انتخابات 2024 میں مذہبی اقلیتوں کے مطالبات

انتخابات کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ کچھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملات بھی چل رہے ہیں۔ زیادہ تر سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے ٹکٹ تقسیم کر دیے ہیں اور امیدوار اپنی مہم بھر پور طریقے سے چلا رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں سے امیدوار اور حامی براہ راست تو اپنی مہم نہیں چلاتے لیکن وہ اپنی بھرپور کاوش سے اپنی پارٹی اور اپنے پسندیدہ امیدوار کے لئے کام کرتے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے کچھ افراد کا کہنا یہ بھی ہے کہ یہ انتخابی نظام اقلیتوں کے لئے ٹھیک نہیں۔
یہ ایک لمبی بحث ہے۔ مختصراً اتنا عرض کروں گی کہ 2002 میں مخلوط انتخابات کی بحالی سے پہلے مسلمان شہریوں کی ووٹر لسٹیں علیحدہ بنتی تھیں اور مذہبی اقلیتوں کی علیحدہ۔ مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک امیدوار کا حلقہ پورا پاکستان اور صوبائی اسمبلی کے ایک امیدوار کا حلقہ پورا صوبہ۔ اتنے بڑے حلقہ سے انتخاب میں حصہ لینا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ پھر اتنے بڑے حلقے سے جیتنے والے نمائندے کو تنخواہ، فنڈز اور سہولیات تو ایک عام نمائندے جتنی ہی ملتیں تو وہ پورے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے لئے قابل رسائی کیسے ہوتا ہو گا۔
علاقے کے متعلقہ اکثریتی امیدواران کو نہ تو مذہبی اقلیتوں سے ووٹ لینا ہوتے تھے اور نہ ہی انھیں ان علاقوں کی پرواہ ہوتی تھی۔ یہاں پھر ایک قابل بحث نکتہ ہے کہ کیا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندگان کا کام قانون سازی کرنا ہے یا گلیاں نالیاں بنوانا، تو بھئی ہمارے ہاں تو وتیرہ یہی ہے مقامی حکومتوں کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے اور ہمارے قانون ساز ترقیاتی بجٹ لے کر گلیاں نالیاں بنانے کا کام انتہائی شوق سے کرتے ہیں۔ جداگانہ انتخابات کے دور میں مذہبی اقلیتوں کے رہائشی علاقوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔
مذہبی اقلیتوں کے لئے رائج موجودہ مخلوط انتخابات کے انتظام میں بھی کچھ خامیاں تو ہیں لیکن یہ طریقہ انتخاب شہریوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس میں تمام شہریوں کی فہرستیں اکٹھی ہیں۔ یوحنا آباد، لاہور کا مسیحی شہری اپنے حلقے کے مسلمان امیدوار کی حمایت کر سکتا ہے اس کی انتخابی مہم چلا سکتا ہے، اسے ووٹ دے سکتا ہے اور اس کے آگے اپنے مطالبات رکھ سکتا ہے۔ جنرل سیٹ پر انتخاب میں حصہ لینے کا حق رکھتا ہے جس میں وہ ملک کے تمام شہریوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے مہم چلا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی اقلیتوں کے لئے اضافی مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
اس نظام پر سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ اس کے تحت ان مخصوص نشستوں پر اقلیتوں کے نمائندگان کو اقلیتی ووٹر براہ راست ووٹ نہیں دیتے بلکہ اکثریتی سیاسی پارٹیوں کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ جیتی ہوئی سیٹوں کی متناسب نمائندگی سے اقلیت کے امیدواران کا چناؤ کریں۔ اس طرح جو نمائندگان سامنے آتے ہیں کئی دفعہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہوتے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ایک تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے اقلیتی درخواست گزاروں میں پارٹی الیکشن کروا لیں۔ پھر جو جیتیں اس ترتیب سے انھیں پارٹی کی ترجیحی فہرست میں جگہ دی جائے۔
جولائی 2023 کو ملک میں انتخابی اصلاحات ہوئیں وہ افراد یا گروہ جنھیں اس طریقہ انتخاب پر اعتراض تھا یا جن کے کسی بھی قسم کے کوئی تحفظات تھے انہیں اس وقت بھرپور آواز اٹھانی چاہیے تھی۔ اب انتخابی نظام میں اصلاحات کا وقت گزر چکا ہے۔ تاہم ادارہ برائے سماجی انصاف (Centre for Social Justice) نے اقلیتی فورم پاکستان سے ایک ملک گیر بینر مہم (Banner Campaign) کا آغاز اکتوبر کے مہینے سے کیا ہے جس میں اقلیتوں کی طرف سے مختلف مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
اس مہم کا نعرہ ہے ”میں بھی پاکستان ہوں“ ۔ اس مہم کی کامیابی کے لئے کئی پہلووں سے کوشش کی جا رہی ہے۔ اقلیتی فورم پاکستان کے نمائندگان نے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مل کر اپنے مطالبات ان کے منشور میں شامل کروانے کی کوشش کی ہے۔ تا دم تحریر متحدہ قومی تحریک (ایم کیو ایم) نے اپنے منشور کا اعلان کیا ہے اور اس نے اقلیتی فورم پاکستان کے چار مطالبات اپنے منشور میں شامل کیے ہیں۔
اقلیتی فورم پاکستان ایک رضاکارانہ ڈھانچہ ہے۔ ادارہ برائے سماجی انصاف اپنے رضاکاروں کے ساتھ مل کر مختلف کمیونیٹیز میں کارنر میٹنگز کر کے مقامی لوگوں سے ان کے مطالبات پر بات کرتے ہیں اور پھر ان کو اس بات کی آگاہی دیتے ہیں کہ فورم کے مجوزہ مطالبات قومی نوعیت کے ہیں وہ انھیں بھی اپنے امیدواروں کے سامنے رکھیں۔ ان مطالبات پر کمیونیٹیز اتفاق کرنے کے بعد اپنا ایڈووکیسی کا کام شروع کر دیتی ہیں۔ اپنے امیدواروں سے وعدہ لینا کہ وہ اسمبلی کے ایجنڈا میں یہ مطالبات لے کر آئیں گے۔ اپنے علاقے میں ان مطالبات پر مشتمل بینر آویزاں کرنا۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی بات پھیلانا وغیرہ۔
اقلیتی فورم پاکستان کی اس قومی بینر مہم میں جو پانچ مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ؛
اول؛بانی پاکستان، قائد اعظم محمدعلی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر کو آئین پاکستان اور تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔
دوم؛ آئین پاکستان کے آرٹیکل 22۔ الف پر مکمل عمل درآمد کیا جائے تاکہ اکثریتی مذہب کی تعلیم اقلیتی طلباء پر لازم نہ ہو۔
سوم؛کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے۔
چہارم؛دلاسے نہیں حقوق، اقلیتوں کے با اختیار قومی اور صوبائی کمیشن بذریعہ قانون سازی بنائے جائیں۔
پنجم؛چیف جسٹس سپریم کورٹ تصدق حسین جیلانی کے 19 جون 2014 کے فیصلے پر با اختیار کمیٹی بنائی جائے، جو اپنی عمل درآمدی رپورٹ ہر تین ماہ بعد پارلیمنٹ (قومی اور صوبائی) میں پیش کرے۔

