گلگت بلتستان میں اٹھنے والی عوامی حقوق کی تحریک
گلگت بلتستان میں اس وقت عوامی بنیادی حقوق کے لئے اٹھنے والی تحریک آئے روز مضبوط اور مستحکم ہوتی جا رہی ہے اور اس تحریک نے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع، تحصیلوں اور گاؤں سطح پر زور پکڑنا شروع کیا ہے۔ گزشتہ روز گلگت بلتستان کے دوردراز علاقہ یاسین کے ایک گاؤں سندھی سے ہزاروں کی تعداد میں ریلی کی صورت میں عوام کا سمندر اس بات کی دلیل ہے کہ عوام نے حکمرانوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کی طرف سے عوام پر گندم قیمتوں میں اضافہ اور کوٹے میں کٹوتی جیسے غلط فیصلوں کو مکمل مسترد کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بلتستان کے ہیڈ کوارٹر سکردو میں بیس دنوں سے روزانہ یادگار شہداء پر دھرنا جاری ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام روزانہ شرکت کر رہے ہیں جبکہ بلتستان کے دور دراز علاقے کھرمنگ، گانچھے، خپلو میں ہزاروں کی تعداد میں عوام احتجاج کرتے نظر آرہے ہیں اور گلگت گھڑی باغ میں بھی روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ دیامر کے علاقے چلاس، تانگیر، داریل اور استور میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام کا جم غفیر روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتی ہے۔
ایک طرف عوام اس سخت ترین سردی میں روزانہ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف اس خطے کی لولی لنگڑی اسمبلی کے نام نہاد عوامی نمائندے عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے بنی گالہ، گھڑی خدا بخش اور رائے ونڈ کی نمائندگی کرنے میں مصروف ہے اور اپنے اسلام آباد کے آقاؤں کے حکم پر غریب عوام پر گندم قیمتوں میں اضافے کا بم گرا کر اسلام آباد میں سردیاں گزار رہے ہیں اور عیاشیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس دوران عوام کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو رہی ہے کہ یہ نمائندے اپنے حلقے کے عوام کی بنیادی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اور اس اسمبلی کے پاس وہ اختیارات نہیں ہیں کہ وہ عوامی حقوق کی تحفظ کرسکے بلکہ یہ تو عوامی مفادات کو کچلنے کے لئے نوکری کر رہے ہیں، اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو نام نہاد نمائندہ اپنے آقاؤں کی صحیح نمائندگی کرے گا اس کو وزارت، مراعات اور تنخواہوں میں مزید اضافے کے ساتھ تحفظ بھی ملے گا۔
گلگت بلتستان کے عوام کا صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا جا رہا ہے اور ملک کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں سے بھی اعتبار اٹھ چکا ہے کیونکہ پبلک جان چکی ہے کہ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ گلگت بلتستان کو چلانے والے منتخب اسمبلی اور منتخب نمائندے نہیں ہیں بلکہ یہ تو عوام کے مفادات کے برعکس کرائے پر کام کرنے والے لوگ ہیں اور چلانے والے اصل میں ادارے ہیں۔
ان کو چاہیے کہ وہ عوام کی بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔ گندم کا مسئلہ ان اداروں اور ریاست کے سامنے عوام کا ایک معمولی مسئلہ ہے جس کو حل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ گندم قیمتوں میں اضافہ تو پہلے ہی ہو چکا تھا کیونکہ جو بوری 1100 کو عوام کو دستیاب تھی وہ 2200 میں عوام خرید رہی ہے اب اس کو 22 سو سے بڑھا کر 36 سو کرنا عوام کو بھوکا مارنے کی سازش ہے اور اس سازش میں عوامی نمائندوں سمیت ہر وہ شخص شامل ہے جو ان قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کی طرف داری کر رہا ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے اور ویسے بھی گلگت بلتستان کی بہتر کفالت کی ذمہ داری ریاست پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق لی ہوئی ہے۔


