ججز کے استعفے: عمر بھر کی ریاضت رائیگاں
بلوچستان کے وکیل عبدالرزاق کو 6 جون 2023 کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کیس کے وکیل امان اللہ کنرانی نے بینچ کے دو ججز جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس حسن اظہر پر الزامات عائد کیے تو جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ”ہم کمزور نہیں“ ۔ اس پر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ”آپ جج بنیں تو ٹھیک“ ۔ پارٹی بنیں گے تو بولوں گا، پارٹی بننا ہے تو کرسی سے اتر جائیں۔ کنرانی کو معافی کے لیے کہا گیا تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے استدعا قبول کی، لیکن جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ کہا۔ غالباً یہی تکبر انہیں لے ڈوبا۔
ان دنوں جسٹس نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفے زیربحث ہیں۔ جسٹس نقوی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ 1998 میں وہ ہائی کورٹ اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ 19 فروری 2010 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے۔ 2016 میں انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے مس کنڈکٹ پر شوکاز نوٹس ملا۔ جس کے جواب میں جسٹس نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرۂ اختیار کو چیلنج کیا۔
•جسٹس نقوی نے 2017 میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس سنا۔ اور الزامات کو ہی فیصلے کی صورت دی۔
• 2018 میں نواز شریف کی عدلیہ مخالف تقاریر کیس میں انہوں نے پیمرا کو نواز شریف کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے سے روک دیا تھا۔
•جسٹس نقوی نے 13 جنوری 2020 میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی نہ صرف تشکیل کو غیر قانونی قرار دیا بلکہ کارروائی کو بھی کالعدم قرار دیا۔
• 2020 میں ان کی مبینہ آڈیو لیک جو پرویز الٰہی سے گفتگو پر مشتمل تھی سامنے آنے کے بعد ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں میاں داؤد اور پاکستان بار کونسل سمیت دیگر کی جانب سے متعدد درخواستیں دائر کی گئیں۔
جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف اثاثوں اور بددیانتی کے الزامات کے تحت ریفرنسز میں سوال اٹھایا گیا کہ لاہور کینٹ اور گلبرگ کی جائیدادوں کے لیے پیسہ کہاں سے آیا۔ ایک پراپرٹی ڈیلر نے جسٹس نقوی کی صاحبزادی کے بینک اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈ کیوں بھجوائے۔ لیکن اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریفرنسز کو التوا میں رکھا۔
جسٹس نقوی کو جنرل مشرف کی سزائے موت ختم کرنے کے عوض نوازا گیا۔ ریفرنسز میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس مظاہر نقوی پی ٹی آئی قائد عمران خان کے ساتھ اپنے تعلقات کھلے عام ظاہر کرتے اور اپنی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف خطرناک ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ آمدنی سے زائد اثاثوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے ریفرنس کا جواب دینے اور الزامات رد کرنے سے زیادہ توانائی جسٹس نقوی نے ماضی کی طرح عدالت کی آزادی، انصاف اور نظام کے ساتھ ساتھ غیر جانبداری پر سوالات اٹھانے پر صرف کی۔ جس پر بعض آئینی ماہرین نے کہا کہ یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس کرپشن کے فراہم کردہ ثبوتوں کا کوئی جواب نہیں۔
جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس میں تیزی، موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں آئی اور 27 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے اکثریتی بنیاد پر سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو مس کنڈکٹ کی شکایت پر شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 روز میں جواب طلب کیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر شامل تھے۔
ابتدائی جواب میں جسٹس نقوی نے جانب دارانہ اور متعصبانہ رویے کی شکایت کی اور پھر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو بھی چیلنج کیا۔ اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر کو ایک نیا شوکاز نوٹس جاری کر کے 15 دن کے اندر جواب دینے اور اپنا دفاع کرنے کی ہدایت کی۔ جواب میں جسٹس نقوی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دیگر تمام ججوں کے نام خط میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سلوک کو توہین آمیز قرار دیا۔
15 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی تو انہوں نے اپنا تفصیلی جواب سپریم جوڈیشل میں جمع کرایا، عدالت نے آبزرویشن دی کہ درخواست گزار کے بقول ان کے خلاف دائر شکایتیں بدنیتی پر مبنی ہیں اس صورتحال میں شکایت گزاروں کا موقف سنے بغیر معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا سپریم جوڈیشل کونسل آئینی ادارہ ہے، اس کو آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے کیسے روک سکتے ہیں؟
رہی بات عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج جسٹس اعجاز الاحسن کی تو ان کا دور تنازعات سے بھرپور تھا۔ پاناما پیپرز کے علاوہ نون لیگ قیادت کیس، پاکپتن زمین الاٹمنٹ کیس اور رمضان شوگر ملز کیس وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح گرینڈ حیات ٹاور کا لیگل ایڈوائزر ہونے کی وجہ سے اس کے کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن کی شمولیت پر وکلا نے سوال اٹھایا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے خود کو بینچ سے الگ نہیں کیا اور بالآخر اپنی کلائنٹ کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا۔ سوائے تحریک انصاف کے کھلے عام سیاسی جماعتیں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی شمولیت پر معترض رہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے تقریباً ہر مقدمے میں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف فیصلے دیے۔
پاناما مقدمہ میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کو عمر بھر کے لیے نا اہل کیا تھا۔ بینچ نے جسٹس اعجاز الحسن کو ٹرائل کورٹ کے لیے نگراں جج مقرر کیا، جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں تھی۔ پاناما کیس میں جے آئی ٹی کا رکن وٹس ایپ کے ذریعے مقرر کرنے کی سازش بھی شامل تھی۔ چند مخصوص عہدیداروں پاناما بینچ کی ہدایات پر مختلف محکموں سے چنا گیا تھا۔ ثاقب نثار آور بندیال کے دور میں جسٹس اعجاز الحسن ہر اہم مقدمے کی سماعت کے بینچ کا حصہ رہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی بینچوں کی کمپوزیشن میں خاص ججوں کی شمولیت اور دوسرے ججز کے نظر انداز کرنے پر خطوط لکھے، لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔
ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب جسٹس اعجاز الاحسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کی حیثیت سے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی مخالفت کی اور اسے ایک عاجلانہ، غیر ضروری اور طے شدہ قانونی معیارات کے خلاف قرار دیا۔ تاہم ان کی مخالفت کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے ساتھی جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ جسٹس مظاہر نقوی اور اعجاز الاحسن عہدے سے مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے پہلے جج نہیں، ان سے پہلے سپریم کورٹ کے چھ اور ہائی کورٹس کے 10 ججز نے مختلف ادوار میں استعفی دیا۔
جسٹس نقوی بطور جج سپریم کورٹ مستعفی ہونے والے ساتویں اور اعجاز الاحسن آٹھویں جج ہیں۔ 2016 سپریم کورٹ کے جسٹس اقبال حمید الرحمان، 2001 میں جسٹس راشد عزیز، 2007 کو جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس ملک محمد قیوم 1999 میں مستعفی ہوئے۔ اسی طرح 2019 میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان 2017 میں جسٹس مظہر اقبال 2015 میں سندھ کے جسٹس محمد تسنیم اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امان اللہ خان یاسین زئی سمیت جسٹس نادر خان، جسٹس اختر زمان ملغانی، جسٹس احمد خان لاشاری اور جسٹس مہتہ کیلاش ناتھ مستعفی ہوئے۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور اعجاز الاحسن کو عمران خان کی محبت لے ڈوبی اور: ”میری عمر بھر کی ریاضتیں ہوئیں رائیگاں“ والا معاملہ بن گیا۔ اردو محاورہ ہے کہ ”سانچ کو آنچ نہیں“ اگر یہ ججز صاحبان حق پر تھے تو پھر انہیں اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے تھا بالکل اسی طرح جیسے قاضی فائز عیسیٰ ڈٹے رہے۔ ان سے قبل جسٹس انور کاسی بھی اپنے خلاف الزامات میں سرخرو ہوئے۔


