میں بھی وزیراعظم نہیں تھا، ملازمت دی گئی تھی: شاہد خاقان
”یہاں کرسی کی کوئی طاقت نہیں، میں بھی وزیراعظم نہیں تھا، ملازمت دی گئی تھی: شاہد خاقان“ ۔ 13 جنوری 2024 کو سابقہ چڑیا اور حالیہ ایکس نامی پلیٹ فارم پر جیو اردو نیوز پر یہ بین نما بیان پڑھا۔ جہاں خراب میں دکھوں، دھوکوں، ڈھونگ اور ڈھنڈوروں کی کوئی کم کمیابی تھی کہ یہ ”نایاب معلومات“ مجھ جیسے لوگوں تک بھی پہنچ گئی۔ کمیونیکشن یک طرفہ نہیں ہوتی ہے یا نہیں ہونی چاہیے۔ سماجی رابطے کی سائٹ پر ایک طاقتور نیوز چینل پر اس نوعیت کی خبر کا نشر ہونا خود کلامی تو نہیں ہو سکتی۔
اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس بات کی دھوم مچے۔ مقبول، معروف، ٹی وی اینکرز معاشرے کے تمام خود ساختہ ٹھیکے دار اور ٹہکے دار مظلوم طبقات کی مشکلات کو حسب عادت بھلا کر دل کی دھڑکن تیز تر کر دینے والے سکرپٹ کو ہیجان خیز لہجے میں ادا کریں۔ میرا پیغام مذمت ہے جہاں تک پہنچے۔ بظاہر پاکستان کے حق میں ریاست، حکومت، حاکمیت، حکمت، سلطنت وغیرہ کے فرق کو مٹا کر بٹی ہوئی بیچاری سی قوم کو مشتعل اور غیر ضروری طور پر مزید جذباتی کیا جائے۔ یا وطن عزیز کے حوالے سے مطالعہ پاکستان کو آڑ بنا کر وہ وہ کہہ دیا جائے کہ دشمن بھی سوچیں کہ ہم کاہے کو اپنا مال ان کو گرانے، ڈھانے اور ڈرانے میں خرچ کریں۔ ان کے لیے ان کے سیاست دان ہی کافی ہیں۔
ایسی شکایتی، فریادی، احتجاجی باتیں اور، دہائیاں نجی گفتگو میں یا ایسے سیمینارز میں جہاں بتایا جاتا ہے کہ Chatham ہاؤس اصول لاگو ہیں ہم سب میں سے اکثر نے بار ہا سنی اور سہی ہوں گی۔ لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا جاتا ہے۔ لہٰذا بصد احترام میں ایسے تمام بار بار بر سر اقتدار رہنے والے سویلین سیاست دانوں سے کہنا چاہوں گی کہ اچھا لگا کہ آپ نے بتا دیا۔ شاید آپ ضمیر کا کوئی بوجھ اتارنا چاہتے ہوں یا بلے بلے کروانا چاہتے ہوں۔
دونوں ہی جائز اور بھلے اعمال ہیں۔ لیکن ہم میں سے ایسے بھی غیر اشرافیہ پڑھے لکھے سوچنے والے منافقت کی طاقت سے نا آشنا اور دنیاوی ترغیبات سے قریب قریب بے نیاز کروڑوں نہیں تو، لاکھوں پاکستانی ہیں جن کے نزدیک درست قدم وہ ہوتا کہ آپ اور آپ کی طرح دیگر ارکان اسمبلی اور سینیٹرز اسی نوکری کی اجرت اور مراعات وصول کریں جس کے لیے وہ اپنے آپ کو منتخب نمائندگان سمجھتے ہیں۔ یہ سنسنی خیزی 25 کروڑ کے بدنصیب ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ملک میں ایک سنگین اور شرم انگیز وتیرہ ہے۔
بہتر ہے کہ آپ جیسوں کو صرف اللہ کی طرف سے ہی ہدایت ملا کرے۔ وطن عزیز کی بھیانک تاریخی حقیقتوں میں ضمیر کا اچانک جاگ جانا بھی رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آپ کو آپ کا ضمیر ہی فیصلہ سازی لب کشائی، وغیرہ پر مجبور کرے ناکہ کسی اور کی رفاقت، فراست، شرافت، صحافت، قیادت، سفارت یا لیاقت پر مبنی نصیحت۔ یہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کی روایت بلکہ ناٹک ختم کریں۔ اگر آپ آزادی سے بطور وزیر، ممبر اسمبلی، سینیٹر حتٰی کہ وزیر اعظم ہو کر بھی اپنی ذمہ داری نہیں ادا کر سکتے تو استعفا دے دیا کریں۔
یا جب عہدے کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں اس وقت واویلا کیا کریں۔ کم لکھے کو بہت جانیں اور اگر آپ کو ہم جیسوں پر بھی کوئی شک ہو رہا ہے تو یقین کریں کہ ہم جیسے احمق صرف سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں۔ ایک بات اور جب اعتراف یا سمجھوتہ کر ہی لیا ہے اور آگے بھی اسی مشاہرہ پر نا بکنا ہے نا جھکنا ہے نا چکنا ہے تو اپنے آپ کو یاد دلا دیا کریں کہ نوکری کی تے نخرہ کی۔


