اسرائیل عالمی عدالت میں
غزہ پر گرنے والے بم عالمی برادری کے حساس لوگوں کو اپنے دلوں پر گرتے محسوس ہوئے ہیں۔ آئر لینڈ اور جنوبی افریقہ نے سب سے زیادہ کھلم کھلا اسرائیل کی بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اسرائیل کے سفیروں کو اپنے ملک سے نکال دیا ہے اور صاف صاف کہا ہے کہ ان کا اعتراض صرف سات اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے رویے پر نہیں ہے بلکہ 1948 سے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے سلوک پر ہے۔
آئر لینڈ نے عرصہ دراز تک برطانیہ کے غلام رہے اور ان کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جاتا تھا۔ جنوبی افریقہ، گوروں کے نسلی امتیاز کے اپارتھائڈ (apartheid) سے بمشکل نیلسن مینڈیلا کی قیادت میں نکلا ہے اور اسے اب بھی نیلسن مینڈیلا کا یہ کہنا یاد ہے کہ جب تک فلسطینی آزاد نہیں ہوتے اپارتھائڈ کا خاتمہ نہیں ہو گا۔
جس نے ہر ایک پر گرانی کی اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا۔ یعنی جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت میں اسرائیل کے اوپر Genocide یعنی نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔ اسی سے زیادہ صفحات میں 1948 سے لے کر اب تک فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے تمام جرائم کی فہرست ہے۔ دنیا کے نامور وکیلوں نے اپنی خدمات اس کے لیے پیش کی ہیں۔ اور ایک اسرائیلی پروفیسر نے جن کا مضمون Genocide Studies ہے
انھوں نے لکھا ہے کہ نسل کشی کا مطلب ہر ایک کو قتل کرنا نہیں ہو تا بلکہ وہ اقدام ہیں جو اس قوم کی شناخت کو ختم کر دیں اس کی جڑوں کو اکھاڑ دیں اور یہ سب اقدام دنیا اسرائیل کو کرتے دیکھ چکی ہے اور اب جب ان کی حکومت کے سرکردہ افراد اور میڈیا میں نامور لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ غزہ کا نشان مٹا دو اور
فلسطینیوں میں کوئی بے خطا نہیں ہے اور ان کے بچے بچے کو ختم کردو۔
ماشا گیسن روسی نژاد امریکی جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ نازی جرمنی کے یہودی گیٹوز اور غزہ میں صرف اتنا فرق ہے کہ ابھی غزہ میں لوگ زندہ ہیں اور دنیا کے پاس کچھ کرنے کا وقت ہے۔
امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس اور اسپین کی حکومتیں گنگ ہیں لیکن ان کے عوام تین مہینے سے سڑکوں پر غزہ پر ہونے والی بمباری، ان کی لیے پانی، خوراک، بجلی اور انٹر نیٹ کے بند کردینے کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ اب امریکہ میں کچھ لوگ بھوک ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔ امریکہ میں وہ یہودی تنظیمیں کن کا مقصد تمام امریکی یہودیوں کو اسرائیل کی طرفداری کرنے اور اسے اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھنا ہوتا ہے ان کے ممبران اپنے اجلاس میں یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ اب یہ دائیں اور بائیں بازو کا فرق نہیں رہا ہے، ہم نے اگلی نسل کو اپنے ہاتھ سے کھو دیا۔
اور یہودی نئی نسل کے یہ نمائندے، جوان مرد و عورت، جو ہائی اسکول کے بعد اسرائیل جاکر وہاں کی فوج میں دو سال کے لیے بھرتی ہو جایا کرتے تھے اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے فلسطینیوں پر جو ظلم کرائے گئے تھے ان پر وہ شرمندہ ہیں۔ جو جوان عورت مرد وہاں نہیں گئے تھے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ابتدائی مذہبی جماعتوں سے ہی اسرائیل کے متعلق جھوٹ سکھایا جاتا ہے۔ اور ہمیں اب فلسطینیوں پر ہونے والے ان مظالم کا علم ہوا ہے جو اسرائیل کو بنانے کے لیے کیے گئے تھے جن میں نہتے فلسطینیوں کو یہودی ملیشیا نے ان کے گھروں سے زبردستی نکال کر ان کی املاک پر قبضہ کیا تھا۔ اس غارتگری کو فلسطینی النکبتہ یعنی ”the catastrophe“ کہتے ہیں اور انگریزی میں اسے Nakba کہا جاتا اور اسرائیل میں اس لفظ کا زبان سے ادا کرنا جرم ہے۔ چونکہ اسرائیلی حکومت چھوٹا جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھتی وہ ہمیشہ بہت بڑا جھوٹ بولتی ہے۔ ان کا نعرہ تھا
(A land without people for a people without a land)
ایک بے آباد زمین، بے زمین لوگوں کے لیے۔ اب یہ تو درست ہے کہ یورپ سے نکلے ہوئے یہودی بے زمین تھے لیکن مشرقِ وسطی کی زمین انسانی تمدن کی ابتدا سے آباد ہے۔ اور یہودیوں کے مذہب کے مطابق حضرت موسی کے وہاں پہنچنے کے وقت بھی آباد تھی۔
نوم چومسکی نے کہا ہے کہ یہ یورپی settler colonialism کا آخری فیز ہے۔ یہ ہندوستان اور الجیریا میں برطانیہ اور فرانس کے حکومت کرنے سے مختلف ہے۔ اس کی مثال امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا میں گوروں کا جاکر اور وہاں کے مقامی باشندوں کو ہلاک یا دربدر کر کے بسنے ہیں۔ یہی فلسطین میں کیا گیا ہے اور یہی ممالک امریکہ کے ساتھ اسرائیل کی سب سے زیادہ حمایت کر رہے ہیں۔
اب تک اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے اپنی پوری کوششوں کے باوجود امریکہ کے ویٹو کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکے ہیں۔ تہتر سالہ سیکریٹری جنرل خود خوراک کی ٹرکوں کے ساتھ گئے تاکہ اسرائیل کے فوجی اس کو اندر جانیں دیں۔ اس کے باوجود جتنی غذا کی ضرورت ہے اس کا صرف بیس فیصد غزہ میں پہنچ پاتا ہے۔ علاج اور دوا ناممکن ہو چکے ہیں۔ پینے کا پانی نہیں ہے اور ہر روز
بمباری سے پورے پورے خاندان لقمہ اجل ہو رہے ہیں، اور اب بے گھر لوگ خیموں میں سردی کی بارشوں سے بیمار پڑ کر ہلاک ہو رہے ہیں۔
غزہ کی بمباری اور اس باوجود وہاں کے لوگوں کی بہادری، انسانی ہمدردی اور مصائب کی تصویر نامہ نگاروں اور فوٹوگرافروں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کو دکھائی ہیں اور اسی سے انھوں نے دنیا کے ضمیر کو جگا دیا ہے۔
اس جد و جہد میں ستر جرنلسٹ اور فوٹوگرافر اپنے امتیازی نیلے ہیلمٹ اور جرسیوں پر بڑے حروف میں ”پریس“ لکھنے کے باوجود محفوظ نہیں رہے۔ یا شاید اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کے لیے اسرائیلی فوج نے قتل کیے ہیں۔ یہی زیادہ درست لگتا ہے۔
ظاہر ہے دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفاد کے آگے کسی کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتیں۔ وہ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کر کے وہاں پر دریافت کی گئی گیس نکالنا چاہتے ہیں۔ روس سے آنے والی زیرِ آب پائپ لائن جو یورپ کو گیس فراہم کرتی تھی یوکرین کی جنگ کی ابتدا میں ہی اڑا دی گئی تھی۔ شبہ یہی ہے کہ یہ مشکل کارنامہ اس بڑے ملک کا ہے جو اب یورپ کو گیس فراہم کر رہا ہے۔ اب
یورپ کے ممالک سے یہ توقع تو نہیں رکھی جا سکتی کہ غزہ کی حمایت کریں اور اپنے عوام کو ٹھٹھرنے دیں!
دوسرا منصوبہ بن گوریان کنال بنانے کا ہے سنائی کے دوسری طرف سویز کنال سے دگنی بڑی، اتنی چوڑی کہ دو جہاز ایک وقت میں اس میں سے گزر سکیں۔
یہ سب فلسطینیوں کو منصوبوں اور منافع میں حصہ دار بنا کر امن و آشتی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے لیکن جیسے ایک اسرائیلی جرنلسٹ میکو پیلیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حکومت کے ساتھ گفتگو نہیں ہو سکتی وہ صرف تشدد اور نسلی امتیاز استعمال کرتی ہے۔ میکو خود فوج میں رہ چکے ہیں اور بقول ان کے ایک کٹر اسرائیلی گھرانے میں پلے تھے لیکن وہ اب کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کو آزادی حاصل کرنے کے لیے ہر کوشش کرنے کا حق ہے۔ فلسطینی جیل کی دیوار کے ایک طرف ہیں اور ان کی زمینیں ان کے مکان دوسری طرف ہیں۔ وہ اسرائیل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے وہ اس امتیازی سلوک کا خاتمہ چاہتے ہیں جس نے ان کی زندگیاں کو جہنم بنایا ہوا ہے۔
یہی لگتا ہے کہ اسرائیل کبھی فلسطین کو ایک الگ ملک کے طور پر پنپنے نہیں دے گا تو شاید یہاں کے اپارتھائیڈ کو ختم کر کے ایک سیکولر حقیقی جمہوری
ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہو سکے جیسا کہ الیکٹرانک انتفادہ کے بانیوں میں سے ایک فلسطینی امریکی، علی ابونیمہ نے اپنی کتاب،
One Country: A Bold Proposal میں تحریر کیا ہے۔


