فلسفہ کی حقیقت؟
فلسفہ (Philosophy) لاطینی زبان کے دو الفاظPhillia اور Sophia کا مر کب ہے۔ Phillia کے معنی ہیں محبت (Love) اور Sophia کے معنی، عقل (Wisdom) کے ہیں۔ پس فلسفہ کے لفظی معنی ہوئے ”عقل سے محبت۔“ (Love to Wisdom ”
بلا شبہ محبت کرنے سے مراد کسی سے پیار کرنا، چاہنا اور عشق کرنا کے ہوتے ہیں۔ اور عقل پسندی سے مراد غور و فکر کرنا، در پیش مسائل کا دانائی سے شعور و ادراک حاصل کرنا کے ہیں۔ اسے حکمت سمجھا جاتا ہے اور اسی انسانی صلاحیت سے ٹیکنالوجی جنم لیتی ہے۔
عجیب بات ہے کہ پیار، محبت اور عشق کی کیفیت میں حکیمانہ انداز یعنی فکر و تدبر کو ہمیشہ رد کیا جاتا ہے اور ایسا کر نا قابل ستائش عمل سمجھا جاتا ہے۔ گویا وہ عاشق نہ ہوا، جس نے عقل و شعور اور حکمت سے کام لیا۔ اگر عقل و حکمت سے کام لیا جاتا تو آج ہیر رانجھا اور لیلیٰ مجنوں کی داستانیں نہ ہوتیں۔
علامہ اقبال کیا خوب فرماتے ہیں۔
؎ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
اور عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی
میرے نزدیک کائنات میں فلسفہ واحد علم ہے جو محبت اور عقیدت میں بھی جوش و جذبے سے کام نہیں لیتا۔ وہ ہمیشہ ہوش و خرد میں رہنے کا درس دیتا ہے۔ فلسفہ کسی صورت میں بھی عقل و شعور اور حکمت کا دامن نہیں چھوڑتا، جیسا کہ یہ اس کے جین (Jene) میں شامل ہوں۔ جبکہ غیر فلسفی علوم اپنے پیروکاروں کو اندھی عقیدت اور تقلید کا درس دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ آنکھیں اور ذہن کے دریچے بند رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔
واضع ہو کہ فلسفہ، کائنات میں پڑی ہوئی کسی مادی یا روحانی شے کا نام نہیں ہے، در اصل یہ کسی انسان کی فطری ذہنی صلاحیت کا نام ہے۔ جس سے وہ عقل و شعور اور اک لگن و تڑپ کے ساتھ کائنات اور سماج کے حقائق اور سچائیوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ اور نہ ہی فلسفہ، آسمان پر بیٹھا ہوا کوئی دیوتا ہے، جو انسانوں پر حکم چلاتا ہے۔ بلکہ یہ زمین پر موجود کسی انسان کی فطری سوچ ہے اور وہ اسے کام میں لاتے ہوئے فکر و تدبر سے کچھ کہہ رہا ہے۔ جسے قبول یا رد کرنے کی وہ مکمل آزادی دیتا ہے۔ یہ ایسی ہی اک فطری صلاحیت (Talent) ہے، جیسے انسانوں اور حیوانوں میں دیگر صلاحیتیں پائی جاتی ہیں، مثلاً میکانیت، قلم کاری، فنکاری، گلوکاری اور شاعری وغیرہ وغیرہ۔
فلسفہ کی تعریف جاننے سے پہلے ہمیں فلسفیانہ فکر کا کچھ تاریخ اور جغرافیہ جاننا ہو گا۔ بلا شبہ قدیم یورپی تہذیبوں میں حکیمانہ سرگرمیوں کے بڑے مضبوط آثار ملتے ہیں۔ لیکن وہ افکار منظم نہ ہو سکے، اس لئے معدوم ہو گئے۔ برصغیر میں بدھ ازم اور جین مت میں بھی اس فکر کی روح موجود تھی۔ البتہ اس فکر کا باقاعدہ آغاز یونان سے ہوا تھا۔ اسے فلسفہ کا نام دیا اور اس کے حامل شخص کو فلسفی کہا گیا۔ پھر یہ القاب امر ہو گئے اور یہ فکر منظم ہو گئی۔ محض ایک لفظ فلسفی سے عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ شخص فکر و تد بر، حکمت اور منطق سے کچھ کہہ رہا ہے۔ بعد ازیں اس فکر کے زیر سایہ جدید نظریے اور افکار مرتب ہونے لگے۔ پس معلوم ہوا کہ فلسفہ عقل و شعور اور حکمت کا اک سیل رواں ہے، جو مسلسل بہتا چلا جا رہا ہے۔
مذکورہ بالا حقائق سے فلسفہ کی حیثیت اور مقاصد بخوبی واضح ہو جاتے ہیں۔ غیر فلسفی تصورات، معاشرتی سر گرمیوں اور سماجی اقدار کو فلسفہ کہنے والے حضرات رحم فرمائیں اور فلسفہ کو اپنی بنیادوں سے ہی پیوست رہنے دیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں فلسفہ کی ایک ایسی موزوں اور جامع تعریف مرتب کی جا سکتی ہے، جس میں جملہ روایتی تعریفات سما سکتی ہیں۔ فلسفہ کی تعریف بھی دیگر علوم کی طرح ہی بیان ہونی چاہیے۔ یاد رہے کہ کسی علم کی تعریف سے اس کی ذات و صفات کا شعور بخوبی حاصل ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر طبیعیات اور نفسیات کی تعریفیں ملاحظہ ہوں۔
0 طبیعیات وہ علم ہے جس میں مادہ اور توانائی کی عمل پذیری اور فطری مظاہر کے اسباب و اثرات اور قوانین کا مطالعہ کیا جا تا ہے۔
0 نفسیات، وہ علم ہے جس میں انسان کی ذہنی کیفیات، شعور، لا شعور اور رویوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
0 پس۔ فلسفہ وہ علم ہے جس میں انسانی سماج اور طبیعیاتی کائنات کے حقائق اور سچائیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔


