سال 2023 میں چین کی سفارتکاری
سال 2023 میں چین کی سفارت کاری سال 2023 کے اختتام پر کئی سروے اور کئی تجزیاتی مطالعے ہوئے ہیں جن میں دنیا کی معیشت اور اس کے مستقبل سمیت دنیا میں آٹھ ارب سے زائد انسانوں کو درپیش مشکلات کا ذکر بھی کیا گیا اور مستقبل کے حوالے سے کئی امیدیں اور کئی حقیقتیں بھی بیان ہوئی ہیں لیکن کوئی بھی سنجیدہ سوچ رکھنے والا اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا کا اصل مسئلہ اور اس کرہ ارض پر رہنے والے آٹھ ارب انسانوں کا سب سے بنیادی مسئلہ امن و امان ہے اور اس امن و امان کے قیام کے لئے عالمی تنظیموں اور اداروں سے بڑھ کر اگر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ بڑے اور ذمہ دار ممالک کے ذمہ دار سربراہان ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب بڑے اجلاسوں سے زیادہ بڑے ممالک کے سربراہان کی ملاقاتیں دنیا کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ چین کی جانب سے سال 2023 میں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا جائے تو ان کوششوں میں چین کے سربراہ کی براہ راست ملاقاتیں، کئی عالمی تنظیموں کے اجلاسوں میں ان کی شرکت کے ساتھ جو سب سے بنیادی پہلو ہے وہ چین کی عالمی سطح پر ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری کی کوششیں اور ان میں حاصل کی گئی کامیابیاں ہیں۔
مارچ 2023 میں صدر شی جن پھنگ جب تیسری بار عوامی جمہوریہ چین کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنا پہلا سرکاری دورہ روس کا کیا۔ چین اور روس کے تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور ان تعلقات میں ایک خطے کے مسائل، عالمی مسائل اور تنازعات میں ایک جیسا موقف اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات بنیادی سبب ہیں۔ اس دورے میں صدر شی جن پھنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون میں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
2023 کے پہلے 11 ماہ میں چین اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت نے دونوں سربراہان مملکت کی جانب سے مشترکہ طور پر طے کردہ 200 ارب امریکی ڈالر کے سالانہ تجارتی حجم کے ہدف کو حاصل کیا جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی فائدہ مند تعاون اور وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔ مارچ 2023 میں صدر شی جن پھنگ نے عالمی سیاسی جماعتوں کے ساتھ سی پی سی ڈائیلاگ میں گلوبل سولائزیشن اینیشی ایٹو پیش کیا۔ مارچ کے آخر سے اپریل کے وسط تک صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے سات غیر ملکی رہنماؤں کی میزبانی کی۔
شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے زیادہ تر غیر ملکی شخصیات کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے تھا جو چین کے سفارتی اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ تمام بڑے یا چھوٹے ممالک برابر ہیں۔ مارچ 2023 میں ہی ایک نتیجہ خیز پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کئی ماہ پر محیط مذاکرات کے بعد 6 مارچ کو ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سعودی قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان بیجنگ میں حتمی مذاکرات شروع ہوئے۔ 4 روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات کے بعد 10 مارچ کو دونوں ممالک نے اگلے 2 ماہ میں اپنے مکمل سفارتی عملے کے ساتھ سفارتخانے کھولنے کے معاہدے کا اعلان کیا۔
اس اعلان سے دنیا کو ایک خوشگوار حیرت ہوئی اور یہ تسلیم کیا گیا کہ ثالثی والے ممالک اگر اپنے مفادات سے ہٹ کر واقعی دنیا میں امن کی خاطر کام کرنا چاہیں تو کامیابی مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑی کامیابی شام کا عرب لیگ میں واپس آنا بھی ہے جس کا سہرا کسی حد تک چین کے سر ہے۔ 13 اپریل کو چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ چھن کانگ نے سمرقند میں چین، روس، پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان افغان مسئلے پر دوسری غیر سرکاری کانفرنس کی میزبانی کی۔
اجلاس میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور پاکستانی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے شرکت کی۔ اجلاس میں خاص طور پر افغانستان میں قیام امن کی کوششوں اور مالی مسائل سے چھٹکارے کے حوالے سے امور کو زیر بحث لایا گیا۔ 19 مئی کو شی جن پنگ نے شمال مغربی چین کے صوبہ شانسی کے شہر ژیان میں پہلے چین وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کی صدارت کی، جو چین وسطی ایشیا کے تعلقات میں ایک نیا سنگ میل ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک کو چین کی ترقی کی ’ایکسپریس ٹرین‘ میں سوار ہونے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں۔ سمٹ میں شریک رہنماؤں نے چائنا سینٹرل ایشیا میٹنگ میکانزم کے قیام کا اعلان کیا۔ جون میں شی جن پنگ نے آئیرس ژیومارا کاسترو سرمینٹو کی میزبانی کی تھی، جو مارچ میں چین اور ہونڈوراس کے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد چین کا سرکاری دورہ کرنے والے ہونڈوراس کے پہلے صدر ہیں، جس سے ہنڈوراس چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والا 182 واں ملک بنا۔
جولائی میں 113 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے کل 6500 ایتھلیٹس ایف آئی ایس یو ورلڈ یونیورسٹی گیمز کے 31 ویں موسم گرما کے ایڈیشن میں حصہ لینے کے لیے جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے دارالحکومت چھنگ دو میں جمع ہوئے۔ کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے قبل شی جن پھنگ نے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں یکجہتی، تعاون اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ کمیونٹی کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اگست میں چین کے صدر نے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والے برکس اجلاس میں شرکت کی اور جنوبی افریقہ کا سرکاری دورہ بھی کیا۔ اس اجلاس میں 6 ممالک کو برکس میں شامل کیا گیا جن میں ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ برکس اجلاس کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ کے سرکاری دورے کے دوران شی جن پنگ نے جنوبی افریقی صدر کے ساتھ چین افریقہ رہنماؤں کے ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔
چین کی میزبانی میں ہونے والے 19 ویں ایشین گیمز ستمبر اور اکتوبر میں مشرقی چین کے صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں منعقد ہوئے۔ اس موقع پر کئی غیر ملکی شخصیات سے صدر شی کی ملاقاتیں ہوئیں۔ تیسرا بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون (بی آر ایف) 17 اور 18 اکتوبر کو منعقد ہوا، جو 2023 میں چین کی میزبانی میں سب سے اہم سفارتی تقریب اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کی 10 ویں سالگرہ کا سب سے اہم جشن تھا، جس میں 150 سے زائد ممالک اور 30 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
بیلٹ اینڈ روڈ، جو تمام شراکت داروں کی طرف سے مشترکہ طور پر تعمیر کردہ ایک اعلی معیار کی عوامی سہولت ہے اس نے تقریباً 1 ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں 3000 سے زیادہ تعاون کے منصوبے قائم ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں منسلک ممالک میں تقریباً 420000 ملازمتیں پیدا ہوئی اور گزشتہ دہائی میں تقریباً 40 ملین افراد کو غربت سے نکالنے میں مدد ملی۔ 15 نومبر کو چین۔ امریکہ سربراہی اجلاس امریکہ کے شہر سان فرانسسکو کے جنوب میں واقع ایک کنٹری ہاؤس فلولی اسٹیٹ میں منعقد ہوا۔
چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران چینی صدر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بہتری میں دنیا کی بہتری ہے اور وہ صدر بائیڈن کے ساتھ دونوں ممالک کے عوام، دنیا اور تاریخ کی ایک بھاری ذمہ داری لئے ہوئے ہیں۔ دسمبر میں یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل اور یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیئن نے چین کا دورہ کیا۔ یورپی کمیشن کی سربراہ کا اس سال چین کا یہ دوسرا دورہ ہے۔
اس دورے میں ان کی ملاقات چین کے صدر شی جن پھنگ، وزیر اعظم لی چھیانگ اور دیگر اعلی عہدیداروں سے ہوئی اور 7 دسمبر کو ان دونوں شخصیات نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین کا چین کے ساتھ ڈی کپلنگ کا کوئی آراد نہیں۔ ارسلا وان ڈیر لیئن نے تو یہ بھی کہا کہ ایک سال میں ان کا چین کا دوسرا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چین یورپ تعلقات مستحکم ہو رہے ہیں اور ان کا مستقبل خوش روشن ہے۔ شی جن پنگ نے 12 سے 13 دسمبر تک ویتنام کا سرکاری دورہ کیا جہاں دونوں فریقین نے ایک مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین ویتنام کمیونٹی کی تعمیر پر اتفاق کیا۔
نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں شی جن پھنگ نے کہا، ”اپنی ترقی کو آگے بڑھاتے ہوئے، چین نے دنیا کو بھی گلے لگایا ہے اور ایک بڑے ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ انہوں نے کہا،“ ہم انسانیت کی مشترکہ بھلائی کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے، انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر کریں گے، اور دنیا کو سب کے لئے ایک بہتر جگہ بنائیں گے۔ اس مختصر سے جائزے سے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ چین کی سفارتکاری کا یہ سال ایک منظم، بھرپور اور نتیجہ خیز سال رہا جہاں ایک برے ذمہ دار ملک کے طور پر چین نے کئی محاذوں پر بہترین کامیابیاں سمیٹیں۔


