احمد بشیر کے تعاقب میں
احمد بشیر صاحب سے میرا پہلا تعارف ممتاز مفتی نے کروایا تھا۔ مفتی جی کے علی پور ایلی سے لے کر الکھ نگر تک کے سفر میں احمد بشیر ان کے ساتھ ساتھ تھے۔ میں نے احمد بشیر کو نہیں پڑھا لیکن مفتی جی کی تحریروں میں ان کا تذکرہ ایسے ہی تھا جیسے وہ ہمارے ساتھ ساتھ ہوں۔ میرے ذہن میں ان کا بہت خوبصورت سا عکس بن گیا تھا۔ ایک ایسے نوجوان کا عکس جو روایتی معاشرتی بندشوں کو نہ مانتا ہو۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ ممتاز مفتی ہوں یا ابن انشاء یا پھر احمد بشیر یا اشفاق احمد یہ سارے دوست ہی روایتی معاشرتی بندشوں کے خلاف تھے بس ہر ایک کا مزاحمت کا انداز مختلف تھا۔
جہاں تک میں سمجھی ہوں احمد بشیر سادہ سے محبت کرنے والے انسان تھے لیکن غلط بات کو ڈنکے کی چوٹ پر غلط کہتے تھے جس کے باعث وہ اکثر حکام بالا کے عتاب کا نشانہ بنتے رہتے تھے۔ میرے نظر میں وہ ایک ہیرو تھے اور ہیرو تاریخ کے صفحوں پر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ احمد بشیر سے کچھ مزید تعارف ایک شاندار تقریب نے کروا دیا۔ نیلم احمد بشیر جنہیں ہم سب نیلم آپا کہتے ہیں۔ احمد بشیر سر کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ میں احمد بشر سر سے ان کی زندگی میں تو نہیں ملی لیکن نیلم آپا سے ایک قلبی تعلق سا بن گیا۔
نیلم آپا احمد بشیر کا وہی خوبصورت عکس ہیں جو مفتی جی کی تحریریں پڑھ کر میرے ذہن میں بن گیا تھا۔ اتنی معصوم، سادہ اور پیاری شخصیت ہیں کہ ان پر تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ خیر یہ تقریب ہر لحاظ سے شاندار تھی۔ یہاں نیلم آپا کے علاوہ اسماء عباس اور دیگر مقررین کی باتوں نے ماحول گرمائے رکھا۔ پنا جی کے رقص نے محفل کو مزید رنگین بنا دیا۔ احمد بشیر سر مرے نہیں وہ زندہ ہیں اور یہ تقریب ایک زندہ شخص کی سالگرہ کی تقریب تھی۔ تقریب کے اختتام پر جب لوگ ہال سے باہر جا رہے تھے تو میں نے یونہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو یوں لگا احمد بشیر سر مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ رہے ہوں اور اس لمحے بے اختیار میرے دل نے گواہی دی کہ سچ کو موت کبھی نہیں آتی۔ جھوٹ، دھوکا، فریب سب ہی کچھ مر جاتا ہے لیکن سچائی تاریخ کے صفحوں پر ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔


