کرپشن: لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا
وطن عزیز میں ہمیشہ سے یہ سنتے چلے آ رہے ہیں کہ کرپشن قابل نفرت عمل ہے اور اس کا خاتمہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ سیاستدان بھی اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعوے اور وعدے کرتے رہے، لیکن اقتدار ملنے ہی اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے۔ ماضی میں ہر سیاسی جماعت نے کرپشن کے خاتمے، انصاف کی فراہمی اور میرٹ پر کام کے دعوے کیے لیکن اس حوالے سے ٹھوس عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
ہر سال ”عالمی یوم انسداد بدعنوانی“ بھی منایا جاتا ہے جس کا مقصد، یہ بتایا جاتا ہے کہ معاشرے سے کر پشن و نا انصافی کا خاتمے کا عہد کیا جائے مگر عملی صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کرپشن ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں سما چکی ہے۔ پبلک ڈیلنگ کے شاید ہی کسی سرکاری محکمے کو صاف اور شفاف قرار دیا جا سکے۔ خود قانون کے نفاذ اور انسداد رشوت کے محکمے بھی بدعنوانی کے الزامات سے بری نہیں ہیں۔ 2023 میں بھی 180 ممالک کی فہرست میں بدعنوانی کے لحاظ سے پاکستان 140 ویں نمبر پر رہا۔
”ورلڈ اینٹی کرپشن ڈے“ ہوتو ملک بھر کی شاہراہیں محکمہ اینٹی کرپشن، نیب، انسداد رشوت ستانی کے دیگر اداروں اور محکموں کے بینروں سے بھری ہوتی ہیں جن میں ”Say no to corruption“ نمایاں طور پر درج ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کے ادارے اپنی سالانہ کارکردگی کی طویل فہرست جاری کرتے ہیں لیکن کرپشن ختم یا کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی 2023 ”کرپشن پرسپشن انڈیکس“ (CPI) پر مبنی رپورٹ کے مطابق عوام الناس کے نزدیک پانچ اداروں میں سب سے زیادہ کرپشن ہے۔ اس ضمن میں ”پولیس کا فرض مدد آپ کی“ (محکمہ پولیس) پہلے، ٹھیکے دینے یا ٹینڈرنگ کا شعبہ دوسرے، عدلیہ تیسرے، تعلیم چوتھے اور جبکہ شعبہ صحت پانچویں نمبر پر ہے۔
2022 میں تحریک انصاف جو کرپشن کے خلاف مینڈیٹ لے کر آئی تھی اس کی حکومت میں بھی اس ادارے نے بدعنوانی میں اضافہ کی رپورٹ دی۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار ایک طرف رکھ دیں اور بطور عام شہری ان کرپٹ اداروں کا جائزہ لیں تو عوام الناس کی اکثریت کی رائے مذکورہ اداروں کے بارے میں یہی ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ چوری، ڈکیتی، جنسی زیادتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور میں 2023 کے پہلے 9 ماہ میں چوری ڈکیتی، اغوا برائے تاوان سمیت 90 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں۔ یہ شرح گزشتہ برس کی نسبت 25 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح کراچی، اسلام آباد، پشاور، غرض کسی بھی شہر کے بارے میں تحقیق کریں، جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام الناس پولیس اور تھانے کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ جائز کاموں کے لئے بھی پولیس کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے۔ اب تو یہ خبریں بھی ہمارے سامنے ہیں کہ پولیس اہلکار بہت سی چوری، ڈکیتی، اغوا کی وارداتوں میں براہ راست ملوث ہوتے ہوئے، مجرموں کی معاونت او ر سہولت کاری کرتے ہیں۔
واقفان حال بخوبی آگاہ ہیں کہ سرکاری ٹھیکوں کے حصول کے لئے لاکھوں، کروڑوں کی رشوت یا تحفے تحائف وصول کیے جاتے ہیں۔ سرکاری مال ”مال مفت دل بے رحم“ کی مانند لٹایا جاتا ہے۔ عمارتیں، سڑکیں، شاہراہیں بنتی ہیں تو ناقص میٹریل کے سبب ذرا سی بارش کے نتیجے میں نئی سڑکوں میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ بلند و بالا عمارتیں منہدم یا توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس ضمن میں احتساب کا کوئی قومی نظام نہیں ہے۔
عدلیہ کی بات کی جائے تو ہر شریف آدمی کورٹ کچہری کے نام سے بدکتا ہے۔ انصاف کے متلاشی سائلین کی زندگیاں کورٹ کچہری میں خوار ہوتے گزر جاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا۔ ججوں کی کرپشن کے قصے بھی زبان زد عام ہیں۔ برسوں قبل غالباً جسٹس ناصرہ جاوید اقبال نے کہا تھا کہ پہلے زمانے میں لوگ وکیل کیا کرتے تھے، اب جج کر لیتے ہیں۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام قانون کی حکمرانی کے ضمن میں 139 کی فہرست میں 130 ویں درجے پر ہے۔
نظام تعلیم میں فنڈز کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے، لیکن فرائض کی بات کم ہی کی جاتی ہے۔ ملک بھر میں قائم گھوسٹ سکولوں کے اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے اور سکول کی عمارتیں مویشیوں کا باڑہ بنی رہتی ہیں۔ اساتذہ کو طالب علموں کی تربیت سے غرض نہیں۔ کلاس میں تاخیر سے آنا اور جلد چلے جانا اساتذہ کا عام چلن ہے۔ جامعات میں ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اپنے سارے کیرئیر میں ایک بھی کلاس نہیں پڑھاتے۔
صحت کے شعبے کی حالت بھی ابتر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ ان کا وقت نجی ہسپتالوں اور ذاتی کلینکوں میں گزرتا ہے۔ مشینری، ادویات اور دیگر چیزوں کی خرید و فروخت میں بھی مالیاتی خرد برد اور گھپلوں کی داستانیں عام ہیں۔ اسی لیے تنزلی کا یہ سفر، جاری ہے۔
”پلی بارگین“ کی اصطلاح ہمارے ملک میں زبان زد عام ہے، جس کی بنیاد پر اربوں کھربوں ڈکارنے والے کروڑوں اور لاکھوں دے کر چھوٹ جاتے ہیں۔ دلاور فگار نے اسی لیے کہا تھا:
حاکم رشوت ستاں فکر گرفتاری نہ کر
کر رہائی کی کوئی آسان صورت چھوٹ جا
میں بتاؤں تجھ کو تدبیر رہائی مجھ سے پوچھ
لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا
ایف بی آر کے اعلیٰ ترین عہدیدار اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے محکمے میں سالانہ 5 سے 6 سو ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ ان پانچ شعبوں کے علاوہ بلدیاتی ادارے، محکمہ مال، کسٹم، ایکسائز اور انکم ٹیکس کے شعبے بھی بدعنوانی میں سرفہرست ہیں۔ پبلک سروس کی مد میں عدلیہ میں رشوت کا اوسط خرچ سب سے زیادہ یعنی 25 ہزار 846 روپے ہے۔ خیبر پختونخوا میں اوسط رشوت ایک لاکھ 62 ہزار، پنجاب میں 21 ہزار 186 اور بلوچستان میں ایک لاکھ 60 ہزار روپے ہے۔
National Corruption Perception Survey (این سی پی ایس) 2023 ء کے مطابق 68 فیصد پاکستانیوں کی رائے میں نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن جیسے ادارے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ غیر موثر ہیں۔ سندھ میں 42، خیبر پختونخوا میں 43، بلوچستان میں 47 اور پنجاب میں 47 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ افسر شاہی کا ریاستی اداروں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا پاکستان میں کرپشن کی بڑی وجہ ہے۔
قرآن مجید میں رشوت کی لفظ ”السحت“ کہہ کر مذمت کی گئی ہے، جس کے معنی ”کسی چیز کو اس کی جڑ سے کھود کر برباد کرنے کے ہیں“ ۔ رشوت کو سخت کہنے کی وجہ یہ ہے : کہ یہ صرف رشوت لینے اور دینے والوں کو برباد نہیں کرتی بلکہ ملک و ملت کی بنیاد اور امن وامان کو تباہ کر دیتی ہے۔ جہاں رشوت کا بازار گرم ہو جائے، وہاں کا قانون معطل ہو کر رہ جاتا ہے۔ قانون معطلی سے کسی کی جان محفوظ رہتی ہے، نہ آبرو اور نہ ہی مال۔
جس طرح قرآن میں رشوت کو ”اکل بالباطل“ (باطل /حرام طریقے سے مال حاصل کرنا) ، برا اور حرام کہا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اس کے خلاف سخت وعیدیں آئی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔
” رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں“ ۔
اسی طرح آپ کا فرمان ہے :
”اللہ کی لعنت ہے رشوت لینے، دینے اور اس شخص پر جو ان دونوں کے درمیان معاملات طے کرے۔“
کرپشن کا خاتمہ قانون کی حکمرانی اور احتساب کو یقینی بنائے بغیر ممکن نہیں۔ اپنے پیروں پر پانی نہ پڑنے دینا اور صرف دوسروں کے احتساب کا مطالبہ کرتے رہنے سے اس برائی کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بدعنوان سرکاری اہلکاروں کو نشان عبرت بنا کر مثال قائم کرنے سے ہی کرپشن کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حکومت سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرے اور احتساب عدالتیں کرپشن کے مقدمات 30 دن اندر نمٹائیں۔


