حرکت جوہری ایک فرسودہ خیال ہے!
دنیا میں ہر شے ایک دوسرے کے لحاظ سے مکانی اعتبار سے اپنی جگہ تبدیل کرتی نظر آتی ہے۔ کسی رات کا کھلا آسمان جس میں شہروں کی روشنیاں اور آلودگی نہ ہو، رنگ برنگ اور بے بہا اجرام فلکی سے مزین نظر آتا ہے۔ مختلف کہکشائیں ہیں جن میں اربوں ستارے اپنی اپنی کہکشاؤں کے مرکز جنہیں galactic center کہا جاتا ہے، کے اردگرد حرکت کر رہے ہیں۔ یونہی کچھ ستارے ایسے ہیں جن کے گرد سیارے planets مداروں میں حرکت کر رہے ہیں جن میں سے ایک ہمارا نظام شمسی بھی ہے۔ ہم اس نظام شمسی کے تیسرے سیارے یعنی زمین کے باسی ہیں اور ہماری زمین ایک سال میں اپنا ایک چکر سورج کے گرد پورا کرتی ہے جبکہ اپنے محور کے گرد اس کی گردش یعنی سپن spin کی حرکت چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے جس سے دن رات بنتے ہیں۔
آسمانی اجسام کی زیادہ تر حرکت اگرچہ مداروی orbital سپن spin حرکت ہے، یعنی وہ ایک مرکزی بھاری جسم کے گرد گھومتے ہیں اور خود اپنے ہی مرکز کے گرد بھی گھومتے ہیں۔ تاہم اگر اچھی دوربین کا استعمال کریں تو ہمیں بین النجوم گیسی مادوں intergalactic gaseous matter کے بادل بھی دکھائی دیں گے۔ یہ وہ گیسی مادے ہیں جو ستاروں کے بننے اور بکھرنے اور شہابیوں کے آپسی ٹکراؤ سے بنتے ہیں اور آسمان میں موجود بکثرت پائے جانے والے بڑے ستاروں کی فضا میں کشش ثقل کے باعث آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔
اب آپ اپنے اردگرد کی دنیا کو دیکھیں۔ نباتات میں پودوں کا پھلنا پھولنا، جمادات میں پہاڑوں سے پتھروں کا گرنا، صحراؤں میں ریت کے ٹیلے بننا اور شہروں کی گرد آلود فضا میں دھوئیں اور مٹی کے ذرات کا ہوا کے دباؤ کے باعث اوپر اٹھنا، سمندروں اور دریاؤں میں پانی کا بہنا اور بسا اوقات سیلابی ریلے اور سونامی کی شکل اختیار کر لینا، عالم حیوانات میں آبی حیات کا پانیوں پر تیرنا، خشکی پر ہزاروں انواع کے چرند پرند اور انسانوں کی ریل پیل سب حرکت ہی کے نمونے ہیں۔
سائنس نے جس طرح ہماری زندگیوں میں ذرائع آمد و رفت یعنی ریل گاڑی، ہوائی جہاز، موٹر کاریں اور حتٰی خلائی شٹل، یونہی صنعت و حرفت میں کپڑے، خوراک، گھریلو سامان، کتابیں، کمپیوٹر، موبائل فون، وائرلیس ٹی وی، ایل سی ڈی لائٹس، لاؤڈ سپیکر اور نجانے کیسی کیسی ٹیکنالوجی مہیا کی تو ہے یہ سب کا سب دراصل سائنس کے تصور حرکت ہی کی دین ہے۔ یہ تصور حرکت ہی ہے جس کی بدولت ہمیں مشرق و مغرب میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ قوموں کا فرق نظر آتا ہے۔
انجن کی دریافت سے لے کر جدید ترین انفارمیشن کی ٹیکنالوجی جس میں مصنوعی سیٹلائٹ کا استعمال ہوتا ہے، جدید دنیا کی تشکیل میں سائنس کا یہ تصور حرکت ہی پنہاں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں کا تصور حرکت درست تھا، انہوں نے ہی دنیا میں ترقی کی ہے اور جو قدیم یا ابتدائی دور کے انسان کے فلسفے اور روحانی نظریات کی بنیاد پر حرکت کے تصورات قائم کرتے رہے، ان کی سینکڑوں تصنیفات اور بلند بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
ان کی کتابیں تاریخی ادب کا حصہ بن گئیں اور دنیا میں کوئی ایسا بڑا نتیجہ نہ پیدا کر سکیں کہ جسے جدید دنیا میں فخریہ انداز میں پیش کیا جائے بلکہ ان کے فرسودہ خیالات کی بدولت پوری کی پوری تہذیب زوال کا شکار ہو گئی۔ افسوس ہے کہ آج بھی ہمارے مدرسوں میں ان قدیم اور فرسودہ خیالات کو نئے دور کے علوم کے مقابلے میں پڑھایا جا رہا ہے۔ ہمارا طالبعلم ایک طوطے کی مانند ان ہزاروں صفحات کی بھاری بھرکم کتابوں کے پیچیدہ اور دقیق موضوعات اور اصطلاحات کو ازبر کرنے کے بعد مدرسوں میں سے نکلتا ہے تو وہ علم کی دنیا میں ایک بونے سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کے اسلاف کا یہ ورثہ، روزی روٹی کمانے کے قابل تک نہیں چھوڑتا کیونکہ جدید دور کی مہارتوں کے لئے بنیادی سائنس کا فہم نہایت لازمی ہے اور یہ وہ سائنسی فہم ہے جس کا پہلا قاعدہ ہی تصور حرکت کی درست تفہیم ہے!
ہم نے اپنے گزشتہ تین مضامین بنام ”نظری تصوف ایک تعارف“ میں دیکھا تھا کہ کس طرح مسلم دنیا میں یونانیوں اور مصری و ہندی فلسفوں نے نویں صدی عیسوی سے تراجم کے ذریعے اپنا تعارف کروایا اور یوں مسلم دنیا میں علم کے سنہری دور کا آغاز ہوا۔ لیکن اس سے پہلے کہ مسلم سماج میں عقلیت پسندی کو جڑ پکڑنے کا موقع ملتا اور وہ تیز رفتاری سے مشاہداتی اور تجرباتی سائنس کی طرف بڑھتے رہتے، ہمیں نظری تصوف جیسے جہل مرکب نے گھیرا لیا اور ہمارا سنہری دور اپنے تاریک عہد کی جانب بڑھ گیا۔ مسلم تاریک عہد کی جڑیں تو بہرحال عقلیت دشمن فلسفوں سے مضبوط ہو رہی تھیں مگر اس کا باقاعدہ آغاز غزالی نے کیا۔ ہم نے دیکھا کہ کیسے غزالی نے حواس خمسہ اور عقل کو علم کے ناقابل اعتبار ذرائع قرار دیتے ہوئے کہ کشف و الہام کو یقینی علم کا ماخذ قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت مسلم سماج اپنے روشن دور سے تاریک عہد میں داخل ہو رہا تھا، اسی دوران اہل مغرب میں مسلمان سائنسدانوں کے کام کو سمجھنے کی جستجو پیدا ہو رہی تھی اور ان کے کام کو مغربی زبانوں میں منتقل کرنے کا کام تیز ہو رہا تھا اور بعینہ جس وقت مغربی دنیا میں جدید سائنس اور بطور خاص کپلر، کوپرنیکس، گیلییو وغیرہ کے ہاتھوں جدید تصور حرکت کی بنیاد رکھی گئی، اسی دوران مسلم تاریک دور بھی اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔
یاد رہے کہ مغرب کا تاریک عہد تیسری صدی عیسوی کے یونانی فلسفی فلوطین Plotinus سے شروع ہوا تھا جو کہ سولہویں صدی عیسوی میں مغربی نشاۃ ثانیہ پر ختم ہو گیا۔ ادھر مغرب نے اپنے تصور حرکت کو فلوطین سے آزاد کراتے ہوئے نیوٹن کے قوانین کی شکل میں ڈھال کر دنیا کو تبدیل کرنا شروع کیا، اور ادھر مسلم دنیا میں اسی فلوطین کے نظریات، ابن عربی اور شہاب الدین سہروردی و ابن سینا وغیرہ سے ہوتے ہوئے ملا صدرا کے نظریہ حرکت جوہری میں سما گئے۔
ملا صدرا کا نظریہ حرکت جوہری، مسلم سماج کے تاریک دور کا آخری کیل ہے۔ اس کے بعد سے مسلم دنیا کبھی سائنس کی طرف واپس نہیں جا سکی۔ مسلم سماج میں چونکہ مغربی نشاۃ ثانیہ جیسا واقعہ رونما نہیں ہوا اور نہ ہماری علمیات و دیگر آرٹ و فنون میں کوئی انقلابی پیش قدمی ہو سکی، اس لیے ہم فطری طریقے سے اس تاریک عہد سے باہر نہیں نکلے۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ مغربی قوموں نے جدید سائنس میں ترقی کی بنا پر پوری دنیا میں کالونیل ازم کا آغاز کیا تو دنیا کی دیگر قوموں کی طرح مسلم سماج میں بھی رد عمل کی فضا پیدا ہوئی۔ اگرچہ یہ ردعمل مغربی استعماریت کے خلاف تھا اور اس کا بنیادی ہدف استعمار سے آزادی حاصل کرنا تھا مگر اس نے پہلے سے علمی تاریکی میں ڈوبی مسلم تہذیب کو مزید اپنے ان اسلاف سے قریب کر دیا (بالکل جیسے ایک بچہ کسی انجانے خوف کی بنا پر اپنی ماں سے لپٹ جاتا ہے ) ۔ ہمارے بہترین دماغ، کالونیل ازم کے خلاف اپنے تہذیبی ماضی اور اسلاف کے منہج کی حفاظت کرتے کرتے تہذیبی نرگسیت کا شکار ہو گئے۔ یوں مغربی استعمار نے پہلے سے موجود علمی بحران کو مزید گہرا کیا اور اس کے اثرات ابھی تلک دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ دنیا پوسٹ کالونیل ازم عہد میں داخل ہو چکی ہے۔
اس نئے عہد میں دنیا بھر کی قوموں میں چونکہ مقامیت کو فروغ مل رہا ہے اور ہمارا مسلم نوجوان اپنے اسلاف کی جانب واپس لوٹنا چاہتا ہے تو وہ اس جدوجہد میں پھر ایک بڑی غلطی کا شکار ہو رہا ہے۔ وہ مغربی تسلط کے خلاف جنگ اور مقامیت کے فروغ کے نام پر جدید سائنس سے بھی جنگ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ سائنس شاید مغربی پراپیگنڈہ کا حصہ ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جدید سائنس کا مقابلہ مقامی علمیات سے کر کے دنیا میں ترقی کر لے گا۔
مگر وہ بھول رہا ہے کہ ہماری مقامی علمیات تو قدیم یونانی فلسفیوں کے فرسودہ خیالات سے آگے ہی نہیں بڑھ سکی۔ وہ گیلیلیو، نیوٹن اور آئن سٹائن کے مقابلے میں ملا صدرا کے فلسفہ حکمت متعالیہ سے کام لینا چاہتا ہے مگر ملا صدرا کا تو اپنا تصور حرکت جوہری، اڑھائی ہزار سال پہلے کے ایک یونانی فلسفی ہیراقلیطس سے لیا گیا ہے۔
ہمیں یہ جان لینا ہو گا کہ حرکت کا درست تصور جدید سائنس میں ہی ملتا ہے اور سائنس ہی حرکت کوسمجھ کر اس سے فائدہ اٹھا سکی ہے۔ حرکت کو مابعدالطبیعات کا موضوع نہیں سمجھنا چاہیے اور ہمیں ملا صدرا وغیرہ کے حرکت جوہری جیسے فرسودہ خیالات سے جان چھڑا لینی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ جو خیالات صدیوں پہلے رد ہوچکے ہیں انہیں اکیسویں صدی میں نہیں چلایا جا سکتا۔ بقول جون ایلیاء
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے،
وہ لوگ ہم پر مسلط ہیں اس زمانے میں!



ہمارا نوجوان مسلم اسلاف کی طرف لوٹنے کی بجائے اگر جدید سائنس کی طرف لوٹ آئے تو شاید ہمارے ہاں بھی مغربی نشاتہ ثانیہ رونما ہو جائے، کیوں کہ لاعلمی اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنا غلط علم خطرناک ہوتا ہے ۔
علم تمام انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے کہنے والے جب علم پر ایک خاص قوم ، فکر ، تہزیب ، خطہ کا رنگ چڑھا کر نوجوانوں کو اس علم سے دور رکھتے ہیں تو انھیں اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے شرم تو آتی ہوگی کہ ہم انھیں خود کے قریب رکھتے رکھتے کسی کسی چیز سے بہت دور کر رہے ہیں۔
مسلہ ملا صدار کے نظریہ حرکت سے زیادہ ان ذہنوں کا ہے جو ہم پر آج تک علم کے نام پر ایسی ہستیوں کو مسلّط کیے ہوئے ہیں اور ہمیں جدید سائنس کے نظریہ حرکت سے دور رکھتے ہیں ایسے لوگ ہی دراصل اج نوجوان مسلم کے حقیقی علم دشمن ہیں ۔
آپ کا مضمون آج جستجو میں ایک اچھی کاوش ہے امید ہے اسے پڑھ کر ہمیں اپنے ماضی کو اور حال کو سمجھنے اور پھر ہمیں کس حقیقی علم کی شمع جلانا چاہیے کا انتخاب کرنا مزید سہل ہوگا
شکریہ