اسلام میں خدا کا تصور: ابن سینا

الفارابی کی پیروی کرنے والے فلسفیوں میں سب سے بڑا نام ابن سینا کا ہے۔ جن کا یہ ماننا تھا کہ پیغمبروں پر نازل ہونے والی وحی اسی سچائی کا مظہر ہے جو فلسفے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفے کے برعکس وحی کی زبان اتنی سادہ ہوتی ہے جسے عام لوگ سمجھ سکتے ہیں۔
ابن سینا انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ با اثر فلسفیوں میں سے ایک ہیں۔ فلسفیوں میں ان کا مقام الفارابی سے بھی اوپر بیان کیا جاتا ہے۔ ابن سینا کے خیالات نے اسلامی اور عیسائی مذہبی سوچ پر دیرپا اثر ڈالا۔ ابن سینا نے یہ دلیل دے کر پیغمبروں پر نازل شدہ مذہب کو فلسفہ کے ساتھ ہم آہنگ کیا کہ جہاں عام انسان عقلی سوچ کے ذریعے حقیقی علم حاصل کرتے ہیں وہیں انبیاء براہ راست آسمانی روح سے علم حاصل کرتے ہیں۔
ابن سینا 980 عیسوی میں بخارا کے قریب افشانہ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بخارا، اس وقت، اسلامی دنیا کے ثقافتی دارالحکومت کے طور پر بغداد کا مقابلہ کرتا تھا۔ ابن سینا کے ابتدائی سال بخارا میں گزرے جہاں انہوں نے ایک وکیل اور ڈاکٹر دونوں کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ایک با اثر خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے باعث ان کی رسائی حکمران طبقے تک تھی۔ اس تعلق کی بنیاد پر انھیں محل کی لائبریری سے استفادہ کرنے کا موقع ملا جس میں یونانی فلسفہ اور سائنس کی کتب کے تراجم موجود تھے۔ ابن سینا کا انتقال 1037 عیسوی میں ہوا۔
ابن سینا نے طب، فلسفہ، دینیات اور ریاضی سمیت ہر قسم کے مضامین پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ ان کے طبی انسائیکلوپیڈیا The Canon of Medicine نے جدید میڈیکل تعلیم کی بنیاد فراہم کی۔ ان کی یہ کتاب مشرق وسطیٰ اور یورپ کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں 600 سال سے زیادہ عرصے تک پڑھائی جاتی رہی۔
اس مضمون میں، میں فطرت الہی سے متعلق ان کا فلسفیانہ کام پیش کروں گا۔ ان کی کتاب بعنوان The Book of Healing فلسفہ اور سائنس میں ان کی اہم ترین خدمات پر مشتمل ہے۔ یہ متاثر کن کتاب چار حصوں، منطق، سائنس، ریاضی، اور مابعد الطبیعیات، پر مشتمل ہے۔
ابن سینا کو عقل اور فلسفہ پر اتنا بھروسا تھا کہ ان کے نزدیک ہر وہ چیز جو خدا کے بارے میں سمجھی جا سکتی ہے، صرف عقل سے ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ یہ ایک طاقتور سوچ ہے کہ ہم خدا کو عقلی نقطہ نظر سے اتنا جان سکتے ہیں جتنا کہ ایمان سے۔ ابن سینا نے نیوپلاٹونک تھیوری کو قبول کیا جس میں ہر وہ چیز جو موجود ہے، لازمی طور پر اس کا منبع ایک خدا ہے۔ چونکہ خدا ازلی ہے اور کائنات کی ہر چیز اس کی فطرت سے چلتی ہے اس لیے کائنات بھی ابدی ہے۔ کائنات کی ابدیت کو بعض دوسرے فلسفیوں، خاص طور پر الغزالی، نے قبول نہیں کیا اور تنقید کا نشانہ بنا یا۔
خدا کے وجود کے بارے میں ابن سینا کے دلائل پیش کرنے سے پہلے میں ان کے روح کے ابدی ہونے کے ثبوت کا ذکر کرتا ہوں۔ یہ ثبوت واضح طور پر اس طرح کے بنیادی مسائل کے بارے میں ابن سینا کے نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔
ابن سینا ہمیں ایک فرضی صورت حال پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ایک ایسے انسان پر جو ابھی ابھی پیدا ہوا ہے، اور فضا میں گر رہا ہے۔ چونکہ وہ ابھی پیدا ہوا ہے اس لیے اس کا کوئی ماضی نہیں ہے۔ ماحول کے ساتھ اس کے تمام حواس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی انکھ پر پٹی بندھی ہوئی ہے، اس لیے کچھ دیکھ نہیں سکتا، اس کے کانوں میں پلگ لگے ہیں اس لیے وہ سن نہیں سکتا، اس کی زبان بندھی ہوئی ہے اس لیے وہ چکھ نہیں سکتا، اس کے ہاتھ اور ٹانگیں اس طرح جدا ہیں کہ وہ چھونے کے احساس سے محروم ہے، اور اس کے نتھنے ڈھکے ہوئے ہیں، تاکہ وہ سونگھ نہ سکے۔
آزاد فضا میں گرنے کے باعث یہ انسان اپنے اوپر کسی قسم کی کوئی طاقت محسوس نہیں کر سکتا۔ مختصر یہ کہ یہ انسان جس نے کبھی دنیا کو کسی بھی طرح محسوس نہیں کیا اور جو اب بھی کسی چیز کو محسوس کرنے سے قاصر ہے، آزادانہ طور پر گر رہا ہے۔ اس انسان کو قطعی طور پر یہ احساس نہیں ہے کہ اس کا ایک جسم ہے اور اس کا اپنے گردونواح سے کوئی تعلق ہے۔
ابن سینا سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ انسان، جو کسی طور کائنات کو محسوس کرنے سے قاصر ہے، اپنے وجود سے واقف ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنے وجود سے اس وقت بھی واقف ہو گا جب وہ کسی مادی دنیا کو محسوس نہیں کر سکتا ہو۔ اس دلیل کی بنا پر ابن سینا یہ استدلال کرتے ہیں کہ انسان میں کوئی ایسی چیز ہے جو اسے اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔ ابن سینا اس چیز کو روح قرار دیتے ہیں۔ جسم چھین لیا جائے تو روح زندہ رہتی ہے۔ یہاں ابن سینا مغربی فلسفے کے بانی رینے ڈیکارٹ کی بیان کردہ، جدید فلسفے کی سب سے مشہور سطر، ”میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں“ کو ڈیکارٹ سے چھ سو سال پہلے بیان کرتے ہیں۔
ضمنی تبصرے کے طور پر مجھے یہ بتانا چاہیے کہ ابن سینا کے تقریباً 900 سال بعد آئن سٹائن کے ذہن میں ایک خیال آیا جس کو وہ ”میری زندگی کی سب سے خوش کن سوچ“ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے گھر کی چھت سے گرتے ہوئے ایک ایسے شخص کا تصور کیا جو اپنے اپ کو بے وزن محسوس کرے گا، جیسے زمین سے بہت دور خلا میں کشش ثقل کے بغیر تیر رہا ہو۔ یہ خوش کن سوچ آخر کار آئن سٹائن کو اپنا نظریہ اضافیت وضع کرنے کی طرف لے گئی جس نے جگہ اور وقت کے بارے میں ہمارے تصور کو انتہائی ڈرامائی انداز میں بدل دیا۔
فلسفہ کی تاریخ میں ابن سینا کی سب سے بڑی اور مشہور تحقیق خدا کے وجود کی دلیل ہے۔ خدا کے وجود کو منطقی طور پر ثابت کرنے کی ایسی بہت سی کوششوں میں ابن سینا کا ثبوت غالباً قرون وسطیٰ کی سب سے زیادہ اثر انگیز اور دلچسپ کوشش ہے۔ عربی روایت میں اسے برہان الصدیقین، یعنی سچ کی دلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ابن سینا کی پیش کردہ سچ کی دلیل کو قرون وسطی کے مفکرین، مسلم اور غیر مسلم، سب نے جوش و خروش سے قبول کیا۔ قرون وسطی کے دوران، خدا کے وجود کا یہ ثبوت کئی مرتبہ دہرایا گیا، اور بعض اوقات دوسرے فلسفیوں نے اس کو ترمیم کے ساتھ پیش کیا۔ اس ثبوت کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ خدا پر لوگوں کے یقین سے کافی مطابقت رکھتا ہے۔
ابن سینا کے استدلال کو سمجھنے کے لیے ہم سب سے پہلے ایک اہم اور بنیادی فلسفیانہ سوال پر غور کرتے ہیں۔
کیا کوئی اچھی اور قابل یقین وجہ ہے کہ اس کائنات میں کچھ بھی موجود کیوں ہے؟
ہم کیوں موجود ہیں اور ہمارے ارد گرد کائنات کیوں موجود ہے؟
ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ کچھ بھی نہ ہوتا۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم ہیں اور ہمارے اردگرد یہ کائنات ہے؟
کائنات کے آغاز اور ارتقا کے بارے میں ہمارے تمام سائنسی علم کے باوجود یہ سوال اب بھی اہم سوالات ہیں۔ ابن سینا سمیت بہت سے مفکرین کا خیال تھا کہ خدا کا وجود کائنات کی وجہ فراہم کرتا ہے۔ آخر کار خدا کے علاوہ ہر چیز اس کی وجہ سے موجود ہوگی۔
خدا کیوں موجود ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ درختوں، سیاروں اور ستاروں جیسی تمام اشیاء کے برعکس، یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا کا وجود نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں خدا کا وجود ضروری ہے اور درحقیقت خدا ہی واحد ضروری ہستی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ابن سینا کا طرز فکر ہے۔
ابن سینا کا استدلال کافی نفیس ہے اور میں یہاں صرف ایک سادہ انداز میں پیش کرتا ہوں۔
سب سے پہلے، ابن سینا، الفارابی کی پیروی کرتے ہوئے، جوہر اور وجود میں فرق بیان کرتے ہیں۔ جوہر کچھ مخصوص خصوصیات کی نمائندگی کرتا ہے۔ مخصوص جوہر والی اشیاء یا تو موجود ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر، مثلث کا جوہر یہ ہے کہ اس کی تین اطراف ہوتی ہیں۔ ایسی اشیاء یا تو موجود ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ تاہم، ایسی چیزیں بھی ہو سکتی ہیں جن کا جوہر ان کے وجود کو روکتا ہو۔ ایک مثال گول مربع ہے۔ ایسا جوہر وجود سے خارج ہے۔
پھر ابن سینا دو قسم کی اشیاء کو بیان کرتے ہیں، ایسی اشیاء جن کا انحصار کسی اور چیز پر ہو اور ایسی اشیاء جن کا وجود ضروری ہو۔ پہلی قسم کی اشیاء کی موجودگی نہ تو بالکل ضروری ہے اور نہ ہی بالکل غیر ضروری۔ ایسی اشیاء بعض حالات میں موجود ہو سکتی ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کی اشیاء کا وجود ضروری ہے۔
ایک ایسی چیز جس کا جوہر اسے وجود میں لانے کی اجازت دیتا ہے، یا تو موجود ہے یا موجود نہیں ہے۔ اگر یہ موجود ہے، تو اس کا وجود کسی اور وجہ پر منحصر ہے۔ یہ وجہ بذات خود کسی اور وجہ پر منحصر ہوگی۔ اسباب کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، میرے وجود کا سبب میری ماں تھیں، جو کہ میری نانی کی وجہ سے وجود میں آئی تھیں، اور وہ میری پر نانی کی وجہ سے۔ اسباب کا یہ سلسلہ ازل سے جاری رہ سکتا ہے۔ اس ترتیب میں ہر چیز کی موجودگی کا کوئی سبب ہے۔ اگر کائنات ازل سے موجود نہ ہو تو مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں یہ وجہ کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ ابن سینا البتہ الکندی کے برعکس ایک ازلی کائنات میں یقین رکھتے تھے۔
اس کے بعد ابن سینا ان تمام اشیاء کے مجموعے کو، جو کچھ اسباب کے نتیجے میں اس وقت موجود ہیں، ماضی میں موجود تھیں، اور مستقبل میں بھی موجود ہوں گی، ایک گروپ کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ دلیل دیتے ہیں کہ کائنات کی پوری تاریخ میں موجود تمام چیزوں کا یہ مجموعہ کوئی ایسی شے نہیں ہو سکتا جو کسی سبب کے نتیجے میں وجود میں آیا ہو۔ منطقی طور پر، اگر تمام چیزوں کا یہ مجموعہ کسی سبب کے نتیجے میں وجود میں آیا ہو تو اسے ان قواعد کی پابندی کرنی چاہیے جو ایسی چیز پر لاگو ہوتے ہیں، یعنی اس مجموعہ کا کوئی خارجی سبب ہونا چاہیے۔ لیکن یہ تو ممکن نہیں۔ کیونکہ اگر اس مجموعہ کا کوئی خارجی سبب ہو تو اسے اسی مجموعہ کا حصہ ہونا چاہیے، جو ممکن نہیں۔
اس مقام پر ابن سینا خدا کے وجود کے بارے میں اپنی دلیل پیش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق دو امکانات ہیں۔ پہلا امکان یہ ہے کہ پوری کائنات میں موجود تمام چیزوں کے اس مجموعہ کا کوئی سبب نہیں ہے۔ ابن سینا کا استدلال ہے کہ ایسی صورت میں پوری کائنات اپنی پوری تاریخ کے ساتھ وجود میں نہیں آ سکتی تھی۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کائنات کی پوری تاریخ میں موجود تمام چیزوں کا یہ مجموعہ بذات خود کسی خارجی سبب پر منحصر ہے۔ تاہم، اس خارجی سبب کا کوئی سبب نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس صورت میں یہ مجموعہ خود اسی مجموعہ کا ایک حصہ ہو گا، جو ایک تضاد کا باعث ہے۔
اس سے صرف ایک ہی امکان باقی رہ جاتا ہے، یعنی یہ کہ حال، ماضی، اور مستقبل میں موجود تمام چیزوں پر مشتمل کائنات کا ایک ایسا خارجی سبب ہے جس کا خود کوئی سبب نہیں۔ ابن سینا نے اس ضروری وجود یعنی واجب الوجود کی شناخت خدا کے طور پر کی ہے۔
ابن سینا کی خدا کی تلاش کا اگلا مرحلہ اس واجب الوجود یا خدا کے جوہر کو سمجھنا ہے۔ ابن سینا ثابت کرتے ہیں کہ یہ واجب الوجود وہی جوہر یا صفات رکھتا ہے جو خدا کے لیے قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد وہ واجب الوجود کی شناخت کرتے ہیں، جس کا وجود وہ عقلی دلائل سے ثابت کرتے ہیں، اور قائل کرتے ہیں کہ اس میں وہ تمام صفات ہیں جو قرآن میں خدا کے لیے بیان کی گئی ہیں۔
خدا کی صفات، جیسا کہ قرآن میں بیان کی گئی ہیں، یہ ہیں۔ خدا واحد ہے، جو کسی مادی چیز سے نہیں بنا۔ اور جو ابدی ہے۔ یہ توحید کا اسلامی تصور ہے۔ ابن سینا منطقی دلائل کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ واجب الوجود میں بھی یہی صفات ہیں۔
وحدانیت یا انفرادیت کے جوہر کو قائم کرنے کے لیے ابن سینا تضاد سے ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ یہ فرض کر کے شروع کرتے ہیں کہ دو واجب الوجود یا خدا ہیں۔ انہیں لازمی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہونا چاہیے۔ لیکن دو خداؤں کے درمیان فرق کرنے کے لیے ’فرق‘ کی خاصیت کا ایک سبب ہونا چاہیے۔ واجب الوجود کی تعریف کے مطابق اس کی اجازت نہیں ہے، یعنی کوئی ایسا شخص جو بغیر کسی وجہ کے موجود ہو۔ ابن سینا اس طرح ایک سے زیادہ خدا کے امکان کو رد کرتے ہیں، اس طرح ابن سینا خدا کی وحدانیت کو ثابت کرتے ہیں۔
اسی طرح کے استدلال سے خدا کے سادہ ہونے کی صفت بھی قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر خدا حصوں پر مشتمل ہوتا تو یہ حصے لازمی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے۔ چونکہ فرق کی خاصیت کسی وجہ سے ہی ممکن ہے، اس طور خدا اب ایک واجب الوجود نہیں رہے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کو سادہ، واحد اور متحد ہونا چاہیے۔
تمام مادی اشیاء کا جوہر یہ ہے کہ وہ حصوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں رنگ، شکلیں اور بناوٹ جیسی صفات ہیں۔ یہ صفات یا جوہر کسی خارجی چیز سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا یا واجب الوجود میں ان صفات میں سے کوئی بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے نتیجے میں خدا کی صفات مادی ہوں گی ابن سینا کے نزدیک خدا کو غیر مادی اور خالص عقل ہونا چاہیے۔
ان عقلی اور فلسفیانہ دلال سے ابن سینا ثابت کرتے ہیں کہ واجب الوجود میں خدا کی وہ تمام صفات موجود ہیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ اس طور ان کی صداقت یا برہان الصدیقین کی دلیل مکمل ہو جاتی ہے۔
ابن سینا کا برہان الصدیقین یا سچ کا ثبوت ایک طاقتور ثبوت ہے اور اسے خدا کے وجود کی قرون وسطیٰ کی سب سے زیادہ اثر انگیز دلیل سمجھا جاتا ہے۔ یہ دلیل کافی مقبول ہوئی اور بہت سے مسلم فلسفیوں کے ساتھ ساتھ عیسائی ماہر الہیات جیسے تھامس ایکیناس اور موسیٰ میمونائڈس جیسے یہودی فلسفیوں نے اسے دہرایا۔ مسلمانوں کے لیے اس کی متاثر کن خصوصیت یہ تھی کہ یہ ایسے خدا کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس کی خوبیاں قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔
اس کی مقبولیت کے باوجود، بہت سے علماء اور فلسفیوں نے ابن سینا کے ثبوت پر تنقید بھی کی۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وحدانیت اور سادگی کے نظریے کے مطابق، خدا بنیادی طور پر کسی پیچیدگی سے خالی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا متعدد صفات کا حامل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو وہ بے سبب نہیں ہو سکتا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر خدا ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو اس کے پاس قادر مطلق (تمام طاقتور) ہونے جیسی کوئی الگ صفت نہیں ہو سکتی۔
اس طرح ابن سینا کا خدا جو اس کے سچے ہونے کے ثبوت سے نکلا ہے اس کی کوئی آزاد مرضی نہیں ہے۔ وہ ایک ہے اور سادہ ہے جو ایک سے زیادہ خوبی کا مالک نہیں ہو سکتا۔ اس پہلو پر بعد کے فلسفیوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی، ان فلسفیوں میں خاص طور پر الغزالی اور ابن رشد شامل ہیں جن پر میں بعد کے مضامین میں بحث کروں گا۔

