ڈھلتی عمر کے مردوں میں پراسٹیٹ کے مسائل
ہم نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں شعبۂ پراسٹیٹ کے ٹیم لیڈر ایسوسی ایٹ پروفیسر عبدالخالق سے اس موضوع پر کچھ سوالات پوچھے۔
سوال: کیا سبب ہے کہ جوانی کا سورج نصف النہار پر ہوتا ہے کہ مردوں کو پیشاب کی تکلیفیں لاحق ہوجاتی ہیں؟
عبدالخالق: جنسی اور جسمانی طور پر بہت فعال اصحاب کی اکثریت جونہی اپنی زندگی کی پچاس بہاریں پوری کرتی ہے ان میں پیشاب کے معمولات میں کچھ نئی علامات نمودار ہوجاتی ہیں۔ انہیں بار بار پیشاب آنے لگتا ہے، خاص طور پر راتیں تو شب فرقت کی طرح بے آرام اور بے چین گزرتی ہیں۔ اچانک بڑے زور کی حاجت ہوتی ہے اور بیت الخلا پہنچنے سے پہلے ہی پیشاب خطا ہوجاتا ہے۔ کبھی معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب اب نکلا کہ تب نکلا لیکن ٹائلٹ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے تادیر انتظار کر کے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کبھی قطرہ قطرہ پیشاب کشید ہوتا ہے اور چھڑکاؤ روکے نہیں رکتا۔ میر درد نے کیا خوب کہا تھا:
شمع کی مانند ہم اس بزم میں
چشم نم آئے تھے دامن تر چلے
مشہور نغمہ نگار قتیل شفائی کی یہ غزل تو گویا ان مریضوں کی مایوسی اور اداسی کی الم نگاری ہے کہ
ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہو گا
یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
ان میں سے کچھ علامات تو شوگر یعنی ذیابیطس کی بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن اکثر و بیشتر مثانے کی کمزوری کا سبب اس غدود کا بڑھ جانا ہوتا ہے جسے پراسٹیٹ کہتے ہیں۔ اگر غدود کی یہ بڑھوتری کینسر نہیں تو اسے بی پی ایچ یا بینائن پراسٹیٹک ہائپر پلازیا کا نام دیتے ہیں جو ایک بہت ہی عام عارضہ ہے۔
پراسٹیٹ کیا ہوتا ہے اور انسانی جسم میں اس کا کیا کام ہے؟
گردے ایک چھلنی کی طرح خون کو چھان کر پیشاب بناتے ہیں۔ یہ پیشاب یوریٹر نامی دو نالیوں سے ہوتا ہوا مثانے میں جمع ہوجاتا ہے جہاں سے ایک نالی (یوریتھرا) اسے باہر کی طرف لے جاتی ہے۔ عام بالغ شخص کے مثانے میں ایک سے دو پیالے پیشاب رکھنے کی گنجائش ہوتی ہے جب کافی پیشاب جمع ہوجاتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اب باتھ روم کا چکر لگا لینا چاہیے۔ پراسٹیٹ غدود مثانے کے نچلے حصے میں یوریتھرا کے گرد قیام پذیر ہوتا ہے۔
مردانہ تولیدی نظام میں پراسٹیٹ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک لیس دار رطوبت پیدا کرتا ہے جو خصیوں سے چلے آنے والے نطفوں کے ساتھ مل کر مادۂ منویہ بناتی ہے۔ ہماری نسل بڑھنے میں اس غدود کا کردار مسلمہ ہے۔ بلوغت کی عمر تک یہ 30 گرام وزن کے سنگھاڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن پھر عمر کے ساتھ ساتھ اس کا وزن اور حجم بڑھتا جاتا ہے ایک وقت آتا ہے کہ یہ غیر قانونی تجاوزات کی طرح پیشاب کی نالی کو جکڑ کر مسدود کرنے لگتا ہے۔
آخر پراسٹیٹ کے بڑھنے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ کیا غذا کا کوئی عمل دخل ہے؟
یہ سارا معاملہ جنسی ہارمون ٹیسٹو سٹیرون اور ایسٹروجن میں توازن کا ہوتا ہے جو پینتالیس پچاس سال کی عمر میں کسی طرح تبدیل ہوجاتا ہے جس سے پراسٹیٹ قد و قامت میں بڑھ جاتا ہے۔ گو کسی ایک عامل کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے لیکن شواہد ہیں کہ حیوانی چربی یا دودھ سے بھرپور غذا، آرام دہ اور غیر فعال طرز زندگی اور مغربی بود و باش سے پراسٹیٹ کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔
علامات ظاہر ہونے پر مریض کو کون سے ٹیسٹ کروانے چاہییں؟
پچاس سال اور اس سے اوپر کے تمام مرد حضرات کے لئے ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی معالج یا کسی مستند یورولوجسٹ سے پراسٹیٹ کی صحت کا معائنہ کروا لیں۔ طے ہوجانا چاہیے کہ ان علامات کی وجہ اگر پراسٹیٹ ہے تو کہیں وہ کینسر زدہ تو نہیں۔ دوسرے پیشاب کی دھار کا تجزیہ کرنا ضروری ہے اور خون میں خاص ٹیسٹ پی ایس اے کو جانچنا بہت لازمی ہے۔
پراسٹیٹ کا کینسر کتنا عام ہے اور اس کی تصدیق کیونکر کی جاتی ہے؟
یہ بالکل ضروری نہیں کہ پیشاب کی مشکلات میں مبتلا ہر شخص کینسر کا شکار ہو۔ پراسٹیٹ کینسر کی وجوہات غیر واضح ہیں اور ان میں جینیاتی وراثت کا عنصر غالب ہے۔ آبادی میں پراسٹیٹ کینسر کی شناخت کی حکمت عملی دو اقسام کی ہیں۔ مغربی ممالک میں پچاس سے اوپر کے ہر مرد کا پی ایس اے سالانہ چیک کیا جاتا ہے۔ دوسرا ہمارا یعنی ایس آئی یو ٹی کا پروٹوکول ہے جس کے تحت پیشاب کی علامات کے ساتھ آنے والے ہر مریض کا پی ایس اے ٹیسٹ کرتے ہیں۔ پی ایس اے کا نتیجہ آنے اور پراسٹیٹ کے طبعی معائنہ کے بعد ضروری امیجنگ کی جاتی ہے۔ اس غدود کی بائیوپسی کر کے ماہرین خوردبینی جائزہ لیتے ہیں۔ اگر بائیوپسی میں کینسر کی تشخیص ہو تو وقت ضائع کیے بغیر ہڈیوں کی سکیننگ کر کے دیکھا جاتا ہے کہ کینسر صرف پراسٹیٹ تک محدود ہے یا آگے ہڈیوں میں سرایت کر چکا ہے۔
مریضوں کو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئیں؟
تمام افراد کو ایک متوازن، فعال اور بامقصد زندگی گزارنی چاہیے۔ پیشاب بار بار آئے یا صبر کرنا دشوار ہو جائے ساتھ میں ہڈیوں میں درد اور وزن کم ہونے جیسی شکایات ہوں تو فی الفور اپنے طبیب کو مطلع کرنا چاہیے۔
کیا ادویات سے بڑھے ہوئے پراسٹیٹ کو افاقہ ہوجاتا ہے؟
پراسٹیٹ بڑھنے کے ابتدائی مراحل میں ایسی دوائیاں دی جاتی ہیں جن سے مثانہ کے اکڑاؤ میں کمی آتی ہے اور یہ شل ہوجاتا ہے جس سے مریض بہت بہتر محسوس کرتے ہیں لیکن پراسٹیٹ کے سائز پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کن حالات میں آپریشن ضروری ہوتا ہے؟
پراسٹیٹ کا سائز بڑھتے بڑھتے ایک وقت آتا ہے کہ پیشاب بند ہوجاتا ہے ایسے مریضوں کو پیشاب کی نلکی (کیتھیٹر) لگانی پڑتی ہے، کچھ مریضوں میں پیشاب پوری طرح بند نہیں ہوتا لیکن مسلسل دباؤ سے گردوں کو ناقابل تلافی نقصان ہونے لگتا ہے، بعض کو بار بار پیشاب میں انفیکشن ہوجاتا ہے ان تینوں اقسام کے مریضوں کو آپریشن درکار ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چالیس فیصد کے لئے آپریشن ناگزیر ہوجاتا ہے۔
ایس آئی یو ٹی میں پراسٹیٹ کے مریضوں کے لئے کیا سہولیات موجود ہیں؟
ایس آئی یو ٹی پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مرکز علاج ہے۔ ہمارے یہاں باقاعدگی سے پراسٹیٹ کلینک منعقد ہوتی ہیں جہاں پراسٹیٹ کے ماہرین ہر ہفتے ساڑھے چار سو سے پانچ سو مریضوں کو دیکھتے ہیں ان میں سے 20 فیصد نئے مریض ہوتے ہیں۔
ان مریضوں کے تمام ٹیسٹ جن میں خون کے ٹیسٹ اور جدید ترین تکنیک سے پیشاب کے بہاؤ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ان کی امیجنگ جس میں سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، ریڈیو نیوکلائیڈ، پی ایس ایم اے، پیٹ اسکین سب شامل ہیں کیے جاتے ہیں، پراسٹیٹ کی مختلف الاقسام بائیوپسی کی جاتی ہیں اور مریضوں کی کینسر اور غیر کینسر یعنی بینائن مرض میں درجہ بندی کرلی جاتی ہے۔ کینسر کے مریضوں کو آپریشن اور آنکالوجی سمیت ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ غیر کینسر بیماری میں اگر پراسٹیٹ کا سائز 90 گرام سے کم ہو تو ہم پیشاب کے راستے سے سرجری ٹی یو آر پی کرتے ہیں جو دنیا میں گولڈ سٹینڈرڈ ہے۔ ہم ہر ماہ اس قسم کے پچاد سے ساٹھ آپریشن کرتے ہیں۔ اس سے بڑے سائز کے پراسٹیٹ کو روبوٹ کی مدد سے سادہ قطعء پراسٹیٹ یا ناف کے نیچے چیرہ دے کر اوپن قطعء پراسٹیٹ کرتے ہیں۔
سوال: مریض کی آمد اور آپریشن کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہونے تک کا بل کتنا بنتا ہے؟ ٹی یو آر پی اور روبوٹک سرجری کی فیس میں کتنا فرق ہے؟
عبدالخالق: (ہنستے ہوئے ) جناب ایس آئی یو ٹی میں نہ کوئی کیش کاؤنٹر ہے نہ ہی کوئی بلنگ ڈیپارٹمنٹ جہاں مریضوں سے حساب کتاب کیا جائے۔
سوال: پھر تو آپ دیگر نامی گرامی خیراتی اسپتالوں کی طرح علاج کرنے سے پہلے مریض سے ان کے یوٹیلٹی بل منگا کر دیکھتے ہوں گے اور اپنا عملہ بھیج کر ہمسایوں اور رشتہ داروں سے مریض کی مالی حالت کی تفتیش ضرور کراتے ہوں گے؟
عبدالخالق: ایس آئی یو ٹی کا نظام اس فلسفہ پر قائم کیا گیا ہے کہ صحت کی سہولیات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہم انسانوں میں کسی بھی قسم کے امتیاز یا تفریق کے قائل نہیں لہذا ہمارے یہاں فرد کی مالی یا سماجی حیثیت کی چھان بین کا کوئی تصور نہیں۔




