انا کی بیڑیاں


یونیورسٹی میں عمومی طور پہ دوستوں کے ہاں بے تکلفی کی فضا ہوتی ہے۔ دوستوں کی بے باک محافل میں شاذ و نادر ہی کسی کو اس کے اصل نام سے پکارا جاتا ہے۔ زیادہ تر عرفی نام (نک نیم) ان کی برادریوں اور قبیلوں کے نام پہ رکھے جاتے ہیں یا پھر ان کی کسی خاص عادت پہ۔ ایسا ہی یونیورسٹی میں ایک دوست ہوا کرتا تھا جس کو ہم پیار سے ’بھولا‘ کہتے تھے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ اس کا ’بھولے پہلوان‘ جیسا ڈیل ڈول تھا۔ اور خوراک بھی کسی طور ’بھولے پہلوان‘ اور ’جھارے پہلوان‘ سے کم نہ تھی۔

صبح ناشتے میں تین عدد ’ولاں‘ والے پراٹھے اور کم و بیش اتنے ہی جگ لسی کے ڈکار جانے کے بعد بھی اسے گیارہ بجے بھوک لگ جاتی تھی۔ اور ہنسی اس بات پہ آتی تھی جب وہ اپنے بھولپن میں کہا کرتا تھا کہ دل ہی نہیں کرتا کچھ کھانے کو ، زبردستی کھاتا ہوں کہ زندہ بھی رہنا ہے۔ اس بھولے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ زندہ رہنے کے لئے نہیں کھاتا تھا بلکہ وہ تو زندہ ہی کھانے کے لئے تھا۔

کچھ عرصہ بعد یہ عقدہ کھلا کہ بھولا صرف جسامت اور خوش خوراکی کی وجہ سے بھولا نہیں ہے بلکہ وہ تو ذہنی طور پہ بھی بھولا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سکھوں کے محض چند ایک ہی لطیفے ہیں باقی تو سب حقیقت ہی بیان کی گئی ہوتی ہے۔ انہی کے نقش قدم پہ بھولے نے بھی کسی بھی لطیفے کو حقیقت بنانے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جتنا وہ بھاری بھرکم تھا اس کے لئے لفظ بھی ویسا ہی بھاری ہونا چاہیے کہ اس نے کسی بھی لطیفے کو حقیقت بنانے میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ہمارے ’بھولے‘ میں اور ابرار الحق کے ’بھٹی‘ میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ ایک دن ڈیم اور اس سے منسلک نظام پہ بات ہو رہی تھی۔ ساری بحث سننے کے بعد کہنے لگا اب سمجھ آئی کہ پانی سے بجلی تو یہ حکومتی لوگ پہلے ہی نکال لیتے ہیں، ہمارے حصے میں تو نرا پھوک ہی آتا ہے۔ اس سے جسم میں جان کیسے آئے گی۔

اس سارے افسانہ جہاں میں پانی ہی تو حقیقت کا مظہر ہے۔ کرہ ارض پہ چند چیزیں انتہائی ناگزیر ہیں جن میں پانی بھی شامل ہے۔ جیسے انسانی جسم میں اعضائے رئیسہ ہوتے ہیں کہ جن کے بغیر زندگی نہیں چل سکتی بالکل ایسی ہی حیثیت پانی کی اس کرہ ارض پہ ہے۔ انسانی جسم کی نا صرف سب سے چھوٹی اکائی خلیہ پانی پہ مشتمل ہے بلکہ انسانی زندگی کو آگے بڑھانے والا نطفہ بھی زیادہ تر پانی پہ ہی مشتمل ہوتا ہے۔ پانی اور روشنی دونوں کی تشکیل عجب ہے۔ یہ دونوں بیک وقت انتہائی مضبوط اور لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ بے انتہا لطیف بھی ہوتے ہیں۔ منشور، روشنی کے پھیلاؤ اور ہائیڈرولکس کے قوانین سے ان کے بارے مزید جانا جا سکتا ہے۔

عمومی طور پہ پانی ہمیشہ بلندی سے پستی کا سفر کرتا ہے۔ پانی کے ظاہری اور خفی بہت سے خواص ہیں۔ لیکن اس کی یہ ایک خوبی نہایت دلچسپ اور سبق آموز ہے کہ یہ تب تک اپنا سفر جاری رکھتا ہے جب تک یہ اپنے سے کسی بڑے ذخیرے میں شامل نہ ہو جائے یا تب تک کہ پستی اور بلندی دونوں میں اس کی سطح ایک سی نہ ہو جائے۔ پانی (فیض و برکت) کی خواہش اور حسرت کسے نہیں؟ لیکن پانی کی ایک سی سطح پانے کے لئے بلندی (دیون ہار) کے مقابلے میں (انا کو ) پست ہونا پڑے گا۔ خود (انا) کو نیچے رکھنا ہو گا۔ ڈھلوان کی سی کیفیت بنائے رکھنی ہو گی۔ پست ہونا، نیچے رہنا ہی اصل میں عاجزی ہے۔ یہی عاجزی اور انکساری پانی (فیض و برکت) کو لانے میں مدد دے گی۔ کیونکہ عاجز کا کاسہ ہمیشہ بھرا ہوا ہی ملتا ہے۔

خود کو پستی میں رکھنا نہایت تھکا دینے والا، بہت پیچیدہ اور بے حد جوکھم کا کام ہے۔ جیسے خود کو ذبح کرنا مشکل ہے ویسے ہی اپنی انا کو خود سے ختم کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ فی زمانہ جدید دور کے تقاضوں اور سائنسی ترقی نے کسی بھی فن میں مہارت کے لئے مشق کے ساتھ ساتھ استاد کی راہنمائی کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے۔ جو اپنی انا کے خول اور اس کی بیڑیوں سے نکل چکے ہوں ان کی صحبت یقیناً انا کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہوگی اور فقط ’اپنے رب‘ سے بڑھتا ہوا تعلق ہی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

دور حاضر کی منفرد شاعرہ سیدہ منزہ نے خوب کہا کہ:
عشق پہنچا جو خانقاہوں پر
مست ہو کر انا گنوا آیا

Facebook Comments HS