خواتین ٹکٹ اور مخصوص نشست سے بھی محروم ہیں
کشمور ایٹ کندھ کوٹ سندھ کا آخری ضلع ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان اور راجن پور سے صوبہ بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی اور صحبت پور کے سنگم پر واقع ہے۔
کندھ کوٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہے یہاں پر ضلع افسران کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ اس جدید دؤر میں بھی اس ضلع میں خواہ عام انتخابات ہوں یا بلدیاتی انتخابات، ان میں خواتین الیکشن میں حصہ نہیں لیتیں کیونکہ اس علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کو گھروں تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ اس ضلع میں صرف خواتین کی آبادی چھ لاکھ بتائی جبکہ خواتین ووٹرز کی 2 لاکھ 71 ہزار 696 تعداد ہے یہاں سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندے جو سردار جاگیردار طبقے سے منتخب ہوتے ہیں انہوں نے کبھی بھی اپنے پارٹی سے خواتین کی مخصوص نشست نہیں مانگی ہے اسی وجہ سے پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی اس ترقی سے محروم ڈسٹرکٹ سے خواتین کو سیٹ نہیں دی
کشمور ایٹ کندھ کوٹ میں سیاسی سوچ رکھنے والی پیپلز پارٹی لیڈیز ونگ کی ضلع صدر شبانہ ملک نے اس حوالے پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ضلع کو کبھی بھی قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی اور سینٹ کی مخصوص نشست نہیں دی گئی ہے میں نے پارٹی سے سندھ اسمبلی کے مخصوص نشست کے لئے ٹکٹ کے لئے اپلائی کیا تھا لیکن کوئی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دی گئی۔ پیپلز پارٹی ہمارے ضلع میں تمام نشستوں پر کامیاب ہوتی ہے لیکن جو کامیاب ہو کر عوامی نمائندے منتخب ہوتے ہیں وہ مجھے یا کسی عورت کو سپورٹ نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ جاگیردار اور سردار لوگ ہیں۔ ہمارا یہ ضلع تمام پیچھے ہے اس میں تعلیم، صحت اور ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔ گرلز کالج نہیں ہے۔ خواتین کے لئے سیف ہاؤس نہیں ہے اور صحت کے حوالے سے کوئی سہولت نہیں ہے اور کئی خواتین کے مسائل ہیں وہ حل نہیں ہوتے ہیں۔ اگر ضلع میں مخصوص سیٹ پر کوئی خاتون آ جائے تو اس ضلع میں خواتین کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اس وقت میں میونسپل کمیٹی میں خواتین کی مخصوص نشست پر ہوں جبکہ اس سے پہلے ڈسٹرکٹ کونسل کی بھی رکن تھی مجھ پر پارٹی کی قیادت کی مہربانی تھی نہیں تو یہاں سردار وڈیرے جو ہیں وہ صرف خانہ پری کے لئے خواتین کو منتخب کرتے ہیں جو خواتین نہ کبھی سیاسی سوچ رکھتی ہیں نہ کبھی وہ اسمبلی میں آتی ہیں اگر آتی ہیں تو خاموش ہوتی ہیں کوئی بات چیت نہیں کرتیں۔ مجھے میونسپل کمیٹی کے اجلاس میں ابھی تک نہیں بلایا گیا ہے میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اپنی پارٹی کے چیئرمین اور مرکزی قیادت سے اپیل کروں گی کہ اس ڈسٹرکٹ میں خواتین کو سیٹ دے کر یہاں پر خواتین کی آواز کو مضبوط کیا جائے تاکہ ضلع کی خواتین مردوں کے ساتھ آسانی سے مختلف محکموں اور اداروں میں کام کرسکیں۔
کشمور ایٹ کندھ کوٹ میں خواتین، لڑکیوں کا باہر نکلنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے دوران ایک سوشل ورکر بدیھل بیگم کلوڑ جو خاتون ہے انہوں نے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کشمور ٹاؤن کمیٹی کے وارڈ نمبر 9 پر اپنا نامزدگی فارم جمع کروایا تھا اس کے بعد وہ الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہی تھی کہ ان کو سرداروں وڈیروں اور اپنی ہی برادری کے بڑوں اور معزز لوگوں نے ہراساں کر کے زبردستی بٹھا دیا۔
اس حوالے سے مزید بدیھل بیگم سے جانتے ہیں کہ ان کا اسی حوالے سے الیکشن میں خواتین کے حوالے سے کیا کہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر تو خواتین و لڑکیوں کو تعلیم کے لئے بھی باہر نہیں بھیجا جاتا اسی وجہ سے وہ لوگ نہیں چاہتے کہ کوئی خاتون یا لڑکی ہمارے مد مقابل ہو اسی وجہ سے مجھ پر گھریلو پریشر ڈلوایا گیا۔ میرے بھائی نے مجھے دھمکی دی کہ اگر تم الیکشن لڑو گی تو میں خودکشی کر لوں گا۔ اسی وجہ سے میری امی جان پریشان ہو گئیں اور میں الیکشن سے دستبردار ہو گئی۔ کشمورایٹ کندھ کوٹ ضلع میں خواتین کے بہت سارے مسائل ہیں یہاں پر خواتین کو مکمل آزادی نہیں ہے خاص کر کے دیہی علاقوں میں تو کوئی خاتون لڑکی تعلیم یافتہ نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے حقوق سے محروم ہیں اور یہاں کے سردار وڈیرے اور برادری کے جو بڑے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ لڑکیاں پڑھ کر آگے آئیں اسی وجہ سے وہ ہمیں آگے آنے سے روکتے ہیں۔ وہ سرداری نظام کے تحت کام چلاتے ہیں جو بھی سیاسی پارٹیاں خواتین کی حقوق کی بات کرتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ کشمور ایٹ کندھ کوٹ ضلع میں اپنی اپنی پارٹی میں سے ایک ایک خاتون کو کشمور ایٹ کندھ کوٹ ضلع سے منتخب کریں تاکہ یہاں کی خواتین بھی ترقی یافتہ دؤر میں شامل ہو سکیں اور ان کو تعلیم اور مکمل آزادی مل سکے ان کے جو بھی مسائل ہیں وہ حل ہو سکیں۔
سینیئر قانون دان اور شہید بھٹو کے رہنما رئیس منور علی بھٹو نے خواتین کی نشستوں کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کشمور ایٹ کندھ کوٹ قبائلی علاقہ ہے یہاں پر سرداری نظام کے تحت کام چلتا ہے اس وجہ سے یہاں پر کسی بھی محکمہ میں خواتین سرے عام کام نہیں کرتی ہیں جبکہ عام انتخابات ہو یا بلدیاتی انتخابات میں خواتین امیدوار کھڑی نہیں ہوتیں کیونکہ یہاں پر سیاسی طور خواتین کو حقوق نہیں دیے گئے ہیں۔ اس ضلع کے اندر خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم بھی بہت کم ہے یہاں پر لڑکیوں اور خواتین کو نہیں پڑھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے حقوق سے بھی محروم رہتی ہیں اگر ان کو تعلیم دی جائے تو وہ اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل سکتی ہیں۔ ضلع کے اندر خواتین میں 20 فیصد سے زیادہ تعلیم کی شرح نہیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ کندھ کوٹ ضلع کے لیے خواتین کو مخصوص سیٹوں پر چنیں تو خواتین کے مسائل حل ہو سکیں گے۔ وقت کے حکمرانوں کو چاہیے کہ خواتین کے لئے تعلیم کی سہولیات فراہم کریں تاکہ دیگر شہروں کی طرح یہاں کی خواتین بھی سیاسی میدان میں آ کر اپنے علاقے کی ترقی کروا سکیں


