اب ”شکایتیں کیسی“ ؟

اسلام آباد میں مقیم سفارت کاروں سے میری گزشتہ دس سالوں سے بہت ہی کم ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ رواں صدی کی پہلی دہائی تک اگرچہ روزانہ ہی تین سے چار سفارتکاروں سے روابط کے ذریعے ”خبر“ تلاش کرنے کی مجبوری لاحق ہوتی تھی۔ بہرحال اچھا وقت تھا۔ گزر گیا۔ ان دنوں سفارتکاروں کی سرگرمیاں فقط میڈیا کی بدولت نگاہ میں آتی ہیں۔
مذکورہ پیمانے سے جائزہ لیتے ہوئے بتدریج یہ محسوس کر رہا ہوں کہ برطانیہ کی پاکستان تعینات ہوئی سفیر جنہیں دولت مشترکہ کے حوالے سے ہائی کمشنر پکارا جاتا ہے ان دنوں نمایاں حد تک متحرک ہیں۔ حسین اتفاق یہ بھی ہوا کہ جس دن سپریم کورٹ نے نواز شریف کی تاحیات نا اہلی کے فیصلے کو رد کیا تو وہ مسلم لیگ (نون) کے قائد نواز شریف کے ساتھ جاتی امراء میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس ملاقات میں مریم نواز صاحبہ بھی شریک تھیں۔
اس ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو تحریک انصاف کے حامیوں نے اس کے نیچے تبصروں کے ذریعے طوفان برپا کر دیا۔ بنیادی تصور یہ دیا کہ ”سامراج کی نمائندہ“ یعنی برطانوی ہائی کمشنر ”چور اور لٹیرے نواز شریف کے ساتھ“ ملاقات کے ذریعے درحقیقت وطن عزیز میں ”کرپٹ“ سیاست کی سرپرستی فرما رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے نمائندے اس امر کی بابت بھی بہت خفا سنائی دیے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک دنیا بھر میں ”خالص جمہوریت“ کو فروغ دینے کے ”ڈھونگ“ رچاتے ہیں۔ یہ مگر دیکھ نہیں پا رہے کہ ”پاکستان کی مقبول ترین جماعت“ یعنی تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو انتخابی عمل کے انتہائی قریب ”جھوٹے مقدمات“ کی بنیاد پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف چلائے مقدمات کی سماعت عدالتوں میں نہیں ہوتی۔ ”عدالت“ بلکہ جیل میں جاکر ان کے خلاف لگائے الزامات کا جائزہ لیتی ہے۔ برطانوی سفیر کی نواز شریف کے ساتھ ہوئی ملاقات کی تصویر کے نیچے لکھے تبصروں کی بھرمار سے فقط برطانیہ ہی نہیں امریکہ کو بھی یاد دلانے کی کوشش ہوئی کہ تحریک انصاف کو آئندہ انتخابات کے لئے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی جا رہی۔ عمران خان کے علاوہ بھی تحریک انصاف کے چودھری پرویز الٰہی اور مخدوم شاہ محمود قریشی جیسے صف اوّل کے رہ نما ”بے بنیاد مقدمات“ کی بدولت جیلوں میں ہیں۔ انتخابات میں شمولیت کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوچکے ہیں۔ سرکردہ رہ نماؤں کے علاوہ تحریک انصاف کے ممکنہ امیدواروں کی بھاری بھر کم تعداد کو پولیس اور انتظامیہ نے کاغذات نامزدگی پیش کرنے ہی نہیں دیے۔ وہ داخل ہو گئے تب بھی مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی منظوری میں بے تحاشا رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
شکایات کے گویا طومار تھے جن میں ہر وہ الزام دہرایا گیا جو تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ذریعے آئندہ انتخابات کو ”یک طرفہ“ اور ”غیر منصفانہ“ ٹھہرانے کے لئے تواتر سے اٹھائے جا رہی ہے۔ آئندہ انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اگرچہ یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ میسر نہ ہونے کے حوالے سے جب تحریک انصاف کے وکلاء سے ٹی وی سکرینوں پر براہ راست دکھائی سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران ٹھوس ثبوت کا تقاضا ہوتا ہے تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ فلاں دن فلاں امیدوار کے ساتھ ”یہ واقعہ“ ہوا جیسے ثبوت پیش کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر پھیلی ”خبروں“ پر توجہ دلوانے کی کوشش ہوتی ہے۔
ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے میں یہ حقیقت جھٹلانے کی ڈھٹائی سے قطعاً محروم ہوں کہ تحریک انصاف ان دنوں مشکل دنوں کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان میں لیکن کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا سلوک ”پہلی بار“ ہرگز نہیں ہو رہا۔ 1977 ء سے بتدریج پاکستان پیپلز پارٹی ہمارے حکمرانوں کے لئے قطعاً ناقابل قبول ہونا شروع ہوئی تھی۔ 1999 ء کے بعد جنرل مشرف کی حکومت نے نواز شریف کی مسلم لیگ (نون) کو مفلوج بنانے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ لندن میں کئی برسوں سے مقیم ہوئے الطاف حسین کی بنائی ایم کیو ایم بھی اب اپنی اصل قوت کے ساتھ موجود نہیں رہی۔ تتر بتر ہو چکی ہے۔ اب کی بار تحریک انصاف کو کڑے وقت کا سامنا ہے۔ دو ٹکے کا رپورٹر ہوتے ہوئے میں فقط اس خواہش کا اظہار ہی کر سکتا ہوں کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔
اپنی خواہش کے نیک نیتی سے اظہار کے بعد تحریک انصاف کے دوستوں سے وسیم بادامی کی طرح ایک ”معصوم سوال“ ضرور پوچھنا چاہتا ہوں۔ حال ہی میں ان کے محبوب قائد جناب عمران خان نے برطانیہ کے موقر اور تاریخی جریدے ”دی اکانومسٹ“ کے لئے ایک مضمون لکھا ہے۔ مذکورہ مضمون میں انہوں نے ایک بار پھر اس الزام کو صراحت سے دہرایا ہے کہ اپریل 2022 ء میں ان کی حکومت کو درحقیقت امریکہ نے ایک سازش کے ذریعے فارغ کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ واشنگٹن ان کی جانب سے اپنائی خودمختارانہ خارجہ پالیسی سے خوش نہیں تھا۔ ان کی آزادانہ روش شاید برداشت کرلی جاتی۔ پاکستان سے مگر اس کی سرزمین پر امریکی فوج کے لئے ”اڈا“ نہیں بلکہ ”اڈوں“ کا مطالبہ ہوا۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم انکار کر دیا تو ان کی مخالف جما عتوں کو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کو اکسایا گیا۔ ان دنوں کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر عمران خان کا ساتھ نہیں دیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بلکہ ان کی پیٹھ پر چھرا گھونپا۔
حال ہی میں شائع ہوا مضمون تحریک انصاف کے دوستوں کو بار بار پڑھنا چاہیے۔ اس میں بیان ہوئے عمران خان کے دعوے درست ہیں تو خدارا یہ بھی سوچیں کہ عمران خان کو مبینہ طور پر ”سازش“ کے ذریعے ہٹانے والا امریکہ پاکستان میں ایسے انتخابات کے انعقاد کے لئے اپنا اثر و رسوخ کیوں استعمال کرے گا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف ایک بار پھر اقتدار میں لوٹ سکتی ہے۔ امریکہ کا سب سے قریبی حلیف ہوتے ہوئے برطانیہ بھی عمران خان جیسے ”خودمختار“ شخص کو پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر ایک بار پھر براجمان ہوتا نہیں دیکھنا چاہے گا۔ برطانوی ہائی کمشنر سے لہٰذا عبداللہ علیم کی بتائی ”شکایتیں کیسی؟“ ۔ تحریک انصاف نے اگر دیانتداری سے امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کی حمیت و خود مختاری اجاگر کرنے کی خاطر ”متھا“ لگا ہی لیا ہے تو امریکہ اور برطانیہ کے اسلام آباد میں مقیم سفیر حکومت پاکستان پر ایسے انتخابات منعقد کروانے کے لئے دباؤکیوں بڑھائیں گے جو ممکنہ طور پر عمران خان کو ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھا سکتا ہے؟
بشکریہ نوائے وقت۔

