اچھوتوں کی ڈائری۔ سندھ گلال


رانا محبوب اختر کی نئی کتاب ”سندھ گلال“ سندھڑی کی وہ گم شدہ آواز ہے جو لوٹ آئی ہے۔ یہ آواز دیوتاؤں کی داستانوں کے سامنے مقامی آدمی کی کہانی ہے۔ وہ آواز جو حملہ آوروں کے رزمیہ داستانوں کی دھج اور جھوٹ میں کے گم ہو گئی تھی۔ یہ ڈیوجی، سورتے، سنبھو اور پھلاج کی کہانی ہے۔ یہ سارنگ، سنگھار، سرہے اور لکھمیر کی کہانی ہے۔ یہ ان زمیں زادوں کی کہانی ہے جو بادشاہوں کے شاہناموں میں اچھوت، ملیچھ اور راکشس قرار دیے گئے۔

یہ سندھ دھرتی کے لوگوں کے سینوں میں زمانوں سے محفوظ پڑی ہوئی آتم کتھا ہے۔ یہ کہانی جھوٹی داستانوں کو ملیا میٹ کرتی ہے۔ اس کتاب میں ایک اسکالر کی علمی بصیرت اور مضبوط دلیل کو انتہائی حسین نثر میں لکھا گیا اور خشک موضوعات کو مور کے رنگوں سے بیان کیا گیا ہے۔ اتنا حسین نثر پڑھ کر دل میں آتا ہے کہ لکھنے والے کو ہاتھ جوڑ کے گزارش کی کہ جائے کہ تحریر اور عورت کو اتنا حسین ہونا چاہیے جتنا فانی انسان برداشت کر سکے۔

اس کتاب کے اوراق پر سمبارا رقص کر رہی ہے۔ اس کتاب کے صفحات پر سمبارا کے بائیں ہاتھ میں پہنی ہوئی پچیس چوڑیاں اور دائیں ہاتھ کے چار کنگن بج رہے ہیں۔ یہ کتاب بتا رہی ہے کہ موہن جو دڑو میں آرٹ تو ہے لیکن کسی تلوار اور مقدس طاقت کا کوئی نشان نہیں ہے۔ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ موہن جو دڑو کی بڑی ایجاد پہیا تھا یا سرخ اینٹ، جس سے حمام، اناج گودام اور پارلیمان بنائے گئے۔ رانا محبوب اختر نے سندھ کی ہزاروں سالہ تاریخ کو جگہ جگہ آج کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

اسے قاضی احمد کے سمارٹ ہوٹل کی ایک بے نام لڑکی کو دیکھ کر موہن جو دڑو کی سمبارا کا دھیان آیا۔ ”وہ اور سمبارا ہم رنگ، ہم نسل اور ہم شکل ہیں۔ سمبارا کی تمکنت کے ساتھ اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھا۔ سمبارا کا مجسمہ سندھ کے کسی قدیم مائیکل اینجلو نے تراشا ہو گا۔ سمارٹ ہوٹل پر ملنے والی بھیل بچی خدا کی مصوری تھی۔ سمبارا کا نیا جنم؟ غربت، استعمار، اور حملہ آوری کے قہر کی ماری نئی سمبارا کی آنکھوں میں سندھ وادی کی تہذیب کے پانچ ہزار سال ٹمٹماتے تھے!“

اس کتاب میں رانا محبوب اختر کے وسیع مطالعے کی جھلک ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ رنگوں مذہبوں، ہندسوں اور مقامیت پہ حملہ آوری کے موضوعات پہ لکھتے ہوئے وہ کرہ ارض کے تمام حصوں کے رنگوں، مذہبوں، ہندسوں اور مقامیت پہ ہونے والے حملوں سے اپنی بات کو جوڑتا ہے۔ آریاؤں، ایرانیوں، یونانیوں، خراسانیوں، عربوں، منگولوں اور گورے حملہ آوروں کے بیچ میں صدیوں کے فاصلوں کے باوجود مشترک بات، مقامیوں کے قتل پر اتفاق ہے۔ سب قتل کرتے ہیں اور ثواب کماتے ہیں۔ ان سب کے نزدیک زمیں زاد کا قتل کار خیر ہے۔ شکست خوردہ لوگوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنانا جائز ہے۔ ان کی عورتوں کو اٹھانا اور بیچنا روا ہے۔ ان کے بچوں کو قیدی بنانا روا ہے۔ ان کے قتل عام پہ جشن منایا تہذیب ہے۔ اسی تہذیبی عمل کے نام پر صرف گوروں نے تین کروڑ ہندستانیوں کو وحشی کہہ کر مار دیا۔

پیغمبر ﷺ  کے واضح حکم کے باوجود ایرانی، آرامی، بربری اور دوسرے مفتوح علاقوں سے نئے مسلمان ہونے والوں کی پہچان کے لیے عربوں نے ان کو موالیوں کا ٹائیٹل دیا جو بعد میں شیعوں کی طرف منتقل ہوا۔ سندھ گلال میں اس اچھوت پن پر بھی تفصیلی لکھا گیا ہے کہ دنیا فتح کرنے کا خفت بدنصیبی ہے، اس کے لیے خون بہانا پڑتا ہے۔ نئی دنیا دریافت کرنے کے چکر میں صرف امریکا میں سات کروڑ لوگ مارے گئے اور دنیا کے انتہائی حسین لوگوں کو ریڈ انڈینز قرار دے کر ان کی دھرتی چھین لی گئی۔

ان انتہائی حسین لوگوں کی سرزمین پر گورا نہ صرف بندوق بلکہ چیچک کی بیماری بھی لے گیا، جس سے ان کے خوبصورت چہروں پر بدنما داغ پیدا ہو گئے۔ جب وہ اپنے حسین چہروں پر بدنما داغ دیکھتے تو خودکشی کر لیتے تھے۔ گوروں کی طرح ہی دنیا فتح کرنے کا خفت یہاں اشوکا کو بھی تھا۔ اس نے اپنے ننانوے بھائیوں سمیت لاکھوں لوگوں کو قتل کر دیا۔ طاقت کی ہر شکل ہر جگہ بری ہوتی ہے!

کولونیل ازم کا کام دھرتی واسیوں سے ان کے کھیت چھین کر ان کو بھوک دینا اور نفرت بونا ہے۔ سامراج لوگوں کو مذہبوں، فرقوں، قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کرتا اور لڑاتا ہے۔ اس نے ہمارے خوبصورت سماج سے اس کی قوت برداشت چھین لی ہے۔ پھر بھی اس دھرتی کے قصہ گو اور شاعر نے درباری تاریخ کے سامنے ہماری کہانی کو زندہ رکھا۔ انھوں نے فاتحوں کے سامنے قتل ہونے والوں اور ہار جانے والے دھرتی جایوں کو اپنے قصوں اور کہانیوں میں سرخرو اور امر بنا دیا۔

انہوں نے حملہ آور کے سامنے مقامی مزاحمت کار کو اپنی کتھاوٴں میں قابل فخر اور قابل رشک دکھایا۔ اسی لیے ہم اپنے آپ پر فخر بحال رکھ سکے اور وہ ہماری دھرتی پر قابض ہونے کے باوجود ہمارے ذہنوں پر غلبہ نہ پا سکے اور ہم سے خوفزدہ رہے۔ اس حوالے سے ہم اپنے بھاگو بھان جیسے قصہ گو اور شاہ لطیف اور شیخ ایاز جیسے شاعروں کے احسان مند ہیں۔

رانا محبوب نے یہ کتاب لکھنے کے لیے سندھ میں پینتالیس ہزار کلومیٹر سفر کیا۔ ہر موضوع پہ ایک عالم کی طرح نگاہ ڈالی، سینہ در سینہ چلنے والے قصوں اور کہانیوں کا کتابوں میں لکھی باتوں سے موازنہ کیا اور ان باتوں کو دنیا کے دوسرے خطوں کے حالات کے تناظر میں دیکھا۔ اس خطے پہ یلغار کرنے والی تمام قوموں پہ تفصیلی گفتگو کی کہ کس طرح انھوں نے ہماری دھرتی سمیت پوری دنیا میں مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، مقامی تہذیبوں کو تباہ کیا۔ ان کی زبانیں مٹائیں، کتب خانے جلائے اور دھرتی واسوں سے زمینیں چھین لیں۔ سرائیکی وسیب سے رفعت عباس کے بعد یہ دوسری جرات مند آواز ہے جس نے کولونیل ازم کے خلاف اور مقامیت کے حق میں مدلل اور دلسوز بات کی ہے۔

رانا محبوب اختر جب جھوک پہنچتا ہے تو اس کی کتاب کے ورقوں پہ آنسو بہنے لگتے ہیں۔ جب وہ مزار کے آنگن میں بیمار، لاچار اور نادار عورتوں اور مردوں کو دعائیں مانگتے دیکھتا ہے تو وہ اسے شاہ عنایت شہید کے کرچی کرچی خواب لگتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ ریاست نے ایک انقلابی کی قبر پہ کس طرح عقیدت مندی کی ”نیلیاں سلہاں“ لگادیں ہیں۔ جس آنگن سے سندھ میں انقلاب اور اشتراک کا فیض عام ہونا چاہیے تھا وہاں ایک عقیدت کی ایک درگاہ ہے اور انقلاب کا خواب ریزہ ریزہ ہے۔

مارکس سے بھی ایک سو سال پہلے جو کھیڑے سو کھائے کا نعرہ لگانے والے کی درگاہ لنگر خانہ بن کر اسی کے نعرے کی نفی کر رہی ہے۔ پھانسیاں دینے، گردنیں کاٹنے اور زبانیں کھینچنے میں مشہور فرخ سیر اور اس کا کارندہ اعظم خان شاہ عنایت کو شہید کرنے کے باوجود اس طرح دفن نہ کر سکے تھے جس طرح اس کے گدی نشینوں نے اسے دفنایا ہے۔ یہ وہی فرخ سیر ہے جس نے ہریانہ کے شاعر جعفر زٹلی کی اپنے خلاف مزاحیہ شاعری لکھنے پر زبان کھینچ لی تھی۔ جعفر زٹلی امر ہو گیا اور فرخ سیر ہمیشہ کے لیے رسوا ہے۔ اس کتاب میں جعفرز ٹلی پہ حارث خلیق کی نظم درج ہے :

کیسا بھڑوا تھا فرخ سیر
جس نے جعفر زٹلی کی
گدی میں موری بنائی
اور اس کی زبان کھینچ لی
کیا حرامی تھا اس نے زبان معلی کی مٹی میں گوندھے ہوئے
تازہ لہجے سے جاں کھینچ لی

چوبیس ہزار شہید کسانوں کی اجتماعی قبر گنج شہیداں پہ کھڑا ہو کر رانا محبوب لکھتا ہے ”آزادی، خوشی، مساوات اور عام آدمی کی خوشحالی کے خواب ہر زمانے میں شہادت کے اسباب رہے ہیں۔“

عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہوجانا روایت ہے۔

اس کتاب میں سمبارا ہے تو شاہ لطیف بھی ہے۔ دو دو سومرو ہے تو شہزادی زینب تاری بھی ہے۔ دریا اور دریا پنتھی ہیں۔ اڈیرو لال ہے۔ قلندر اور شو استھان ہیں۔ روپلو کولہی ہے تو ادھے سنگھ اور سوڈھو بھی ہے۔ وتایو فقیر، کارونجھر پہاڑ اور الہرکھیوکھوسو ہے۔

اس کتاب میں لکھا ہے :
” تاریخ بادشاہ کا پروپیگنڈا ہے اور لوک کہانی مقامی آدمی کا سچ ہے“
” پانی دھرتی کا پہلا بیٹا ہے“

” گنگا کی طاقت سے کرہ ارض ڈوب جانے کا خطرہ تھا شو نے برہما کی مرضی سے گنگا کے پانیوں کو اپنی زلفوں میں قید کیا دنیا کی تاریخ میں یہ زلفوں کی پہلی واردات تھی!“

”اڈیرو لال کی درگاہ سے باہر آیا تو میرے دامن میں سوالوں کے کانٹے اور گلاب تھے۔“
”غریب کی غربت کو دوام دینے کے لیے کولونیل ازم کسان کی جھونپڑی کی ایٹم بم سے حفاظت کرتا ہے“
” بھگوان کو علم تھا عورت بن کر جینا خدا ہونے سے مشکل ہے“

Facebook Comments HS

One thought on “اچھوتوں کی ڈائری۔ سندھ گلال

  • 12/01/2024 at 11:38 صبح
    Permalink

    ” تاریخ بادشاہ کا پروپیگنڈا ہے اور لوک کہانی مقامی آدمی کا سچ ہے“ کیا بات ہے.. ایک لاجواب کتاب پر لکھا گیا زبردست بلاگ….. خلیل کنبھار ایک زبردست لکھاری ہیں.

Comments are closed.