بلوچستان کا المیہ اور عام انتخابات!
بلوچستان جو پچھلے پچھتر سالوں سے نسلی تعصبات اور قبائلی عداوتوں کی جدلیات میں پھنس کر مرکزی دھارے سے دور ہٹتا گیا، اب پہلی بار وہاں کے عوام علاقائی جماعتوں اور نسلی گروہوں کی جمود پرور سیاست سے اکتا کر ملک گیر سیاسی جماعتوں کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں، قومی سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ ان سے ہم آغوش ہوتے بلوچستانی عوام کی دلجوئی کی خاطر اعداد و شمار کے گورکھ دھند سے اوپر اٹھ کر خطہ کی حقیقی ضروریات اور بلوچ سماج کے فطری تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر دستگیری کریں۔
لاریب، اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو تزویری لحاظ سے اہمیت کے حامل بلوچستان صوبہ میں ایسے صحتمند تغیرات قومی سلامتی اور معاشی خودمختیاری کے حصول میں مددگار ثابت ہونے والے ہیں اور شاید معاشی ترقی کے یہی روشن امکانات نواز لیگ جیسی ڈیویلپمنٹ اورینٹڈ پارٹی کے لئے کافی کشش کا باعث بن رہے ہیں، حالیہ الیکشن میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے علاوہ نواز لیگ جیسی ملک گیر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ شعوری وابستگی قومی سطح پہ بلوچ لیڈر شپ کے لئے کسی بڑے سیاسی کردار کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں الیکشن میں مسلم لیگ نواز قومی اسمبلی کی 16 میں سے 6 / 5 اور صوبائی اسمبلی کی 51 میں 14 / 15 نشستوں کے ساتھ بلوچستان کی بڑی پارٹی بنکر ابھرے گی، اسی طرح پیپلز پارٹی قومی کی دو، صوبائی اسمبلی کی 7 / 8، جے یو آئی قومی کی دو یا تین اور صوبائی اسمبلی کی 8 / 9 نشستیں جیت کر نواز لیگ یا پی پی پی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں صوبائی حکومت بنا سکتی ہے۔ اگرچہ خاران، مکران اور آواران ڈویژن میں عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی قومی کی دو نشستوں کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی 4 / 5 نشستیں جیت لے گی لیکن بی این مینگل سکڑ کر قومی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی 3 / 4 نشستوں تک محدود ہوتی نظر آتی ہے، اختر مینگل کوئٹہ سے اور جمہوری وطن پارٹی (بگٹی) کے شاہ زین بگٹی ڈیرہ بگٹی سے شاید قومی اسمبلی کی ایک ایک نشست نکال لیں اور قرائن بتاتے ہیں اگر مداخلت نہ ہوئی تو ڈیرہ بگٹی کی صوبائی نشست پہ جمہوری وطن پارٹی کے گہرام بگٹی، سابق وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کو شکست کا مزہ چکھا کر صوبائی اسمبلی تک پہنچ سکتے ہیں تاہم شمالی بلوچستان کے پشتون ایریا کی بڑی جماعت پختون خوا ملی عوامی پارٹی کو داخلی تضادات اور اندرونی تقسیم نے اس قدر مضمحل کر دیا کہ وہ جے یو آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بغیر محمود خان اچکزئی کے لئے کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی واحد نشست بچانے کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی دو سے زیادہ نشستیں جیتنے کے قابل نہیں رہی۔
سیاسی جوڑ توڑ کے وسیلے عثمان کاکڑ شہید کے جوان سال بیٹے خوشحال خان بھی قومی اسمبلی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح اے این پی اور ہزارہ ڈیموکریٹ پارٹی صوبائی اسمبلی کی دو دو نشستیں لینے کے علاوہ دو یا تین آزاد امیدوار بمشکل کامیاب کرا پائے گی۔ علی ہذالقیاس، بلوچستان شمال میں افغانستان اور مغرب میں ایران کے ساتھ جس طویل اور غیر محفوظ سرحد کا اشتراک رکھتا ہے، وہاں تجارت کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں۔ سنہ 2019 میں وفاقی حکومت کی ایما پر سابق گورنر امان اللہ یسن زئی نے پاک افغان اور پاک ایران سرحدات پر 18 تجارتی زون قائم کرنے کا عندیہ دیا جن میں 12 تجارتی زون افغان بارڈر جبکہ 6 ایرانی سرحد کے ساتھ بنائے جانے تھے لیکن بوجوہ اس سکیم کو التواء میں ڈال دیا گیا، انہی دنوں اس وقت کے وزیراعلی جام کمال نے قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کے درمیان واقع بادینی ٹرمینل کا افتتاح بھی کیا لیکن یہ بیل منڈیر نہ چڑھ سکی۔
حالانکہ مقامی آبادی امید لگائے بیٹھی تھی کہ ان بازاروں کی بدولت نہ صرف سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بین الاقوامی تجارت سے منسلک ہونے کے مواقع ملیں گے بلکہ سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی ممکن بنائی جا سکے گی۔ بادینی ٹرمینل کو فعال بنانے کی خاطر ماضی قریب میں جمعیت کے صوبائی امیر مولانا واسع بھی کافی متحرک رہے تاہم گورنمنٹ کی طرف سے بادینی ٹرمینل کو دانستہ نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، یہ بات بھی محل نظر ہے کہ دوسرے سرحدی شہروں کے برعکس، حکومت کی طرف سے بادینی ٹرمینل کو زیادہ اہمیت کیوں نہیں دی جاتی حالانکہ افغان گورنمنٹ بادینی ٹرمینل کو شروع کرنے کے لئے پوری طرح تیار تھی، بادینی ٹرمینل اگرچہ برٹش انڈیا کے زمانہ میں بھی فعال تجارتی کاریڈور رہا لیکن بدقسمتی سے بلوچستان کے مقامی لوگ اکیسویں صدی میں بھی تجارت کے ان فطری مواقع سے محروم ہو کر فرسودہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں تاہم جب بھی افغانستان سے تجارت کو ریگولیٹ کیا گیا تو بادینی تجارتی ٹرمینل سے وابستہ لوگ سب سے پہلے مستفید ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارڈر ایریا میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے نہ صرف یہاں بڑے پیمانہ پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ مقامی آبادی کے لئے صحت و تعلیم کی سہولیات، لائیو سٹاک اور زراعت جیسے شعبوں میں ترقی کی بدولت لوگوں کے معیار زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔ ملک گیر جماعتوں کی طرف سے بلوچستان کے عوام کو ترقی کے مرکزی دھارے سے منسلک کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں یہاں علیحدگی پسندی کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کے علاوہ تشدد کی کارروائیوں میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان بلوچ علیحدگی پسندوں اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے نچلی سطح کی شورش کو پروان چڑھانے کی مساعی بتدریج کمزور ہوئی ہے، جو گزشتہ دو سالوں سے غیر مستحکم جنوب مغربی علاقوں میں سیاسی و مذہبی اجتماعات اور انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بناتے رہے۔ جولائی 2018 میں، گزشتہ عام انتخابات کے دوران، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دور، ضلع مستونگ میں انتخابی ریلی کو داعش کے خودکش بمبار نے ہدف بنایا جس میں کم و بیش 128 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے، پولنگ کے روز کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس کے قریب دوسرے حملے میں مزید 31 ووٹرز جانیں گنوا بیٹھے۔
الیکشن کمیشن جنوبی بلوچستان کے اضلاع مستونگ، خضدار، تربت، آواران، گوادر، خاران اور پنجگور کے 5,067 پولنگ اسٹیشنز پر عملہ اور ووٹرز کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے رہا ہے تاہم اب بھی 2,038 پولنگ اسٹیشنز میں اکثر کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔ بلوچستان کے صوبائی الیکشن کمشنر نے بتایا کہ بلوچستان میں دیگر صوبوں کے مقابلے وسیع و عریض علاقوں کی امتیازی خصوصیات ہیں، بلاشبہ یہاں پرامن ماحول میں انتخابات کا انعقاد چیلنج ہو گا تاہم ہمارے پاس پولنگ کے دن امن عامہ کو برقرار رکھنے کا جامع سیکیورٹی پلان موجود ہے، ہم پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری، فرنٹیئر کور اور پاک فوج کی بھاری نفری کی تعیناتی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔
بلوچستان کی نگراں حکومت نے بھی پرامن انتخابات کے انعقاد میں الیکشن حکام کی مدد کا اعادہ کیا، نگراں وزیر داخلہ زبیر جمالی نے میڈیا کو بتایا کی اگرچہ عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں لیکن ہم امن و امان سے متعلق کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں منعقد ہونے والے ہیں جب ملک کے ان صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا، جن کی سرحدات افغانستان سے ملتی ہیں۔
ان حملوں میں خاص طور پر اس وقت اضافہ دیکھنے کو ملا جب ٹی ٹی پی نے نومبر 2022 میں اسلام آباد کے ساتھ اپنی مہینوں پہ محیط جنگ بندی کو منسوخ کر دیا۔ ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت شورش زدہ سرحدی علاقوں میں مقیم اکثر سیاسی رہنما انتخابات سے قبل سیکیورٹی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ہرچند کہ وزیر داخلہ جمالی نے ان کی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے ہر قسم کے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں، تاہم، سیکیورٹی تجزیہ کار بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 2024 کے انتخابات کے پرامن انعقاد بارے فکر مند ہیں۔


