کھلی آنکھوں کا خواب (سترہ واں حصہ)
امام ابو حنیفہ:
ہماری اگلی منزل ہے در امام اعظم، امام ابوحنیفہ جن کی علمیت کو ان کے مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ہم امام ابو حنیفہ کے مزار اقدس پر پہنچے۔ بڑا سا صحن ایک طرف بلند و بالا مینار اس پر بڑا سا گھڑیال لگا ہوا اور جگمگاتی روشنیاں بہت بھلی لگ رہی تھیں۔ ٹائلیں لگی ہوئی صاف ستھرے برآمدے سے گزر کر ہم اس ہال میں پہنچے جو خواتین کے لئے مختص تھا۔ نماز مغرب ہو چکی تھی۔ جماعت سے تو رہ گئے مگر یہاں نماز مغرب ادا کی۔ نوافل پڑھے اور دعائیں کیں۔ ہال سے باہر آئے تو نسیم اور احمد منتظر تھے۔ ہم مزار اقدس پر گئے۔ چاروں طرف چوبی جالیاں تھیں جنہیں چھو کر پکڑ کر دعائیں پڑھیں اور دعائیں مانگیں۔
امام اعظم جو علم الادب، علم الانساب اور علم الکلام کی تحصیل کے بعد علم فقہ کے لیے امام حماد کے حلقہ درس سے فیض یاب ہوئے۔ آپ علم فقہ کے عالم ہیں۔ آپ کے شیوخ و اساتذہ کی تعداد چار ہزار بتائی جاتی ہے جن سے وہ وقتاً فوقتاً اکتساب علم کرتے رہے۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کی شاگردی کا فخر بھی انہیں حاصل ہے۔ آئمہ احناف کے تقریباً تمام فقہا، محدثین، مورخین کا امام ابوحنیفہؒ کا صحابہ رضی اللہ عنہم کے دیکھنے اور ان سے روایت کرنے پر اتفاق ہے۔
ہم چاروں طرف گھوم کر دعا کر رہے تھے کہ مزار کے متولی نے دیوار پر فریم شدہ تصویر کی طرف توجہ دلائی۔ فریم ہم پہلے دیکھ چکے تھے لیکن جب متولی نے بتایا کہ یہ ڈھائی سو سال پرانا غلاف کعبہ کا پیس ہے تو دوبارہ اس کو شوق، عقیدت اور محبت سے دیکھا۔ ڈھائی سو سال پرانا غلاف کعبہ، جس کا رنگ اور ہیئت آج کل سے بالکل مختلف نظر آ رہی تھی۔ ڈھائی سو سال پہلے جانے کیسی کیسی برگزیدہ ہستیوں نے اس غلاف کو چھوا ہو گا۔ میں نے اسے نظروں میں سمو کر دل میں اتارا اور دل پھر شکر سے لبریز ہوا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے مزار پر ان کے خاص عبادت کے کمرے کا دروازہ دو سو سال پرانا اور ترکی کا تحفہ ہے۔ اسے ہاتھ لگا کر بھی ایسی ہی سوچ تھی۔ کیسی یادگار، نادر و نایاب اشیاء کا دیکھنا اللہ کا ایک طرح کا خاص احسان اور عطائے ربی ہے۔ فبای آلاء ربکما تکزبان
شکر کے ایسے ہی احساس میں شرابور، تشکر آمیز جذبوں سے سرشار مزار سے باہر آئے تو بے اختیار احمد کو دعا دیتے ہوئے ممنونیت اور مسرت کا اظہار کیا کہ انہوں نے کربلائے معلیٰ، نجف اشرف اور اب بغداد کی تمام زیارات اتنے اچھے، آرام دہ اور خصوصی انداز میں کروائیں۔ میں اپنے بچوں کے لئے تو ہر دم دعاگو رہتی ہوں۔ آج اللہ کے کرم سے تمام زیارات مکمل ہوئیں تو خوشی کا ایک بے ساختہ اظہار تھا۔ اس مسرت بھرے لمحے کو اور اس مسکراہٹ کو جو ہم دونوں کے چہروں پر بکھری ہوئی ہے، عائشہ نے فوراً ایک کلک کے ساتھ محفوظ کی۔
اس وقت میرا دل شکر سے لبریز ہوا جا رہا تھا۔ شکریہ بچوں کا اور شکر خدائے رحیم و کریم کا جس کے فضل و کرم سے یہاں آنا ہوا اور جس نے باب علم، سید الشہداء، مسجد کوفہ، پھر جنید بغدادی، سری ثقفی، بہلول دانا، کاظمین، شیخ عبدالقادر جیلانی، امام ابوحنیفہ علم کے آفتاب و ماہتاب علم و عمل کے بحر بے کنار، ان کے مرقد نور پر حاضری کی توفیق اور سعادت نصیب کی۔ اے خالق کائنات! علم و عمل کے بحر کنار، بے کراں سمندر پر کھڑی ہوں۔
علم کی چند بوندیں مجھے بھی عطا کر ۔ علم نافع اور عمل کی توفیق دے۔ لکھنا تیری عطائے خاص ہے تو میرے قلم کو نعت کے لیے رواں کر دے اور میرے لکھے کو صدقہ جاریہ بنا دے۔ اے رب رحیم و کریم! تیری بیش بہا نعمتوں کا شکر اور شمار ممکن نہیں۔ میں ساری عمر سجدے میں سر رکھوں تو تب بھی شکر ادا نہ ہو سکے۔ اے دلوں کے حال جاننے والے علیم و خبیر رب اس جذبۂ تشکر کو قبول فرما۔ میں نے گاڑی میں جھک کر سجدۂ شکر ادا کیا جس کی لذت کو لفظ بیان کرنے سے عاجز ہیں۔
امام اعظم نے علم حدیث کے حصول کے لیے تین مقامات کا بطور خاص سفر کیا۔ آپ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ میں حاصل کیا کیونکہ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ علم حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔ گویا آپ علم حدیث کے گھر میں پیدا ہوئے، وہیں پڑھا، کوفہ کے سب سے بڑے علم کے وارث امام اعظم خود بنے۔ دوسرا مقام حرمین شریفین کا تھا جہاں سے آپ نے احادیث اخذ کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا۔ امام ابو حنیفہ نے تقریباً چار ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا۔
خطیب بغدادی ابو نعیم سے نقل کرتے ہیں کہ ابو حنیفہؒ خوش رو، خوش لباس، خوشبو پسند کرنے والے خوش مجلس، نہایت کریم النفس اور اپنے رفقاء کے بڑے ہمدرد تھے، ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا قد میانہ تھا، نہ بہت کوتاہ، نہ زیادہ دراز، گفتگو نہایت شیریں، آواز بڑی دلکش اور بڑے قادر الکلام تھے۔
آپ ریشم کی تجارت کرتے تھے، قیس بن الزبیع بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب مشائخ اور محدثین سے ایک رقم لے کر ان کے لیے بغداد سے سامان خریدتے اور کوفہ لاکر اسے فروخت کر دیتے اور سال بہ سال اس کا نفع اپنے پاس جمع رکھتے اور اس نفع سے محدثین کے خورونوش اور لباس وغیرہ کی ضروریات مہیا کرتے۔ اس سے جو بچ رہتا وہ ان کے حوالے کر دیتے اور کہتے کہ اسے اپنی دیگر ضروریات میں صرف کرلو اور خدا کا شکر ادا کرو، میرے شکر کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے یہ مال اپنے پاس سے تو تم کو دیا نہیں تمہارے ہی مال کا نفع ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر کرم ہے کہ اس نے اس کا ذریعہ مجھے بنایا۔
ابن مبارک نے سفیان ثوریؒ سے کہا، ابو حنیفہؒ غیبت کرنے سے بہت دور رہتے ہیں حتیٰ کہ اپنے دشمن کی بھی غیبت نہیں کرتے۔ سفیانؒ بولے، ابو حنیفہؒ اس سے بالا تر ہیں کہ اپنی نیکیوں پر اپنے دشمن کو مسلط کریں (کہ وہ قیامت کے دن اپنی غیبت کے بدلہ میں ان کی نیکیاں لے لے۔ )
آپ نے اپنی عمر مبارک میں سات ہزار مرتبہ قرآن ختم کیا۔ 45 سال تک ایک وضو سے پانچ نمازیں پڑھیں۔ رات کے دو نفلوں میں پورا قرآن پڑھتے۔ دن کو درس و تدریس اور رات عبادت الٰہی میں مشغول رہتے۔ آئمہ حدیث آپ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ علم کے سمندر ہیں اور دوسری طرف زہد و تقویٰ کے پہاڑ ہیں۔
(جاری ہے )


