ایران کے جنوب سے شمال کی طرف کا سفر
کتاب اور سفر دو ایسے بہترین سورس ہیں کہ جس سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے، اور بے تحاشا علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب بھی آپ سفر کریں گے اس سفر کو اپنے اسٹڈی کے نقطہ نظر سے کریں۔ اس سے آپ کو مختلف علاقوں کی کلچر، ان کے لباس اور بودوباش کے متعلق بیش بہا اور دلچسپ معلومات میسر ہوگی۔ سفر کو مفید اور آگاہی سے بھر پور بنانا ہو، تو مقامی لوگوں سے انٹریکشن اہم ہوتا ہے۔
ایران میں، میں نے متعدد سفر کیے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ کی سفر کی خاص بات یہ تھی کہ ہمیں زیادہ تر علاقے دیکھنے تھے۔ چنانچہ ہم نے طویل زمینی سفر کا انتخاب بذریعہ گاڑی کیا۔ تاکہ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے لوگوں کی بود و باش کا مشاہدہ بہتر انداز میں کرسکیں۔
یہ سفر بذریعہ گاڑی بریس بندرگاہ سے 4 جولائی 2023 کو شروع کیا۔ بریس کے ساحلی راستے سے چابہار اور چابہار کے بندر آزاد سے کنرک کی طرف سفر کا آغاز کیا۔
کنرک سے ہم نے جنوبی ایران کی طرف جانے لگے۔ کہتے ہیں کہ ایران میں پاکستان کے مقابلے میں شاہراہیں بہترین ہیں۔ لیکن ایرانی بلوچستان کی سڑکیں قابل رشک نہیں تھیں۔ بعض جگہ ہم نے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں دیکھیں۔ کنرک سے جنوب جاتے ہوئے متعدد دیہات آتے ہیں۔ کنرک سے جب آپ تھوڑا دور آگے جاتے ہیں۔ کھیر کا علاقہ آتا ہے۔ کھیر میں چھوٹے چھوٹے باغات ہیں۔ کھیر سے آگے قلات آتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے چھوٹے بڑے دیہات آتے ہیں۔ یہ تمام علاقہ بلوچوں کے مسکن ہیں۔ مزید جنوب جاتے ہوئے ایرانی صوبہ بلوچستان ختم ہوتا ہے۔ ایران کے ایک اور صوبہ آتا ہے۔ جسے ہورمزگان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہورمزگان صوبہ زرآباد سے لے کر بندر عباس تک پھیلا ہوا ہے۔ ہورمزگان صوبہ میں آبادی بلوچ اور بندری لوگوں پر مشتمل ہیں۔
زر آباد ایک بہت بڑا علاقہ ہے۔ یہ متعدد دیہاتوں پر مشتمل ہے۔ زرآباد میں روڑ کے دونوں طرف کیلوں کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ زر آباد سے لے کر آگے جتنے بھی علاقے ہیں، ہمارے ہاں ان علاقوں کو قبلہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ قبلہ میں جو بلوچ بستے ہیں، انہیں قبلیی بلوچ کہتے ہیں۔ مزید جنوب جیسے جیسے آپ آگے کی طرف جاتے ہیں، لوگوں کی مادری زبان کے لہجے میں فرق آنا شروع ہوتا ہے۔ ان کی کلچر اور بودوباش میں بھی فرق محسوس ہوتا ہے۔
مثلاً زر آباد میں ننگے سر لوگ کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ زر آباد میں تمام مرد پگڑی باندھتے ہیں۔ جب وہ اپنے لہجے مادری زبان بات کرتے ہیں، سمجھنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ زرآباد میں لوگوں کی بود و باش عرب علاقوں سے ملتی جلتی ہے۔ زر آباد سے جیسے مزید جنوب کی جانب سفر کرتے ہوئے آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ لہجے میں تبدیلی کے ساتھ بودوباش اور لباس میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ وہ جب مادری زبان بولتے ہیں، ان کے بلوچی فارسی کی آمیزش زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا لہجہ اتنا عجیب ہوتا ہے کہ الفاظ کی ادائیگی کے بعد اس کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بلوچی زبان ہی میں بات کرتے ہیں۔ زر آباد میں سڑک کے کنارے عورتیں کیلے اور دیگر فروٹ بیچتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
زرآباد کا علاقہ جیسے ہی ختم ہوتا ہے، جاشک کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ جاشک ایک ساحلی پٹی ہے۔ جاشک کی آبادی بھی بلوچ کی اکثریت ہے۔ جاشک میں عورتوں کے لباس ہم سے مختلف ہے۔ عورتوں کے پردے کے لئے برقعے الگ طرح کے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیونی سے بہت زیادہ فاصلے پر موجود جاشک میں جیونی میں ایک خاندان کی رشتہ داری ہے۔ جاشک میں عورتیں پردے کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرتیں۔ جاشک سے مزید جنوب کی طرف 236 کلومیٹر پر میناب کا علاقہ ہے۔ میناب بھی ایک ساحلی علاقہ ہے۔
بریس سے میناب تک کے سفر میں ہم نے 665 کلومیٹر طے کیا۔ یہ سفر 7 گھنٹوں پر مشتمل تھا۔
میناب میں جب آپ شہر کے سنٹر پہنچتے ہیں۔ آپ کو بہت زیادہ ٹریفک سے واسطہ پڑتا ہے۔
میناب ایرانی صوبہ ہرمزگان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ میناب خلیج عمان پر واقع ہے۔ یہ خلیج عمان کے ساحل پر واقع ہے۔ لیموں کے پھل، کھجور، اناج، ٹماٹر، نارنگی، اور آم سبھی سازگار قدرتی حالات کی بدولت علاقے میں بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ اردشیر بابکاں کو میناب کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم اس شہر کے مقامی لوگوں کے مطابق اسے ماضی بعید میں دو بہنوں نے بی بی مینو اور بی بی نازنین کے نام سے تعمیر کیا تھا۔
میناب قلعہ واحد قدیم ڈھانچہ ہے جو اب بھی میناب میں موجود ہے، جو ایک زمانے میں ترقی کرتا ہوا شہر ہے جسے تاریخی ریکارڈ کے مطابق، منگول حملے نے ختم کر دیا تھا۔ اس شہر کے باشندے، جو بندری بولی بولتے ہیں، عرب، فارسی، شمالی تارکین وطن، بلوچ اور افریقی نسل کے ہیں۔ کڑھائی، چٹائی کی بنائی، کھجور کے پتوں کی بنائی، کڑھائی اور مٹی کے برتن میناب کے دستکاری کی مثالیں ہیں۔ استقلال ڈیم، جمعرات بازار، آشاگ مندر، اور ہزارہ قلعہ اس شہر کے چند پرکشش مقامات ہیں۔
آگے جنوب جاتے ہوئے ہمیں ایک گاؤں جانا تھا۔ اس گاؤں کا نام، فاقلاتان بالا، تھا۔ فاقلاتان دو روستا یا گاؤں پر مشتمل تھا۔ ایک کو فاقلاتان زیریں اور دوسرے کو فاقلاتان بالا کہتے تھے۔ فاقتلان بالا کی آبادی صرف پانچ سو نفوس پر مشتمل تھی۔ لیکن اس گاؤں میں زندگی کے تمام سہولتیں میسر تھیں۔ میناب کے علاقے میں زیادہ تر لوگ، بندری اور فارسی زبان میں بات کرتے تھے۔ لیکن یہ فارس زیادہ تر اہل سنت تھے۔ شیخ ہاشم رئیسی جو کہ ہمارے میزبان تھا، وہ فارسی میں بات کرتا تھا اور اہل سنت کا ایک عالم دین تھا۔


