چار آدمی از ڈاکٹر امجد ثاقب: ایک مسحور کن متحرک کتاب

میرے ایک عزیز دوست اس روز بڑے دنوں کے اصرار کے بعد ملنے آئے تو انھوں نے دو عنایات فرمائیں ؛ ایک تو وہ پروفیسر سجاد حسین کی کتاب ”شکستِ آرزو“ واپس لے آئے اور دوسرا انھوں نے کتاب ”چار لوگ“ تحفتاً پیش کی۔ اب اس زمانے میں ایسے بھلے لوگ کہاں جو نا صرف ادھار لی ہوئی کتاب سود سمیت واپس کر دیں بلکہ انھوں نے اسے پڑھ بھی لیا ہو۔ امجد ثاقب صاحب ویسے تو اب بڑے معروف آدمی ہیں مگر میں ان کو مل بھی چکا ہوں، سن بھی چکا ہوں اور سب سے بڑھ کر پڑھ بھی چکا ہوں۔
مصنف کی حیثیت سے میرا ان سے پہلا تعارف تب ہوا جب میرے ایک شاگرد نے ان کی کتاب ”کامیاب لوگ“ پر اپنا تفصیلی تاثر پیش کیا۔ دوسری ملاقات تب ہوئی جب میں نے اپنے ایک تدریسی مضمون کے سلسلے میں ان کے ساتھ ایک گفتگو ریکارڈ کی اور انھوں نے اپنی کتابیں ”شہرِ لب دریا“ اور ”مولو مصلی“ پیش کیں۔ شہر لب دریا پڑھی تو چنیوٹ شہر اور اس کے پیدا کردہ بڑے ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات ہوئی، جو شاید اس کتاب کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے چرخ چنیوٹی کو اسی کتاب میں پڑھا اور پھر کئی روز اس کے شعر پڑھتا اور سناتا رہا۔ چنیوٹ شہر کی عمارتوں اور شخصیات سے یہ ملاقات مصنف کا مجھ پر احسان رہا۔
چار لوگ ہاتھ آئی تو کئی روز واصف علی واصف کی کتابوں کے ساتھ میرے سرہانے پڑی رہی۔ اہلیہ نے اسے پڑھنا شروع کیا تو مجھے پوچھنے لگی کہ یہ فاونٹین ہاؤس کی عمارت کہاں ہے، یہ سنٹرل ماڈل سکول، یہ اسلامیہ کالج، یہ لکشمی مینشن نامی عمارتیں کیا ابھی بھی لاہور میں ہیں؟ پچیس دسمبر کو میں نے بیگم کو ہمراہ لیا اور براستہ فیروز پور روڈ لوئر مال جا پہنچا اور محترمہ کو ساری پرانی عمارتیں دکھا دیں۔ کہنے لگیں جس طرح کتاب میں ان عمارتوں کا ذکر ہے جی چاہتا تھا اڑ کر پہنچا جائے اور انہیں دیکھا جائے۔ میں نے پوچھا حضور کتاب کیسی ہے، کہنے لگیں مسحور کن، میں نے اس تاثر جاناں کو کافی جانا اور کتاب پڑھنی شروع کردی۔
کتاب کا آغاز افسانوی ہے، مرکزی موضوع فاونٹین ہاؤس اور اس کے چار معمار ہیں۔ کتاب چار آدمیوں کی چار کہانیوں پر مشتمل ہے اور ہر کہانی میں کئی اور لوگوں، عمارتوں، شہروں اور اداروں کی کہانیاں ہیں۔ ہر آدمی اور اس کی کہانی اتنی دلچسپ ہے کہ مکمل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مصنف جو فاونٹین ہاؤس کا حاضر سربراہ بھی ہے وہ یوم عید پر ادارے میں اپنے برخوردار کے ساتھ موجود ہے، اور تصور و تخیل میں اس کی ملاقات ان تین لوگوں سے ہوجاتی ہے جو اس ادارے کے معمار ہیں مگر اب دنیا سے جا چکے ہیں۔ مصنف ان سے اپنی کہانی سنانے پر اصرار کرتا ہے اور پھر اس شرط پر کہ مصنف خود بھی اپنی کہانی سنانے گا سب نے اپنی اپنی کہانی سنائی۔
پہلی کہانی ڈاکٹر رشید چوہدری نے سنائی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کیسے تقسیم اور ہجرت کے بعد انھوں نے محدود وسائل کے باوجود تعلیم حاصل کی۔ اپنی تعلیم کے سلسلے میں اپنی والدہ کی غیر معمولی تائید اور محبت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ کیسے لوگوں کی مخالفت کے باوجود انھوں نے ولایت میں نفسیاتی تعلیم کا انتخاب کیا اور پھر وہ کیسے بڑے ماہر نفسیات بنے۔ ڈاکٹر صاحب لاہور مینٹل ہسپتال کے سربراہ بھی رہے، اور اس کے ساتھ انھوں نے فاونٹین ہاؤس کی بنیاد بھی رکھی۔ اس ادارے کے سلسلے میں انھیں ایک عمارت درکار تھی، وہ عمارت ڈھونڈ رہے تھے تو ان کو ترک شدہ ہندو بیوہ گھر کی عمارت کا کسی نے بتایا۔ وہ عمارت دیکھنے پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ تو بالکل ویسی ہی بنی ہوئی ہے جیسی وہ چاہتے تھے۔
یہ عمارت 1921 میں سر گنگا رام نے ایسی ہندو بیوہ عورتوں کے لیے بنوائی تھی جن کا کوئی اور سہارا نہیں ہوتا تھا۔ یہ 1947 تک آباد رہی اور پھر بعد میں مکینوں کے جانے کے بعد مکان خالی ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے عمارت کے حصول کے لیے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب ملک معراج خالد سے رابطہ کیا اور ان کے تعاون سے عمارت حاصل کرلی۔ ہندو بیوہ گھر کی عمارت فاونٹین ہاؤس میں بدلی اور وہ جن کے خواب الجھ جاتے ہیں ان کی خدمت کا ذریعہ بن گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت سے ایسے لوگوں کی کہانیاں بھی سنائیں ہیں جو مریض کی حیثیت میں ان سے ملتے رہے۔
دوسری کہانی ملک معراج خالد کی ہے کہ کیسے ایک دودھ بیچنے والا ملک کا وزیراعظم بنا۔ ملک صاحب چونکہ سیاسی آدمی تھے اس لیے ان کی کہانی ان کی سیاسی جدوجہد، کامیابیوں اور ناکامیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی کہانی میں ہماری سیاسی تاریخ بھی پوشیدہ ہے۔ ملک صاحب مال روڈ پر موجود لکشمی مینشن میں رہے اور وہاں سے لاہور اور پاکستان کو بنتے اور بگڑتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ملک صاحب نے کئی سماجی بھلائی کے منصوبوں کا آغاز بھی کیا اور کئی دوسروں کی معاونت بھی کی۔
تیسری اور میرے لیے سب سے دلچسپ کہانی سر گنگا رام نے سنائی۔ گنگا رام کو جدید لاہور کا بانی کہا جاتا ہے۔ گنگا رام نے بتایا کیسے ان کی پیدائش شیخوپورہ کے قریب ایک گوردوارے میں ہوئی جہاں ان کو دیکھ کر ایک فقیر نے کہا تھا کہ یہ کچھ بنے گا۔ گنگا رام نے اپنی تعلیم و تربیت اور انجنیئر نگ کے کیرئیر کی کہانی بڑی تفصیل سے سنائی۔ کیسے انہوں نے جدید لاہور کی مال روڈ اور دوسری بہت سی عمارتوں کو تعمیر کیا۔ گنگا پور گاؤں کی بنیاد اور تعمیر ایک دلچسپ داستان ہے۔ گنگا رام نے یہ ذکر بھی کیا کہ کیسے انھوں نے ہندو بیواؤں کی دوبارہ شادی کروانے کی مشکل مگر کامیاب تحریک چلائی۔ گنگا رام کی کہانی ہی وہ کہانی ہے جس نے اس کتاب کو مسحور کن اور متحرک بنا دیا ہے۔ میرا جی کیا کہ زندگی گزاروں تو گنگا رام جیسی، جس نے ایک چھوٹی سی زندگی کو ایسے جیا کہ اس نے زندگیوں میں رنگ بھر دیا۔
چوتھی اور آخری کہانی مصنف نے اپنی سنائی، مصنف کہانی کہنے میں ملکہ رکھتا ہے۔ اس کے پاس ناصرف کہنے کو بہت کچھ ہے بلکہ کہنے کا سلیقہ بھی بہت ہے۔ مصنف کی کہانی میں اس کا سول سروس میں جانا اور پھر اسے چھوڑ کر اخوت جیسے ادارے کی بنیاد رکھنا ہی سب سے اہم اور دلچسپ ہے۔ مصنف نے اپنی تصانیف کا تعارف جو کروایا تو میں سوچنے لگا اس کی سب سے بڑی تصنیف اخوت ہے جو اسے کبھی مرنے نہیں دے گی۔
میں نے کتاب چار نشستوں اور دس دنوں میں پڑھی، اور ہر مرتبہ کتاب چھوڑنے کے بعد اس میں گم ہو جانے کا منتظر رہا۔ میں کتاب میں کھویا رہا اور اب سوچتا ہوں کہ میں بھی کچھ ایسا کر جاؤں جس سے زندگیوں میں آسانی بھری جا سکے۔
شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
احمد فراز

