پشتو ٹپہ بدلتے ہوئے وقت کا امین
پشتو ٹپہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا سفر طے کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔
پشتو ٹپہ پشتو ادب کے فوکلور کا وہ شعری صنف ہے جو اس وقت سے چلتا ہوا آ رہا ہے جب لکھنے کی صلاحیت پشتون معاشرے میں عام نہیں ہوئی تھی اور یہ صنف سینہ بہ سینہ چلتا ہوا آج تک پہنچی ہے جو بہت بعد میں لکھائی کی صورت میں محفوظ کیا گیا اور اس صنف میں مردوں کے بجائے مستورات نے زیادہ حصہ لیا ہے۔
اور کہا جاتا ہے بلکہ کہا کیا جاتا ہے میں خود اس بات کا گواہ ہوں کے ہمارے گھر میں میری ماں اور بڑی بہن کو ایسی ایسی پشتو کہاوتیں اور ٹپے آتے تھے اور اتنے حسب حال، بر وقت اور بر محل استعمال کیا کرتے تھے کہ میں خود اس کو سن کر دنگ رہ جاتا تھا۔
یہ ٹپے گاؤں دیہات یعنی زرعی دور بلکہ اس سے بھی پہلے جب شکار کا زمانہ تھا سے شروع ہو کر آج کے جدید اور جدید ترین دور کو کیسے فوکس کرتا ہوا چلا آ رہا ہے وہ دور در دور ٹپوں کی شکل میں مثالوں کے ساتھ کچھ اس طرح پیش خدمت ہے۔
یہ یاد رکھنا ہے کہ پشتو ٹپہ مجموعی طور پر بائیس سیلیبل یا چپوں کے ساتھ دو مصرعوں، پہلے مصرعے میں نو سیلیبل اور دوسرے مصرعے میں تیرا سیلیبل کے ساتھ فقط دو مختصر سے مصرعوں میں اپنا پورا مضمون بیان کرنے کا سلیقہ و تہذیب رکھتا ہے۔
وروزے لیندے باڼڑہ دے غشی
زہ دے د غشو پہ لیندو ویشتلے یمہ
بھنویں کمان ہے تیری اور تیر ہیں پلکیں
مارا ہے مجھے تم نے اس کمان کے تیروں سے
یا یہ کہ
داسے نرے یہ لکہ لختہ
خدائے دے زما پہ غیگ کے ماتہ کڑا مئینہ
تم اتنی ( سمارٹ ) دبلی پتلی ہو جیسے چھڑی
خدا کرے کہ تم میری ہی گود میں ٹوٹ جاؤ
ایک وقت تھا کہ انسان اندھیرے میں مٹی کا دیا استعمال کیا کرتے تھے یا ایک قسم کی لکڑی ہوا کرتی تھی جس کے سرے کو آگ لگا کر روشنی حاصل کی جاتی تھی جسے پشتو میں لیتکے کہا جاتا۔
لیکن جب یہ دور گزرتا ہے اور صنعتی دور شروع ہوتا ہے اور روشنی کے لئے لالٹین جیسے نئے آلے کا استعمال ہونے لگا تو یہ سٹیٹس سیمبل بن گیا اور صاحب استطاعت لوگ اس کا استعمال کرنے لگے اور جرمن لالٹین بہت مشہور ہوا کرتے تھے۔
تو اس دور کو پشتو ٹپے نے کیسے اپنایا ہے وہ زرہ دیکھتے ہیں۔
پہ ما دے زر ورکڑی نہ دی
چے د لالٹین پہ رنڑا غواڑے دیدنونہ
تم نے کون سے مجھ پر مال و زر لٹائے ہیں
کہ تم لالٹین کی روشنی میں لمحہ وصل مانگ رہے ہو
اب یہ ٹپہ خاتون خانہ کی طرف سے ہے اور اس میں جرات اظہار کے ساتھ ساتھ اس وقت کی صورت حال کو بھی منعکس کیا گیا ہے۔
اس طرح ایک دور تھا کہ لوگ ہندوستان کے مختلف شہروں جیسے دکن، ممبئی، دہلی یا کلکتہ روزگار کے لئے جایا کرتے تھے اور پھر سالوں بعد آتے تھے۔ اور یہ وہ دور ہوتا ہے جب گاڑی آ چکی ہوتی ہے اور محبوبہ کا محبوب گاڑی میں دکن جا چکا ہوتا ہے تو ان کے ہجر میں وہ محبوبہ کس طرح اظہار کرتی ہے اس کے لئے یہ ٹپہ ہم دیکھ سکتے ہیں۔
گاڑیہ سر دے د ویشتو دے
زما لالے دے پہ دکن اولگونہ
اے گاڑی تیرا تو سر اڑانے کے قابل ہے
تم۔ نے میرے لالے ( محبوب ) کو دکن پر جا لگا دیا
یا یہ کہ
د ہندوستان نہ مے راستون کڑے
د گورستانہ بہ دے سوک راستنہ وینہ
ہندوستان سے تو میں نے تم کو واپس بلا لیا
اب گورستان ( قبرستان ) سے تمھیں کون واپس لائے گا۔
ملالہ پشتو فوک لور کا ایک بہادر کردار ہے جب پہلی اینگلو افغان وار ہو رہی تھی تو میوند کے میدان میں جب افغان جوان اور انگریز فوج برسر پیکار تھے تو یہی ملالہ تھی جو ایک اونچائی پر یا ایک ٹیلے پر اپنے نئے عروسی لباس میں کھڑے ہو کر اپنے نئے نویلے دلہا کو اونچی آواز میں ایک ٹپے میں للکارتی ہے اور اس کے بعد وہ جنگ جیت جاتے ہیں۔ جس کے بعد نہ صرف یہ ٹپہ بلکہ ملالہ بھی امر ہو جاتی ہے۔
ٹپہ ہے
کہ پہ میوند کے شہید نہ شوے
گرنہ لالیہ بے ننگے لہ دے ساتینہ
اگر تم اس دفعہ میدان میوند میں شہید نہ ہوئے
تو اے میرے چہیتے محبوب یہ تمھیں بے حمیتی کے لئے رکھیں گے۔
اس طرح ایک ٹپہ ہے جب انگریز چترال تک رسائی کرتے ہیں تو یہ ٹپہ تاریخی حیثیت اختیار کرتا ہے
چرتہ انگریز چرتہ چترال
بے ننگی زور شوہ انگریزاں چترال تہ زینہ
کہاں انگریز اور کہاں چترال
ہماری بے حمیتی دیکھ انگریز بھی چترال کی طرف جا رہے ہیں۔
د پیرنگی نوکری پریگدہ
مزری راوڑہ پہ شکرو بہ دے ساتمہ
تم فرنگ کی نوکری چھوڑ آؤ
کوندر لایا کرو میں چھابڑی یا چنگیر بنا بنا کر تمھیں پالوں گی
ویسے اگر آج بھی دیکھا جائے تو چترال جانا عام لوگوں کے لئے بہت مشکل سفر ہے اور آج سے تین چار سو سال پہلے تو یہ سفر ناممکن ہی تھا۔
اور ساتھ ساتھ چنگیر یا چھابڑی بنانے والی خواتین اب بھی گاؤں دیہات میں جگہ جگہ اس کاروبار سے منسلک نظر آتی ہیں۔
ٹپہ ہمارے کلچر اور نسائی آواز کو کتنا تقویت دیتا ہے یہ جس طرح ٹپے نے بیان کیا کسی اور انداز میں شاید ہی بیان کیا جاسکتا ہو۔ جیسے
ما دے ٹوپے پہ سر گنڑلہ
د جینکو پہ وار پیدا غرکہ دے کڑمہ
میں تو سمجھ رہا تھا کہ تم ٹوپی سر پر رکھتے ہو مرد ہوں گے۔
لیکن تم تو لڑکیوں کی پیدائش کی سیریز میں پیدا ہوئے ہو تم نے تو مجھے رسوا کر دیا۔
پاکہ مولا کہ تہئے واخلے
سڑے سڑے نہ دے پرے بندہ ناستہ یمہ
اے پاک پروردگار تو، تو اس کو اپنے پاس بلالے
آدمی آدمی نہیں ہے اور اس کے نام سے جڑی ہوئی بیٹھی ہوں
پہ ما بہ کڑے میڑا پریگدے
بیا بہ دے دا سترگے بدلے وی مئینہ
مجھ پر کیا ہوا شوہر چھوڑ دو گے
اور پھر تمھاری یہ آنکھیں بدلی ہوئی ہوگی، تم یہ آنکھیں مجھ سے پھیر لو گے
اور جب خدائی خدمت گار تحریک میں خواتین سرگرم ہوئیں تو اس میدان میں بھی ٹپوں کے ذریعے خواتین نے اپنا پیغام عوام تک پہنچایا ہے
کہ د سڑو نہ پورا نہ شوہ
فخر افغانہ جینکے بہ دے گٹینہ
اگر مردوں سے نہ ہو سکا
تو اے فخر افغان! تجھے لڑکیاں سرخرو کریں گے
مطلب ٹپہ ایک ایسی شعری عوامی صنف ہے کہ پشتون سماج کے ہر پہلو پر بولے گئے ہیں اور ہر دور میں بولے گئے ہیں جو صحیح معنوں میں پشتون سماج کی نمائندگی کرتی چلی آئی ہے۔


