انوکھے شہید: اسلم اور شبیر کی یاد میں
(عالمی ریکارڈ رکھنے والا پاکستانی پائلٹ جس کی قبر پر کوئی فاتحہ بھی نہیں پڑھتا)
امریکہ میں 2005 کی ایک یخ بستہ رات تھی۔ شانی ایک چیخ مارکر اٹھ بیٹھی۔ ساتھ سوئی بیٹی نے گھبرا کر دیکھا تو ماں پسینے میں شرابور تھی۔ جیسے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا ہو۔ پوچھنے پر اس کے منہ سے ایک ہی لفظ نکلا، ”ویر زارا“ ۔ ماں بیٹی نے سرشام ہی انڈین فلم ”ویر زارا“ دیکھی تھی۔ لیکن اس کا خواب سے کیا تعلق تھا؟
فلم میں دونوں نے دیکھا تھا کہ فلم کا ہیرو (ایک انڈین پائلٹ) ، 22 سال پاکستانی جیل میں گزارنے کے بعد ، ہیروئن کو سرپرائز دیتا ہے، (جسے وہ 22 سال سے مردہ سمجھ رہی تھی) ۔ کچھ ایسا ہی بیگم شہناز شبیر عالم صدیقی نے خواب میں دیکھا تھا کہ 40 چالیس سال بعد ، ان کے شوہر شبیر عالم بھی کسی ہندوستانی جیل میں قید اپنی شانی کو یاد کر رہے تھے۔ ”اسکواڈرن لیڈر شبیر عالم صدیقی“ کو اپنے آخری مشن پر گئے یعنی ”شانی“ سے بچھڑے چالیس سال ہوچکے تھے۔ اور ان خبروں کے باوجود کہ شبیر اب واپس نہیں آئیں گے۔
پاکستانی پائلٹ کی بیوی اُس انڈین دعوی کو جانے کیوں پہلے دن سے ماننے کو تیار نہ تھی۔ ایک موہوم سی امید تھی کہ انہوں نے ”شاید“ پیراشوٹ استعمال کیا ہو اور زمین پر گرفتار ہو گئے ہوں۔ اور اب بھی ”ویر پرتاپ سنگھ“ کی طرح کسی ہندستانی جیل میں دن گزار رہے ہوں۔ بیگم شہناز کے اس وسوسہ پر مزید مہر اس وقت ثبت ہوئی جب کسی نے انہیں بتایا کہ چند مہینے پہلے 2005 ء میں، ستمبر 1965 ء کی جنگ میں گرفتار ہونے والا ایک پاکستانی سپاہی (جس کی موجودگی کا ہندوستان نے کبھی اقرار نہیں کیا تھا) ۔ ہندوستانی جیل سے پاکستانی ماہی گیروں کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔ ”سپاہی مقبول حسین“ کو چالیس سال تک ہندوستانی جیل میں ظلم اور صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد پاکستان واپسی پر بھی ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا۔ اور کون جانتا تھا کہ اب بھی کتنے ہی مقبول حسین ہندوستانی جیل میں قید ہوں۔ جن میں لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے اسکواڈرن لیڈر شبیر عالم صدیقی بھی شامل ہوں۔
٭٭٭
میں نے ایک دن شہناز آنٹی سے پوچھا۔ (جو پاکستان میں ہوں تو آج بھی فضائیہ کے فیصل بیس پر رہتی ہیں ) ۔ لگ بھگ اِس ساٹھ سال کے عرصے میں سب سے زیادہ دکھ کب ہوتا ہے؟ کہنے لگیں، بیٹا, بمشکل چند لوگ ہیں جو شبیر عالم اور اس کے کارناموں کو جانتے ہیں۔ وجہ سادہ کہ انہیں کوئی جنگی تمغہ نہیں ملا۔ تو یوں جب کبھی جنگ کے غازیوں اور شہیدوں پر پروگرام ہویا کوئی کتاب لکھی جائے۔ بے تمغے کے شہیدوں اور ان کے خاندانوں کو ”لگ بھگ“ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس پر ظلم یہ ہے کہ میں اپنے شوہر کو عالم کہتی تھی اس حوالے سے جاننے والے مجھے آج بھی مسز عالم کہہ کر پکارتے ہیں۔ کہنے لگیں کسی محفل میں جب خود ائرفورس کے جونیئر افسران کی بیگمات سے، اسکول یا اسپتال میں میرا تعارف مسز عالم کہ کر کرایا جاتا ہے تو یہ بچیاں تقریباً عقیدت سے میرے ہاتھ پیر چوم لیتی ہیں۔ لیکن جونہی انہیں پتہ چلے کہ یہ مسز ایم ایم عالم نہیں بلکہ شبیر عالم صدیقی کی بیوہ ہیں تو انہیں ایک کرنٹ لگتا اور جھینپتے ہوئے پوچھتی ہیں۔ یہ کون تھے؟
شبیر عالم کی شہادت، ایک ایسی داستان ہے جو کسی اور ملک میں ہوتی تو اس پر ناول لکھی جاتی ساتھ فلمیں اور ڈرامے بنتے۔ مگر۔ ۔ ۔
٭٭٭٭٭ چار حصوں پر مشتمل ابتدائیہ ختم ہوتا ہے ٭٭٭٭٭




