ایران کے جنوب سے شمال کی طرف کا سفر۔ (قسط نمبر 2 )
آج صبح جب ہم بیدار ہوئے، نماز فجر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ تھکاوٹ کی باعث ہم وقت پر اٹھ نہ سکے۔ بہر کیف ہمارے میزبان نے ہمارے لئے پر تکلف ناشتہ کا انتظام کیا، رات کو جب ہم اپنے میزبان کے پاس پہنچے، انہوں نے پہلے سے دسترخوان سجایا ہوا تھا۔ دسترخوان پر پھل، چائے، مختلف قسم کے چاکلیٹ، ڈرائی فروٹ، کچھ بسکٹ، وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ رات کے کھانے میں روٹی، مرغی اور مختلف قسم کے سلاد سے ہماری تواضع کی گئی۔
صبح شیخ ہاشم رئیسی جو کہ ہمارے فاقلاتان بالا کے میزبان تھے، نے ناشتہ میں چائے، پنیر، جیلی کے ساتھ خربوز کا بھی انتظام کیا۔ خربوز اس علاقے کے ناشتے کی مرغوب غذا مانا جاتا ہے۔ لوگ ناشتے میں باقی غذا کے علاوہ خربوز کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے مکران میں خربوز کو عام طور پر دوپہر کے کھانے کے بعد تناول کیا جاتا ہے ۔ ناشتہ کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہم نے اپنے میزبان سے اجازت چاہی، انہوں نے ہمیں ٹھہرنے پر اصرار کیا، لیکن چونکہ ہمیں شام شیراز تک پہنچنا تھا، ہم نے آگے سفر کے لئے ان سے اجازت لی۔
ہورمزگان صوبہ میں جون، جولائی میں موسم گرم اور مرطوب ہوتا ہے، لیکن بجلی کی سہولت اس علاقے میں گرمی کی تپش روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آج یعنی 7 جولائی 2023 کو 7 بجکر دس منٹ پر ہم شیراز کے لئے نکلے۔ بندر عباس کے بائی پاس سے گزرتے ہوئے حاجی آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ بندر عباس جنوبی ایران کہلاتا ہے۔ تاریخ میں بندر عباس کا پہلا ذکر 586 تا 522 قبل مسیح میں دارا کے دور میں ملتا ہے جب اس کے سپہ سالار سیلاکوس بندر عباس سے بھارت اور بحیرہ احمر کے لیے روانہ ہوئی۔ سکندر اعظم کی سلطنت فارس کے خلاف فتوحات کے وقت بھی یہ شہر ہرمرزاد کے نام سے موجود تھا۔
16 ویں صدی میں پرتگیزیوں نے خطے میں اپنا قبضہ مستحکم کیا۔ انہوں نے اس قصبے کے گرد فصیل تعمیر کی اور اسے گمرو (Gamru) کا نام دیتے ہوئے بندرگاہ کا درجہ دیا۔ شہر کا نام ایران کے صفوی بادشاہ عباس اول ”اعظم“ ( 1588 ءتا 1629 ء) کے نام پر بندر عباس رکھا گیا جنہوں نے برطانیہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں پرتگیزیوں کو بحری جنگ میں شکست دی۔ شاہ عباس نے بندر کے نام سے یہاں ایک بڑی بندرگاہ تشکیل دی۔ 1740 ء سے بندرگاہ عرب حکمرانوں کے زیر قبضہ رہی جبکہ 1780 ء سے مسقط کے حکمرانوں کے زیر تصرف آ گئی۔ مسقط اور اومان کے زوال کے دوران اس پر ایک مرتبہ پھر ایران کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔
بندر عباس درآمدات کے لیے ایران کی اہم ترین بندرگاہ ہے اور ہندوستان کے ساتھ تجارت کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح شہر اور قریبی جزائر دیکھنے کے لیے علاقے کا رخ کرتے ہیں۔
جیسے جیسے جنوب میں آگے کی سمت بڑھیں گے، آپ کو پہاڑوں میں تبدیلی محسوس ہوگی۔ جنوب کی ساحلی بلٹ صوبہ بلوچستان سے شروع ہوتا ہے، کنرک سے کھیر وغیرہ تک اور آگے زرآباد، چاشک، میناب میں پہاڑیں مٹی جیسے ہیں جسے بلوچی زبان میں شر کہتے ہیں۔ جو ہمارے ساحلی بلٹ خاص کر گنز اور پشکان کے راستے میں پائے جاتے ہیں، ایران میں بریس سے جب چابہار کی جانب جاتے ہیں آپ کو ایسے پہاڑی سلسلے ملتے ہیں۔ ان پہاڑوں کو فارسی زبان میں مریخی پہاڑ کہتے ہیں۔
بقول کچھ لوگوں کے سیارہ مریخ کے پہاڑی ایسے ہی ہیں۔ یہ مریخی پہاڑ زیادہ تر ساحلی بلٹ میں پائے جاتے ہیں، اس لئے ایران میں سیاح اس قسم کے پہاڑی سلسلے دیکھنے کے لئے بڑے شوق سے بلوچستان اور ہورمزگان کے ساحلی بلٹ کا رخ کرتے ہیں۔ مریخی پہاڑ کو منیچر پہاڑ بھی کہتے ہیں۔ مریخی پہاڑ ایرانی صوبہ ہور مزگان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن جس دلکشی اور خوبصورتی کا منظر ہمارے ساحلی بلٹ میں ہے، اور مزگان میں ان کی نظیر نہیں۔
جب ہم ایرانی بلوچستان میں گوتر سے چابہار کا رخ کرتے ہیں، پہاڑوں کے یہ سلسلے چھوٹے چھوٹے دلفریب اور پرکشش ہیں۔ چابہار کے منییچر پہاڑوں کی اونچائی 20 سے 100 میٹر تک ہے اور یہ، قدرتی مناظر میں دلچسپی رکھنے والوں اور سیاحوں کے لئے ایک پر کشش جگہ ہے اور مٹی کشرن اور خاص تلچھٹوں کی قسم اور حالت کی وجہ سے، اس کی شکلیں مریخ کی ؤبڑپن کی طرح ہیں۔ تلچھٹیں ریت اور مٹی کے ساتھ ساتھ کر سٹیشین اور مچھلی کی باقیات ان پہاڑوں کی تلچھٹ کے اہم اجزاء ہیں ؛ یہ پہاڑ چابہار کی حیرت انگیز نظاروں میں سے ایک ہیں جو سرسبز بہار کے موسم میں اس خطے کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیتے ہیں۔
چابہار کے مریخی پہاڑوں اور اس علاقے کی حیرت انگیز قدرتی مناظر کو دیکھنے کے لئے چابہار سے گواتر تک 85 کلومیٹر کے فاصلے کو طے کرنا ہو گا اور پھر آپ بیٹھ کر ان خوبصورت منیچر اور خاص پہاڑوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
چابہار کے چھوٹے پہاڑوں کو سیاحت کے میدان میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے، فطرت سے محبت کرنے والوں کو ان قدرتی تحفوں کو دیکھنے کے لئے عید نوروز کے تہواروں کے دنوں میں چابہار کے ساحلی بلٹ کا رخ کرتے ہوئے ہر سال دیکھا جاتا ہے، ان سیاحوں کی جوش خروش دیدنی ہوتی ہے۔ مریخی پہاڑ چابہار سے گوتر تک پہلے ہوئے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے مقابلے میں ہورمزگان صوبے کی سڑکیں جنوب میں میناب کو جاتے ہوئے بہتر اور کشادہ ہیں۔ سڑک بڑے اور دو طرفہ ہیں۔ ہر سڑک پر تین سے چار ٹریک بنے ہوئے ہیں۔ ایران میں سڑک کے کناروں پر کیمرے نسب ہیں۔ جو تیز رفتار گاڑیوں کی رفتار کو مانیٹر کرتے ہیں۔ اگر کسی گاڑی کی رفتار مقررہ حد سے تجاوز کرے اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔ یہ جرمانہ خود کار سسٹم کے تحت ہوتا ہے اور گاڑی کے مالک کو جرمانے کا پیغام پہنچ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جا بجا ایرانی ٹریفک پولیس گشت کرتی نظر آتی ہے، تاکہ ٹریفک کے قوانین کی پابندی ہو سکے۔
جیسے جیسے آپ جنوب سے شمال کی جانب بڑھتے جاتے ہیں، پہاڑ اپنے ہیبت ترکیبی بدلتی جاتی ہے، حاجی آباد سے آگے پہاڑ ریت کے بڑے بڑے ٹیلے محسوس ہوتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں سبزہ نہیں ہوتا۔ جیسے ہم اور جنوب سے شمال کی طرف بڑھتے جاتے ہیں پہاڑی سلسلے ایک اور شکل اختیار کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ سخت پتھر کے شکل کے ہوتے ہیں۔ شیراز کی جانب جاتے ہوئے راستے میں روڑ کی دونوں جانب کھجوروں کے باغات دور دور تک نظر آتے ہیں۔ کھجوروں کے اس جھنڈ کو بلوچی میں مچکدگ کہتے ہیں۔
مچکدگ کی کافی تعداد ہم نے بندر عباس اور شیراز کے درمیان سفر کرتے ہوئے دیکھی۔ اس کے علاوہ گندم کے فصل بھی راستے بھر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ راستے میں جابجا مختلف قسم کے سبزہ بھی ہم نے دیکھے۔ جس میں، پستہ، انار، خیار وغیرہ شامل ہیں۔ ہم سفر کرتے ہوئے اب تک ایران کے تین صوبوں میں آچکے ہیں۔ ہم نے اپنے سفر کا آغاز بلوچستان سے کیا تھا۔
بلوچستان سے ہوتے ہوئے صوبہ ہورمزگان، اور ہورمزگان سے صوبہ فارس میں آئے ہیں۔ اس وقت صوبہ فارس کے دارالحکومت شیراز میں ہمارا قیام ہے۔ شیراز ایران کا آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا شہر ہے۔ اس شہر کا موسم معتدل ہے۔ شیراز شہر دنیا کے پرانے ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ شیراز شہر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ متعدد بار اس شہر کو ایرانی سلطنت کا دارالحکومت درجہ دیا گیا۔ ہزاروں سیاح ہر سال اس شہر میں تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ اس شہر میں مشہور تاریخی مقامات ہیں۔ یہ شہر آج کے دور میں بھی اپنے تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
شیراز کے مضافات میں سبزہ ہی سبزہ ہے۔ لیکن جیسے ہی آپ شیراز میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں، میلوں تک پہلی ہوئی آپ کو نمکیات کے میدان ملیں گے۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اس قسم کی نمکیات کے میدان میں نے دیکھے۔ یہ نمک کے میدان حد نگاہ تک پھیلے ہوئے ہیں اور باعث حیرت ہیں۔
حاجی آباد سے، دراب شہر اور فسا شہر، سے ہوتے ہوئے ہم شام کو شیراز پہنچے۔ شیراز شہر کے سڑک کے دونوں جانب سبزہ ہی سبزہ ہے۔ ہم نے بندر عباس سے شیراز آتے ہوئے تقریباً 650 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ تھا اور تھکاوٹ سے چور ہوچکے تھے۔ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ رہائش کے لئے جگہ لیں گے۔ اور تھوڑی دیر آرام کریں گے۔
چنانچہ ہم نے ایک گھر دو دن کے لئے کرایہ پر حاصل کیا۔ یہ گھر دو کمروں، ایک ہال، دو باتھ روم، ایک اوپن کچن پر مشتمل تھا۔ اس گھر کا کرایہ ایک دن اور رات کے لئے پاکستانی روپے میں ساڑھے چھ ہزار تھا۔ جو کہ بہت ہی مناسب تھا۔ شیراز میں فروٹ کے باغات اچھے خاصے ہیں، اس لئے فروٹ کی قیمت بہت ہی کم ہیں۔ ایران میں پاکستان کے مقابلے میں تمام اجناس ارزاں نرخوں میں دستیاب ہیں۔ شیراز میں ایک نان بائی سے روٹی لینے گئے، انہوں نے استفسار کیا کہ کتنے کلو گرام کی روٹی دوں۔ میرے ساتھی نے انہیں وزن کے حساب سے روٹی دینے کا آرڈر دیا۔ ہم نے ایک کلو روٹی اندازاً 7 روپے میں خریدی۔ لوگ بھی وزن کے پیمانے سے روٹی خرید رہے تھے، جو میرے لئے حیرت کا باعث تھا۔
گھر میں جاکر ہم نے خود کھانا بنا کر کھایا۔ دو دن سے ہم لوگ ایرانی کھانا کھا رہے تھے۔ ایرانی کھانوں میں، مصالحہ برائے نام ہوتا ہے۔ ہم اس کے عادی نہیں۔ کھانا کھا کر ہم آرام کے لئے اپنے بستروں میں گھس گئے۔ سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی نیند کی وادی میں چلے گئے۔


