سوشل میڈیا اور صحافتی اقدار


80 کی دہائی کے نصف میں جب میں نے پرنٹ میڈیا کے میدان میں قدم رکھا تو چند ہی ماہ پہلے جنرل ضیاء الحق کے طویل دور آمریت کے بعد عام انتخابات منعقد ہوئے تھے اور سندھڑی سے تعلق رکھنے والے شریف النفس محمد خان جونیجو کو جنرل ضیاء الحق نے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھایا تھا۔

یہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیلیگرافی کو خیرباد کہا جا رہا تھا اور کمپیوٹر پر کمپوزنگ اخبارات کے دفتروں میں راستہ بنا چکی تھی۔ بڑے اخبارات جنگ، نوائے وقت، ڈان اور دی مسلم تھے۔ اردو اخبارات کی اشاعت لاکھوں میں تھی اور اخبارات کے نیوز روم شام کے اوقات میں مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی حرف کی حرمت باقی تھی۔ لکھے ہوئے لفظ کو معتبر اور مقدس سمجھا جاتا تھا۔ پشاور ٹیلی وژن سے ٹیلی کاسٹ ہونے والے مزاحیہ پروگرام میں اس حوالے سے دلچسپ جملہ دہرایا جاتا تھا، ”اخبار کہندا اے ملوو“ تو سننے والا کہتا ہے کہ، ”فیر ٹھیک ہی ہوسی۔“

اخبارات کو خبروں کی ترسیل دو بڑی نیوز ایجنسیاں کرتی تھیں۔ سرکاری ایجنسی اے پی پی اور نجی شعبے کی ایجنسی پی پی آئی۔ یہ خبریں اخبارات کے نیوز روم میں نصب ٹیلکس مشین پر پرنٹ ہوتی تھیں اور ان کا ترجمہ کر کے اخبارات کے صفحات بنائے جاتے تھے۔

وفاقی دارالحکومت کی پریس کور کی تعداد دو درجن سے زائد نہ تھی اور سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے اور باہمی احترام کے رشتے میں منسلک تھے۔ سرکار کی جانب سے پرنسپل انفارمیشن افسر سب سے اہم رابطہ افسر تھا جس کا بے حد رعب اور دبدبہ تھا۔

راولپنڈی میں ہلال روڈ پر پرانی بیرک میں قائم آئی ایس پی آر ایک بریگیڈیئر، ایک کرنل، میجر کی سطح کے چند افسران پر مشتمل تھا۔ ایک سٹل اور ایک ویڈیو کیمرہ آئی ایس پی آر کا کل اثاثہ تھا۔ فوج کے ادارے کی سیکریسی کا عالم یہ تھا کہ کور کمانڈر راولپنڈی کے نام کے ساتھ کور کا نمبر پبلش کرنے پر آئی ایس پی آر کے کرنل صاحب نے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے چیف رپورٹر کی نہ صرف اچھی خاصی کھنچائی کی بلکہ ایڈیٹر کو شکایت بھی کر کے جواب طلبی کرائی۔

ان دنوں بھی جعلی صحافی موجود تھے لیکن ان کی پہچان الگ تھی۔ صحافی صرف روزنامہ اخبارات، ہفت روزہ اور ماہانہ میگزین میں کام کرنے والے افراد کو ہی کہا جاتا تھا لیکن ان میں سے بھی صرف انہی کو پریس کلب کی رکنیت ملتی تھی جو ادارتی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے۔

بیسویں صدی کے دوسرے سال یعنی 2002 میں الیکٹرانک میڈیا نے پاکستان میں آنکھ کھولی تو پاکستان کے عوام نے ایک نیا منظر دیکھا۔ ٹی وی مائیک گلی گلی گھومنے لگے۔ خبریں 24 گھنٹے میں ایک بار کی بجائے ہر لمحے ملنے لگیں اور اہم واقعات کی لائیو کوریج ہونے لگی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اخبارات کے ادارتی صفحات کی اہمیت کم ہونے لگی اور نیوز چینلوں پر شام کے ٹاک شوز کی اہمیت بڑھنے لگی۔ ٹی آر پی کے چکر میں سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جگہ میک اپ زدہ خواتین و حضرات نے لے لی۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ ان میں سے کئی ایسے تھے جو پروڈیوسر کے کان میں بولنے پر ہی بات کر سکتے تھے۔ ان ٹی وی اینکروں نے خود کو صحافی کہنا شروع کر دیا۔

ہر لمحے خبر براہ راست ملنے کی ترجیح جب نیوز چینلوں نے پوری کر دی تو اخبارات کی اہمیت روز بروز کم ہونے لگی اور پرنٹ میڈیا کے بیشتر لوگ الیکٹرانک میڈیا کا رخ کرنے لگے۔ ہر بڑے اخبار نے ٹی وی چینل بھی قائم کر لیا۔ اس سے پہلے ٹیلی وژن رپورٹرز کو بھی ”جرنلسٹ“ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا لیکن نجی نیوز چینلز کی بھر مار ہوئی تو نیوز اینکرز، پروگرام اینکرز، پروڈیوسرز اور کیمرہ مین سبھی ”جرنلسٹ“ ہو گئے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا یہ بوم لگ بھگ پندرہ سال تک چلا جس کے بعد ٹچ سکرین اور اینڈرائڈ ٹیکنالوجی نے دنیا ہی بدل دی۔ فیس بک، ٹویٹر، یو ٹیوب، لنکڈ ان، ٹک ٹاک نے میڈیا کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا کی کسی نے 2001 تک سوچا بھی نہ ہو گا کہ الیکٹرانک میڈیا اس قدر بے توقیر اور غیر متعلق ہو جائے گا اور گھروں میں بیٹھ کر وی لاگ کرنے، ٹویٹر پر مسیجنگ کرنے اور فیس بک پر پوسٹیں لگانے والے سب صحافی ہو جائیں گے۔

اور آج ہم سوشل میڈیا کی دنیا میں زندہ ہیں جس میں ہر وہ شخص اظہار رائے میں آزاد ہے جس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ اخبارات متروک اور ٹی وی نیوز چینلز غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ اظہار رائے کے ذرائع ہی نہیں زبان بھی مکمل تبدیل ہو چکی ہے۔ اخبارات اور میگزین کی زبان کا ایک معیار تھا جس کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی لیکن ابھی سوشل میڈیا پر نئی زبان وجود میں آ چکی ہے جس میں گندی اور ننگی گالی بھی معیاری الفاظ میں شامل ہے۔

پابند معاشروں میں جن میں شمالی کوریا، چین اور ایران شامل ہیں، سوشل میڈیا کو کسی حد تک کنٹرول کرنے اور کسی ضابطے میں لانے کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن پاکستان میں ہر دوسرے شعبے کی طرح یہ شعبہ بھی بے لگام ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ مادر پدر آزاد ہے۔

پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا کو بھی ہم نے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب سوشل میڈیا کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو محمد خان جونیجو یا بے نظیر بھٹو کی پریس ٹاک کے کوئی قریب بھی نہ پھٹکنے دیتا لیکن قومی سیاست کے رہنمائی بھی انہی افراد کے ہاتھ میں ہے، یہی آج کی میڈیا کی دنیا کے ہیرو اور ولن ہیں اور یہی 24 کروڑ عوام کے مستقبل کی تصویر کشی کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS