معاف کر دینے کا حق کس کو ہے؟
لمحہ موجود میں جسم کے کسی حصے میں درد یا تکلیف ہو تو یہ درد ماضی کے درد و تکلیف سے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ بیشتر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ حال میں محسوس کرنے کی حس کے تیز کام کرنے کے باعث ہو یا پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حال کا درد ماضی کی تکالیف کو بھی اپنے ساتھ ضم کر لیتا ہے اور یوں درد اپنی شدت سے حال کو بے حال کر دیتا ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے ماضی کے آلام کم تو محسوس ہوتے ہیں مگر غیر مانوس نہیں۔
حالیہ انتخابات کی گہما گہمی دیکھ کر 2018 ء کے انتخابات کا منظر تازہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بھی پہلے آگ لگائی گئی اور پھر کنویں کھودنے کی ملک گیر مشق جاری رکھی گئی۔ یہی مشق پھر سے دہرانے کا وقت ہو چکا۔ غالباً نون۔ م۔ راشد نے ایسے ہی حالات کے پیش نظر زندگی سے ڈر جانے کا خیال ظاہر کیا تھا۔ نارسائی کے دور میں ہمارا سفر اب اس مقام پر ہے جہاں لبوں کو آزاد محسوس کرنا بھی ہیچ آرزو مندی معلوم ہو۔
حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف نے آمدہ انتخابات کے لیے آن لائن فنڈ ریزنگ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان کسی طور بھی انتخابی مہم کے لیے وضع کردہ شرائط اور ضابطے کے خلاف نہیں تھا۔ کوئی بھی جماعت اپنی عوامی پذیرائی کے مطابق فنڈز کی مانگ کر سکتی ہے۔ اب یہ استحقاق اس جماعت کے کارکنان کا ہے، وہ چاہیں تو بات سنیں، چاہیں تو نہ سنیں، فنڈز دیں یا نہ دیں کسی دوسرے یا تیسرے کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن موجودہ نگران حکومت نے فنڈ ریزنگ کو روکنے کے لئے اپنا رسوخ تمام سوشل میڈیا آؤٹ لٹ کی غیر علانیہ بندش کی صورت میں دکھانا ضروری سمجھا۔ اس عمل سے جہاں ایک طرف سیاسی مخالفین کو ایذا دینے کی رسم رواں رکھی گئی تو دوسری طرف آن لائن کاروباری حضرات کو بھی سخت مشکلات پیش آئیں۔
حکومت کی جانب سے کی گئی اس غیر علانیہ انٹرنیٹ بندش سے ایک بات تو واضح ہے کہ سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگا دینے کی روش یہاں ایسے ہی چلتی رہے گی۔ تحریک انصاف کے دور میں سیاسی مخالفین کے لئے ہم نے ایسے اقدامات ہی دیکھے، پھر نون لیگ اور ابھی نگران حکومت کے دور میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اور بالفرض آئندہ انتخابات میں اگر نواز شریف تیار شدہ شیروانی دوبارہ زیب تن کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بھی مخالفین کو رگیدنے کی رسم یوں ہی چلتی رہے گی۔
رسم کا یوں ہی چلنا محض سیاسی مخالفین کی آوازیں دبانے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اگر گزشتہ انتخابات کی ہی بات کی جائے تو پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر کئی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان کی جانب جھکاؤ کے سبب، عمران خان کو سلیکٹڈ یعنی نامزد وزیر اعظم کہا کرتی تھیں۔ اور اب اسی اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ پھر سے نواز شریف کو لاڈلا بنانے کی طرف ہو گیا ہے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ کی اپنی قانون شکنی کی ریت اور حکمرانوں کی لاڈلا بننے کی روایت جوں کی توں جاری ہے۔
نواز شریف کا سابقہ موقف کہ انہیں غیر جمہوری انداز سے ہٹایا یا نکالا گیا، اب ’میں سب کو معاف کرتا ہوں‘ میں بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر ہوا کا رخ بدل جائے اور ایک مرتبہ پھر سابقہ لاڈلا ( عمران خان) حالیہ لاڈلا بن جائیں تو بعید از قیاس نہیں کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کے لیے عمران خان بھی نواز شریف کا حالیہ موقف اپنا لیں اور سب کو معاف کر دیں۔ مگر اس ساری رائیگانی کے سفر میں ایک سوال جو جواب کا متقاضی ہے، کیا کسی حکمران کو اپنی طرف سے ہی قانون شکن قوتوں کو معاف کر دینے کا حق حاصل ہے؟ جمہوری بالا دستی کا نعرہ لگا کر ووٹ لینے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کے عوام کے حقوق پر شب خون مارنے والوں کو معاف کرنے یا سزا دینے کا حق فرد واحد کی ملکیت نہیں بلکہ اس ملک کے عوام کا استحقاق ہے۔ ہمیں اس شخصی معافی کی رسم کو بھسم کرنا ہو گا۔


