بروقت غیرجانبدارانہ، منصفانہ انتخابات کیوں ضروری ہیں


پاکستان میں 8 فروری کے انتخابات کو ملتوی کرانے کی سازشیں تاحال جاری ہیں۔ زمینی حقائق سے لگتا ہے کہ تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے مگر انتخابات کے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انعقاد پر بہرحال اب بھی سوالیہ نشان ہے۔

8 فروری کے انتخابات کی شفاف ساکھ اس وقت سب سے اہم معاملہ ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین سیاسی، معاشی، سماجی بحران سے دوچار ہے۔

پچھلے آٹھ دس سالوں میں پاکستانی معاشرہ جس طرح اخلاقی اور سماجی تنزلی اور انحطاط پذیری کا شکار ہوا اس کی مثال ماضی میں کبھی نہیں ملتی۔ سابقہ وزیر اعظم عمران خان کی جماعت کو جس مصنوعی اور بھونڈے طریقے سے عوامی حمایت دلوائی گئی، اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح اپنی پوری طاقت عمران خان کو زیرو سے ہیرو بنانے میں لگا دی اس سے پہلے پاکستان کی سیاست میں کبھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ملک کی بڑی عوامی سیاسی و مذہبی قیادت کو چور ڈاکو کے القابات سے نواز کر، انہیں پاکستان کی معاشی، سیاسی بگاڑ کا ذمہ دار ٹھہرا کر عمران خان کو ملک پہ مسلط کیا گیا جس کی وجہ سے آج پورا ملک پوری قوم اندرونی اور بیرونی طور پر اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

8 فروری کے انتخابات میں بس اب دو ہاتھ ہی لب بام رہ گئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات اپنے مقررہ وقت پہ منصفانہ اور غیرجانبدارانہ ہوں گے۔ اس سوال کا جواب ابھی قبل از وقت لگتا ہے۔ کیونکہ ہر پل ملک کی سیاسی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف کو کبھی اس کا انتخابی نشان واپس کر دیا جاتا ہے تو کبھی واپس لے لیا جاتا ہے۔ کبھی ان کے اہم رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوتے تو کبھی یکایک منظور کر لیے جاتے ہیں۔

اسی اگر مگر کی صورتحال میں اب تمام مراحل تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن اب امیدواروں کی حتمی فہرستوں کی تیاری میں مصروف ہے مگر سوائے پیپلز پارٹی کے انتخابی رن ابھی تک بالکل ویران بیابان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ گو کہ مسلم لیگ نون نے آہستہ آہستہ اپنے امیدواروں کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے، مگر انتخابی مہم ابھی تک باضابطہ طور پر شروع نہیں کی۔ ایم کیو ایم، جے یو آئی ف، تحریک انصاف سمیت انتخابات میں عددی حیثیت برقرار رکھنے والی کچھ اور اہم جماعتوں میں بھی ابھی گومگو کی سی کیفیت طاری ہے۔

مسلم لیگ نون کی قیادت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ میان نواز شریف کو سنگین سیکیورٹی تھریٹس ہیں مگر یہ کیسے خدشات ہیں جو انہیں پریس کانفرنسز سے بھی روک رہے ہیں تو جاتی امراء کے وسیع و عریض محلات جیسے محفوظ مقام پہ بھی کارکنان سے رابطوں سے روک رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جے یو آئی ف ہے جس کی صفوں میں بھی ہو کا سا عالم طاری ہے، مولانا فضل الرحمان کے لیے بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں سنگین سیکیورٹی مسائل درپیش ہیں اور شاید اپنی جان کو لاحق انہیں خطرات کو کم کرنے کے لیے ہی وہ افغانستان کی عبوری حکومت کے اکابرین سے ملنے افغانستان گئے اور وہاں طالبان کو پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ ان کے اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

لیکن حکومت پاکستان نے ان کے اس تاثر کو یکسر یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ حکومت پاکستان تحریک طالبان پاکستان سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں چاہتی اور مولانا کا دورہ ان کا نجی معاملہ ہے۔ نے لیگ کی ایک اور اتحادی ایم کیو ایم اپنے اندرونی مفاداتی خلفشار کا شکار ہے۔ ٹکٹوں کے معاملات شدید اختلافات کا شکار ہو چکے ہیں۔ فاروق ستار دھڑا اپنے ساتھیوں کی تو مصطفیٰ کمال کا دھڑا اپنے ساتھیوں کو ایڈجسٹ کرنے کی ضد میں ہے۔

جبکہ خالد مقبول صدیقی کی حیثیت ایم کیو ایم میں اب صرف نمائشی رہ گئی ہے۔ جبکہ سندھ کے چند حلقوں تک محدود نون لیگ کی ایک اور اتحادی جی ڈی اے بھی شکست و ریخت کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون کی قیادت و کارکنان میں انتخابی جوش و جذبہ نظر ہی نہیں آ رہا۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اس بات میں خاصہ وزن لگتا ہے کہ مسلم لیگ نون اور ان کے ہم خیال انتخابات سے راہ فرار چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے لیے لاہور سمیت پنجاب بھر سے تگڑے امیدوار بھی ایک درد سر بنا ہوا کے، تو پی ٹی آئی کے منحرفین کی ایڈجسٹمنٹ بھی گلے میں ہڈی کی طرح اٹکی ہوئی ہے۔ نون لیگ ابھی تک اپنے مضبوط گڑھ سینٹرل پنجاب کے کئی حلقوں پہ امیدواروں کے معاملے پہ اختلافات کا شکار ہے۔ سیالکوٹ سے دانیال عزیز نے نون لیگ کے خلاف ٹکٹ نہ ملنے پہ آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے تو طلال چوہدری اور سردار ایاز صادق بھی ابھی تک ٹکٹ سے محروم ہیں۔

ان حالات کے باوجود پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا ادراک بھی یقیناً ہے کہ پاکستان اس وقت جس بحرانی کیفیت سے دوچار ہے اس کا حل صرف ایک مضبوط منتخب عوامی حکومت ہی نکال سکتی ہے اور اسی لیے قوم اپنی سیاسی جماعتوں اور قیادت سے یہ امید بھی رکھتی ہے کہ سیاسی نظریاتی اختلافات رکھنے کے باوجود وہ سب قوم کی خوشحالی، ترقی، امن و سلامتی کے لیے ایک نقطے پہ جمع ہیں۔ وہ پاکستان کی معاشی ترقی، ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور اس کی مضبوطی، مہنگائی کے طوفان کو روکنے اور ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے اکٹھے ہو کر مل کر کام کریں گے۔

دوسری جانب انتخابات کا التوا چاہنے والی قوتیں بھی خاموش نہیں بیٹھیں بلکہ ان کی افواہ ساز فیکٹریاں دن رات اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن پاکستان کی قوم کو اپنی آزاد عدلیہ اور الیکشن کمیشن سمیت ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے یہ امید ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی معاشی اور سماجی حالات کو ایک بہتر مستقبل دینے کے لیے ، ملک میں پائدار جمہوریت اور معاشی و سیاسی استحکام کے لیے آزادانہ غیرجانبدارانہ بروقت انتخابات کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔

Facebook Comments HS