”میڈ ان چائنا“ سے ”میڈ بائے چائنا“ تک، اب چین کے مال کو ہلکا نہ لیجیے

ایک وقت تھا کہ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں ”میڈ ان چائنا“ کو طنزیہ طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ چین کا مال، مختلف برینڈز کی کاپی اور ”سستا مال“ ہوتا ہے جو چلے تو چلے نہیں تو نہ چلے۔ بلاشبہ کچھ دہائیاں قبل جب چین نے صنعتی ترقی کا آغاز کیا اور کھلے پن کا دور شروع ہوا تو اس وقت تکنیکی ماہرین اور کام کرنے والوں کی کمی تھی لہذا چین نے مارکیٹ میں موجود مصنوعات پر توجہ دی، انہی پر تجربات کیے، کچھ اضافے کیے یا یوں کہیے کہ اپنا ”ہاتھ رواں کیا“ اور اپنی صلاحیتوں کو پرکھا۔
اس کے بعد عملی اقدامات کی جانب قدم بڑھائے تو ووکیشنل ٹریننگ پر توجہ دی، نئے تجربات کیے، مارکیٹ میں موجود مختلف اشیا کو دیکھا سمجھا، اشتراک کیا نئی اختراعات سامنے لائی گئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب چین نے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا شروع کیا تو جہاں تک سیکھا تھا وہاں سے آگے کے تجربات کا سفر شروع کیا۔ ”خود انحصاری“ کو ”کی ورڈ“ اور ”کی پریکٹس“ بنایا، اپنے وسائل اور اپنے لوگوں کی صلاحیتوں کو کھوج کر اسے پالش کر کے اسے بہتر سے بہترین بناتے ہوئے آج چین، ”میڈ ان چائنا“ نہیں ”میڈ بائے چائنا“ ، نیو انرجی وہیکلز، ڈرونز، سیٹلائٹس، خلائی جہاز، سپیس سٹیشن، مسافر بردار C۔ 919، لارج کروز شپ اور ان گنت ”مکمل طور پر چینی ساختہ“ چھوٹی بڑی مصنوعات کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی ساکھ اور اپنا مقام مضبوط کر چکا ہے۔
چینی برینڈز کی مقبولیت کی وجہ محض ان کا باکفایت ہونا ہی نہیں ہے بلکہ ان میں جدت کے تمام تر پہلو اور مارکیٹ میں موجود بین الاقوامی برینڈز کے ساتھ مقابلے کی صلاحیت کا ہونا بھی شامل ہے۔ کاروباری ادارے اخراجات کو کم سے کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے مہنگے ترین آپریشنز کا کچھ حصہ کسی تیسرے فریق کو آؤٹ سورس کر دیں۔ لاگت میں کمی مگر معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے باعث متعدد بین الاقوامی برینڈز نے چین کو آؤٹ سورس کیا۔
اس وقت 95 فیصد سے زیادہ آئی فونز، ائر پوڈز، میک اور آئی پیڈ چین میں بنائے جاتے ہیں۔ شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ کئی بین الاقوامی لگژری برینڈز چین میں ہی تیار ہوتے ہیں۔ فیشن کی دنیا سے ہی چند مثالیں لیتے ہیں، پراڈا، اطالوی لگژری پاور ہاؤس ہے جو سو سال سے زیادہ عرصے سے فیشن کی دنیا میں ٹاپ پوزیشن پر ہے۔ بہت ممکن ہے کہ لگژری برینڈز پسند کرنے والے وہ لوگ جو چین کی پراڈکٹ کو کچھ خاص نہیں سمجھتے، ان کی پسندیدہ پراڈا پروڈکٹ چین میں بنی ہو۔
ایک اور مثال بربیری کی ہے جو مشہور برطانوی فیشن پاور ہاؤس ہے اسے فیشن کے کاروبار میں تقریباً 170 سال گزر چکے ہیں۔ اس لگژری برانڈ کی مینوفیکچرنگ کئی اور ممالک میں بھی کی جاتی ہے اور اسے چین منتقل ہوئے 30 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ چین میں ان کی مصنوعات اسی اعلی معیار کے مطابق تیار ہوتی ہیں جس طرح یہ برطانیہ، امریکہ یا سوئٹزر لینڈ سے تیار کرواتے ہیں۔ ایک اور مثال ”کوچ“ برینڈ کی ہے جس کا آغاز 1941 میں والیٹ اور بل فولڈز بنانے سے ہوا تھا۔ 90 کی دہائی میں اس نے خواتین کے لیے چمڑے کے ہینڈ بیگز تیار کیے اور پھر یہ ”برینڈ“ سٹیٹس سمبل بن گیا۔ ”کوچ“ نے، تعاون اور مارکیٹ کی قابل اعتماد حکمت عملی کے ذریعے، چین میں ای کامرس میں فرنٹ لائن پر جگہ پائی اور آن لائن پلیٹ فارم، ٹی مال بنانے کے لیے چینی صنعتوں کے ساتھ شراکت داری بھی کی۔
ایک اور بڑا نام, NIKE، یہ امریکی برینڈ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، یوں تو اس برینڈ کی مصنوعات دنیا کے 36 ممالک میں تیار کی جاتی ہیں، لیکن اس کی پروڈکشن کا سب سے زیادہ حصہ ویتنام اور چین کے پاس ہے اور کل پروڈکشن کا لگ بھگ 25 فی صد ویتنام جب کہ تقریباً 23 فی صد ”میڈ ان چائنا“ ہے اور ہاں ”ٹیسلا“ دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک کار برینڈ کا سب سے بڑا پروڈکشن پلانٹ بھی تو شنگھائی ہی میں ہے۔
اب یہاں سے آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں دنیا کی ”فارچیون 500“ 2023 کی فہرست جس میں دنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیز شامل ہیں۔ اس 500 کی فہرست میں چین کی 142 کمپنیز شامل ہیں۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے جب چینی کمپنیز کی تعداد امریکی کمپنیز سے زیادہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نو چینی آٹومیکرز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بی وائی ڈی اور ایمپیریکس ٹیکنالوجی نے اپنی تکنیکی جدت طرازی اور نیو انرجی گاڑیوں کی مدد سے ٹاپ 300 میں جگہ پائی ہے۔
چلیے اب ایک دو باتیں کرتے ہیں ”میڈ ان چائنا“ سے ”میڈ بائے چائنا“ کی۔ سی 919 چین کا پہلا چینی ساختہ بڑا مسافر طیارہ ہے۔ چین میں مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ یہ طیارہ، سول طیاروں کی صنعت میں ایک سنگ میل ہے۔ ائربس اے 320 اور بوئنگ 737 میکس جیسے درمیانے فاصلے کے مسافر طیاروں کے مقابلے پر آنے والے سی 919 کی کامیاب تکمیل سے پہلے، تقریباً پانچ دہائیوں میں چین کی طیارہ سازی کی صنعت نے کئی نشیب و فراز دیکھے مگر مسلسل سیکھتے اور تجربات کرتے ہوئے اس نے مستقل مزاجی سے اپنا سفر جاری رکھا۔ چینی ساختہ جیٹ طیارے وائی۔ 10 نے 26 ستمبر 1980 کو اپنی پہلی پرواز کی، اس کے بعد اس نے ملک بھر میں کئی تجرباتی پروازیں کیں۔ تاہم، 1982 میں اس پر پیش رفت رک گئی کیونکہ اس وقت چین کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اتنے بڑے منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
کچھ سال بعد ، شنگھائی ایوی ایشن انڈسٹریل کارپوریشن نے ایک امریکی فرم میکڈونیل ڈگلس کے ساتھ شراکت سے ایم ڈی۔ 82 تیار کیا، جو ایک نیرو باڈی جیٹ ائر لائنر ہے۔ اس نے جولائی 1987 میں اپنی پہلی پرواز کی۔ 1995 میں، ایم ڈی۔ 90 کی تیاری پر کام شروع کیا گیا۔ تاہم دسمبر 1996 میں میکڈونیل ڈگلس کا انضمام ہو گیا تو ان کا چین کے ساتھ تعاون بند ہو گیا۔ اس کے بعد چین نے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کیا تاکہ سول طیاروں کی تیاری جاری رکھی جا سکے، مثلاً فرانس اور اٹلی کے ساتھ اے ای۔ 100 تیار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر وہ منصوبے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔
ان تمام تجربات کے دوران چینی ماہرین نے جو سب سے اہم بات سیکھی وہ یہ کہ بڑے طیاروں کی بنیادی ٹیکنالوجی کو خریدا نہیں جا سکتا اور نہ ہی مارکیٹ کے ساتھ تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی نتیجے کی بنیاد پر 2006 میں چینی حکومت کی جانب سے وسط مدتی اور طویل مدتی سائنسی و تکنیکی ترقی کے قومی منصوبے کا اجرا ہوا تو مقامی طور پر بڑے طیاروں کی تیاری کے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کیا گیا اور سابقہ تجربات کی بنیاد پر ، چین نے ایک مقامی جیٹ طیارہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کا پہلا نتیجہ 90 نشستوں والے جیٹ اے آر جے 21 کی صورت میں سامنے آیا جو 21 دسمبر 2007 کو اسمبلی لائن سے نکلا۔ 2007 ہی میں، سی 919 کے منصوبے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی۔ سی 919، چین کا پہلا ٹرنک جیٹ لائنر ہے جسے بین الاقوامی معیار کے مطابق اور آزاد انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
صرف طیارہ سازی ہی نہیں اب چین کی جہاز سازی کی پیداواری صنعت بھی دنیا میں سر فہرست ہے اور دنیا میں بحری جہاز سازی کی 10 بڑی کمپنیز میں سے 6 چینی کمپنیز ہیں۔ انتہائی گہرے پانیوں میں تحقیق کرنے والا چین کا پہلا بحری جہاز بھی رواں سال مکمل ہو جائے گا۔ یہ ڈرلنگ جہاز 10 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی میں بھی نمونے جمع کر سکتا ہے۔ اب تک، دنیا میں اس قسم کے صرف دو جہاز ہیں ایک جاپانی چیکیو ہے اور دوسرا ایک امریکی جہاز ہے۔
اب اگر چین کی جہاز سازی کی بات ہو ہی رہی ہے تو ”اڈورا میجک سٹی“ کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی ہے۔ آٹھ سال کی تحقیق اور پانچ سال کے عرصے میں ڈیزائن، تعمیر اور پھر آزمائشی سفر کے بعد ، چین کے پہلے مکمل طور پر چینی ساختہ لارج کروز شپ، ”اڈورا میجک سٹی“ نے یکم جنوری 2024 کو 3 ہزار مسافروں کے ساتھ اپنے پہلے کمرشل سفر کا آغاز کیا۔ ایک بڑے کروز شپ کو صنعتی میدان میں ایک انٹیگریٹر سمجھا جاتا ہے اور چین کے اندر ایک بڑے کروز شپ کی تکمیل چین کی جہاز سازی کی صنعت کی مجموعی صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
اب تک جہاز سازی کی صنعت میں چین، ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ایک بڑا قدرتی گیس کیریئر اور ایک بڑا کروز جہاز بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ جو جہاز سازی کے سب سے مشکل منصوبے ہیں۔ یہ وہ چند مثالیں ہیں جو چین کے ”میڈ ان چائنا“ سے میڈ بائے چائنا ”کی ایک جھلک دکھاتی ہیں۔ اگر اب بھی کوئی“ چین کا مال ”کا جملہ طنزیہ طور پر استعمال کرتا ہے تو اس کے وقت سے بہت پیچھے رہ جانے اور تیزی سے بدلتی دنیا سے متعلق کم علمی پر افسوس کرتے ہوئے یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ“ پاس کر یا برداشت کر ”کیونکہ خود انحصاری کی راہ پر آگے بڑھتا چین اور“ چینی مال ”اب ایک“ برینڈ ”بن چکے ہیں۔ ختم شد۔





