کھلی آنکھوں کا خواب (سولہواں حصہ)
در کاظمین پر
اب ہماری گاڑی ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہوئی۔ بغداد کی سڑکوں اور ان دیکھے راستوں سے گزرتے ہوئے ہم کاظمین کے سلام کو جا رہے تھے۔
دلچسپی سے باہر کے مناظر دیکھتے، دعائیں کرتے جب ایسی سڑک پر آئے جس کے دو رویہ کھانے پینے، تبرکات اور تحائف کی دکانیں تھیں۔ زائرین گروہ در گروہ مزار کی طرف رواں دواں تھے۔ آج شدید حبس اور گرمی تھی۔ خواتین کالے عبائے میں ملفوف تیز تیز قدم اٹھاتیں مزار کی طرف جا رہی تھیں کہ عائشہ نے توجہ دلائی۔ دیکھیں اس پوری سڑک کو گاڑیوں کے لئے بند کیا گیا ہے۔ محرم اور رش کے دنوں میں عموماً ایسی سڑکوں کو گاڑیوں کے لئے بند کر دیا جاتا ہے۔
دیکھیں سب لوگ کہاں سے پیدل چل کر آ رہے ہیں۔ امی آپ تو اتنا نہ چل سکتیں۔ ہاں بالکل یہ تو ہے اور میرے بہت مہربان، سوہنے رب کو تو یہ پتا ہے، اس لئے مجھے خصوصی طور پر وی آئی پی کی طرح زیارات کرائی گئیں۔ میرے کریم رب کا کیسا کرم ہے مجھ ناچیز خطا کار پر، کیسی عنایت ہے کہ ہر جگہ جیسے بند دروازے کھلتے چلے گئے ہوں اور میں ایک نئی پر نور دنیا میں داخل ہو گئی ہوں۔ یا اللہ ایسے ہی اپنے فضل و کرم سے جنت کے راستے آسان کر دے اور جنت کے سارے دروازے کھلتے چلے جائیں۔
اللہ احمد کو سلامت رکھے اور اجر کثیر عطا فرمائے جن کی وجہ سے ہر جگہ آسانیاں اور سہولتیں میسر آئیں۔ ایسے ہی دعائیں مانگتے باتیں کرتے سڑک عبور کر کے ہم کاظمین کے گیٹ کے اندر داخل ہوئے۔ گاڑی اندر داخل ہونے والے گیٹ کے بالکل قریب کھڑی کی۔ اندر گئے تو ڈیوڑھی سی تھی جس کے دائیں طرف دفتر تھا۔ انتظامیہ کے افراد نے استقبال اور مصافحہ کیا اور خواتین کی منتظم یا مہتمم جو بھی کہہ لیں، اسے بلا کر ہمیں ان کے حوالے کیا کہ ہمیں زیارت کروا لائیں۔
عبائے میں ملبوس دراز قد مہربان خاتون نے میرا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگیں۔ یہ ایک بہت وسیع و عریض میدان تھا۔ سرخ دبیز قالینوں پر محو دعا لوگ تھے جن سے گزر کر ہم پھلانگتے ہوئے چلتے گئے۔ اس حصے سے سامنے پھر ایک طویل راستہ تھا جسے دیکھ کر ٹانگوں کا درد بڑھ گیا۔ خاتون سے پوچھ کر اندازہ ہوا کہ ابھی مزار اقدس کافی دور ہے۔ خیر دکھتی ٹانگوں کی فریاد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چلتے گئے کہ چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔
اس پیاری خاتون نے کوشش کی کہ چاند گاڑی یا وہیل چئیر مل جائے مگر کامیاب نہ ہوئی۔ ہم نے خود کو سرزنش کرتے ہوئے خود کلامی کی کہ لو بھئی تمہیں تو وہیل چئیر کے مزے ہی آ گئے۔ چلتی چلو۔ پیدل چلنا بھی کار ثواب ہے۔
خدا خدا کر کے ہم مرکزی دروازے تک پہنچ گئے۔ گیٹ پر بیٹھے بندے کے پاس جوتے جمع کروائے اور آگے بڑھے۔ امام کا مزار اب بھی دور تھا۔ ہم مختلف گیلریوں اور برآمدوں سے گزرتے چلے گئے۔ تمام جگہیں خواتین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ چلنا محال تھا مگر وہ مہربان خاتون عربی میں کچھ کہتی، سمجھاتی ہٹو بچو کی صدا لگاتی راستہ بناتی چلی گئی اور بالآخر ہم جالیوں کے قریب پہنچ ہی گئے لیکن یہاں وہ ہجوم کہ بس کیا بتائیں۔
اتنا رش دیکھ کر اسے کہا کہ پریشان نہ ہو بس یہیں سے مزار دکھائی دے رہا ہے۔ دعا کر لیتے ہیں۔ ویسے تو ہر جگہ زائرین کثیر تعداد میں موجود تھے مگر یہاں تو کچھ اور ہی صورت حال تھی۔ اگر یہ نرم خو خاتون جس کا نام علوینہ تھا، ہمارے ساتھ نہ ہوتی تو دو قدم آگے جانے کا راستہ نہ ملتا۔ اللہ اس کے راستے آسان بنائے۔ وہاں سے نکل کر وہ ہمیں دوسرے امام کے دروازے تک لے گئی۔ ان تمام زیارات کی وسعت، شان، خوبصورتی، چھتوں اور در و دیوار پر نفیس کام کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کم اور بیان عاجز ہے۔
کرسٹل کے بڑے بڑے فانوس ماحول کو بقہ نور بنا رہے تھے۔ امام کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر دیکھتے ہوئے دعا کی۔ دروازے پر قیمتی پتھر جڑے تھے۔ اس خوبصورت دروازے پر ہاتھ پھیرا۔ جانے یہاں کیسے کیسے نیک متقی لوگوں کے ہاتھ لگے ہوں گے۔ یا اللہ تیرا شکر کس انداز اور کس زبان میں بیان کروں کہ تو نے کیسے کیسے عاشقان خدا اور رسول کے در تک رسائی دی۔ تھوڑا اور آگے آئے تو ایک اور دل آویز دروازہ دکھائی دیا جو بند تھا اور اس کے اوپر لکھا تھا۔
”باب فاطمہ“ یہ پڑھ کر میں دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔ عائشہ اس لمحے کو تصویر میں قید کرنے لگی تو ایک مرد منتظم نے دیکھ لیا اور منع کرنے لگا۔ علوینہ نے اپنی زبان میں سمجھایا تو آگے بڑھ گیا۔ باب فاطمہ کے پاس کھڑے ہونے نے سرشار کیا۔ مغرب کی اذان ہوا چاہتی تھی۔ رش بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ علوینہ نے ہمیں ڈیوڑھی تک آ کر چھوڑا۔ محبت سے ہاتھ پکڑ کر خدا حافظ کہا۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور دعائیں دیں۔
اندر آئے تو آفس میں نسیم اور احمد منتظر تھے۔ وہاں ٹافیوں سے بھری ہوئی ٹوکری اور پانی رکھا گیا تھا۔ ٹوکری سے ٹافیاں اٹھائیں اور اس تبرک کے لئے شکر گزار ہوئے۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور اگلی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔
(جاری ہے )


