہ فروری میں ایک فلم ریلیز ہونے والی ہیں۔ جس کے امکانات یہی دکھائی دے رہے ہیں کہ پھر وہی گھسے پٹے کانٹینٹ کے ساتھ دوبارہ وہی کہانی روٹی، کپڑا اور مکان ہی ہو گا۔
بات حیران کن یہ نہیں ہے کہ یہ فلم آ رہی ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اس فلم پر خرچ ہونے والی رقم کچھ 47 ارب کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ جو ایک مہنگی ترین فلم ہوگی اور جس کی قیمت بطور قوم ہم سب ادا کریں گئے اور وہ قوم جس کو کھانے کے لالے پڑے ہو وہ اس طرح کے ڈراموں پر اس قدر فضول خرچیاں کریں کچھ سمجھ سے بالاتر ہیں اور وہ بھی ایسی فلم پر جس کی کہانی کا پہلے سے بچے بچے کو پتہ ہو۔


