ترکیہ کے شاعر حریت، نامق کمال


” شاعر حریت“ اور ”شاعر وطن“ کہلائے جانے والے نامق کمال کا اصل نام محمد کمال تھا اور ”نامق“ تخلص۔ وہ جدید جمہوریہ ترکیہ کے فکری معماروں میں سے ایک تھے۔ اتاترک مصطفٰے کمال پاشا ان کے افکار و نظریات سے بہت متاثر تھے۔

وہ ترکیہ کے شہر تکرداع میں 21 دسمبر 1840 کو پیدا ہوئے اور 48 سال کی عمر میں 2 دسمبر 1888 کو وصال پا گئے۔

وہ بیک وقت شاعر، تاریخ نویس، ناول نویس، ڈرامہ نویس اور اخبار نویس تھے۔ ان کے اشعار اور افکار میں حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اگرچہ انہوں نے 48 سال کی مختصر عمر پائی لیکن وہ بہت متحرک رہے اور اور اپنے ہم عصروں سے نمایاں تھے۔

انہیں ترک زبان کے علاوہ فرانسیسی، فارسی اور عربی زبانوں پر بھی دسترس تھی۔ ترک ادبیات میں ادبی ناول متعارف کرانے میں آپ سر فہرست ہیں۔

چونکہ اتاترک مصطفٰے کمال پاشا ان کے افکار سے بہت زیادہ متاثر تھے یہی وجہ ہے کہ وہ انھیں بہت پسند کرتے تھے۔

ان کا بچپن اپنے نانا عبداللطیف پاشا کے ساتھ گزرا جو سلطنت عثمانیہ میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر مختلف جگہوں پر فائض رہے۔ نانا کی مختلف جگہوں پر تعیناتی کی وجہ سے نامق کمال زیادہ روایتی اور درسی تعلیم حاصل نہ کر سکے اور خاص طور پر چند اساتذہ سے خصوصی استفادہ کیا۔

ان کی تحریروں اور اشعار نے نوجوان ترک نسل پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔

ترک زبان کی ترویج میں بھی ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ وہ صرف اپنے زمانے میں ہی بے حد مقبول نہ تھے بلکہ ان کی افکار و و اشعار آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ وہ حب الوطنی کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی جدید دور میں قابل عمل دین سمجھتے تھے۔ وہ قوم کو یکجا اور متحد رکھنے کے لیے حب الوطنی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے بچپن ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ استنبول میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں آپ نے مترجم کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ اس دوران آپ کا تعارف اس دور کے ممتاز ادیبوں سے ہوا۔ وہ غالب لسکوفچالی سے متاثر تھے۔ انہوں نے تھامس جابز، جان لاک اور والٹیئر کو بھی پڑھ رکھا تھا۔ خاص طور پہ اسلامی نظریات کے حوالے سے وہ غالب لسکوفچالی سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ”تصویر افکار“ اخبار کے مدیر بھی رہے۔ وہ اس اخبار کے پہلے مدیر ابراہیم شناسی سے بھی متاثر ہوئے جو مغربی افکار و نظریات رکھتے تھے۔

” نوجوان ترک“ کی اصطلاح بھی انہوں نے سب سے پہلے اس اخبار میں متعارف کروائی۔
جمہوریہ ترکیہ کے قیام اور آزادی کی تحریک میں آپ کے خیالات اور اشعار و افکار نے ممیز کا کام کیا۔

آپ نے فرانس کا بھی سفر کیا اور وہاں کے مشہور ادیبوں جیسے روسو، وکٹر ہیوگو اور مونٹیسکو کو بھی پڑھا اور ان کی کتب کا ترکی میں ترجمہ کیا۔ یہاں فرانس میں آپ نے ”حریت“ نامی ایک اخبار بھی نکالا۔ اس کے بعد وہ واپس استنبول آ گئے جہاں انہوں نے اپنی ادارت میں ”عبرت“ کے نام سے اخبار شائع کیا۔

29 جون 1876 کو آپ مجلس شوریٰ کہ اس کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے جس نے سلطنت عثمانیہ کا دستور تیار کیا۔ آپ جزیرہ مدللی اور روہوڈوس میں سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں گورنر بھی رہے۔ اپنی گورنر شپ کے دوران آپ نے یہاں خاص طور پر کتب خانوں پر خصوصی توجہ دی اور ایران، مصر، ہندوستان اور یورپ سے نایاب کتابیں منگوا کر یہاں رکھوائیں۔

آپ کا مزار ترکیہ میں گیلی پولی کے قصبے میں ایک بزرگ سلیمان پاشا کے مزار کے ساتھ واقع ہے۔

جدید ترکیہ کی تشکیل میں آپ کے خیالات و افکار نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اتحادی فوجوں کے خلاف مصطفٰے کمال پاشا نے نوجوانوں کو حریت و آزادی کی جدوجہد پر اکسانے کے لیے آپ کے اشعار اور افکار کا سہارا لیا اور انہیں وطن کی آزادی کے لیے قائل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ”شاعر حریت“ بھی کہا جاتا ہے۔

آپ ایک مترجم اور اخبار نویس بھی تھے۔ آپ کے مضامین تسلسل سے اتحاد، حریت، عبرت، بصیرت، وقت اور صداقت جیسے اس وقت کے معتبر اخباروں میں شائع ہوتے تھے جنہیں لوگ بڑی دلچسپی سے پڑھتے تھے۔ 1874 میں آپ کا مشہور ناول ”علی بے کی سرگزشت“ شائع ہوا۔ آپ کی دیگر مشہور تصانیف درج زیل ہیں ؛

عاکف بے
انتباہ
گل نہال
کربلا
امیر نو روز
رویہ
وطن
بیچارہ بچہ
سیاہ بلا
جلال الدین خوارزم شاہ
جزمی
باری قائے ظفر
اوراق پریشاں
محاصرہ سیلسترہ
محاصرہ قانجی
معروف اقوال
آپ کے معروف اقوال درج زیل ہیں ؛
نمبر 1 :
بعض اوقات آپ کو اپنے نظریات بدلنا چاہیے کیونکہ آپ اپنے نظریات کے غلام نہیں بلکہ مالک ہیں۔
نمبر 2 :
میں بہت سے لوگوں سے ملا ہوں۔ یہ سب دنیا سے خوش نہیں تھے لیکن وہ اس دنیا سے جانا بھی نہیں چاہتے۔
نمبر 3 :
حب الوطنی کا مطلب زمین کے ٹکڑے سے محبت نہیں بلکہ اس میں بسنے والے لوگوں سے پیار ہے۔
نمبر 4 :

انسان کتنی عجیب مخلوق ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ اس دنیا سے کوچ کر جائیں گے لیکن وہ اپنی موت پر یقین نہیں کرنا چاہتا۔

نمبر 5 :

تربیت ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔ ہر بولا جانے والا لفظ بچے کی شخصیت کی عمارت پر لگائی جانے والی اینٹ کے مترادف ہے۔

نمبر 6 :
انسانیت مطالعے کی بدولت قائم ہے۔
نمبر 7 :
انسان اپنے وطن سے محبت کرتا ہے کیونکہ اس کی آزادی، سکون اور حقوق اپنے وطن کی بدولت ہی قائم ہیں۔
نمبر 8 :
کوشش اور جدوجہد ہم پر فرض ہے جبکہ مرحمت صرف خدا کی طرف سے ہے۔
نمبر 9 :
ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti